Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر عوام کو مونگیری لعل کے حسین سپنے دکھانے کا الزام

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر عوام کو مونگیری لعل کے حسین سپنے دکھانے کا الزام

سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے حلقوں میں الیکشن کروانے کا چیلنج ، محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے مسلمانوں کو مونگیری لعل کے حسین سپنے دکھانے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کرتے ہوئے ان کی جانب سے کرائے گئے سروے کو بوگس قرار دیا ۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے عوامی منتخب نمائندوں کے 3 لوک سبھا اور 25 اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے کا چیلنج کیا ۔ اج اسمبلی کے میڈیا کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے دسہرہ کے موقع پر اپنے فارم ہاوز پر ٹی آر ایس کے مسلم قائدین سے ملاقات کی اور ان سے کہا ہے کہ تلنگانہ میں مسلم اقلیت کا روشن مستقبل ہے ۔ کانگریس نے اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کیا بلکہ انہیں صرف ووٹ بنک کی طرح استعمال کیا ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ کے سی آر نے انتخابی مہم میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات 4 ماہ میں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ ڈھائی سال گذرنے کے باوجود مسلمانوں کو تحفظات نہیں ملے ۔ سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کرنے میں قیمتی ڈھائی سال گذار دئیے ۔ چیف منسٹر نے ڈھائی سال بعد بی سی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی بی سی کمیشن پر بھی کئی خدشات ہیں ۔ کانگریس کی جانب سے دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات سے 10 لاکھ مسلمانوں کو فائدہ ہوا ہے اور ہر گھر میں تعلیم کا چراغ روشن ہوا ہے بنکوں کے تعاون کے بغیر راست 90 فیصد سبسیڈی کے ساتھ اقلیتوں کو قرضہ جات جاری کرنے کا بھی چیف منسٹر کے سی آر نے وعدہ کیا ہے ۔ جب کہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے وصول کردہ 1.67 لاکھ قرضہ جات کی درخواستیں زیر التواء ہیں ۔ ان درخواست گذاروں کو قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے 3000 کروڑ روپئے درکار ہیں ۔ درخواست گذار لمبے عرصے سے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور مایوس لوٹ رہے ہیں ۔ شادی مبارک سے متعلق 7000 ہزار درخواستیں زیر التواء ہیں جس کی بھی یکسوئی نہیں ہوئی ۔ اقلیتی منظورہ بجٹ میں 30 فیصد بجٹ کی ہی اجرائی ہوئی ہے جب کہ 6 ماہ گذر چکے ہیں ۔ ان مسائل کو فوری حل کرنے کے بجائے کارپوریشن کے نامزد عہدوں میں ڈائرکٹرس کے عہدے فراہم کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے مسلم قائدین کو چاکلیٹ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے تازہ سروے کرانے اور اب انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو اپوزیشن کو 8 نشستیں حاصل ہونے کا دعویٰ کرنے پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے اس کو بوگس سروے قرار دیا اور کہا کہ اگر چیف منسٹر کو اپنی سیاسی طاقت اور دستور پر بھروسہ ہے تو وہ فوری 3 لوک سبھا اور 25 اسمبلی حلقوں پر ضمنی انتخابات کرائے ۔ جن کی نمائندگی کرنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں ۔ ضمنی انتخابات کے نتائج یہ ثابت کردیں گے کہ چیف منسٹر کا سروے مضحکہ خیز ہے ۔اگر چیف منسٹر ان حلقوں پر سروے کرانے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ضمنی انتخابات کرانا پڑے گا کیوں کہ 19 اکٹوبر کو اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں سنوائی ہونے والی ہے ۔ قائد اپوزیشن نے چیف منسٹر کی جانب سے ریاست کا مالی موقف مستحکم ہونے کے دعوے کو بھی جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مالی موقف مستحکم ہے تو کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے لیے تیسری قسط میں 25 فیصد ادائیگی کے بجائے 12.5 فیصد ادائیگی کیوں کی گئی ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے 3 ہزار کروڑ روپئے کے بقایا جات اور آروگیہ شری کے بقایہ جات کیوں جاری نہیں کئے گئے ۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقات کے منظورہ بجٹ میں صرف 30 فیصد کیوں جاری کیا گیا ۔ مشین بھاگیرتا کے لیے 20 دن میں 20 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کیے گئے تو دوسرے کاموں کے لیے فنڈز کیوں جاری نہیں کئے جارہے ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے ترقیاتی کاموں کے لیے کتنا قرض حاصل کیا گیا اور فلاحی کاموں کے لیے کتنا فنڈز جاری کیا گیا اس پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT