Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کئی وعدوں سے منحرف

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کئی وعدوں سے منحرف

ٹی آر ایس کو ورنگل میں شکست دینے کا مشورہ، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا کا بیان
حیدرآباد /18 نومبر (سیاست نیوز) سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کئی وعدوں سے انحراف کیا ہے، لہذا سنگسار کرنے کی بجائے انھیں ووٹوں کے ذریعہ شکست دی جائے۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کے سی آر نے کل ورنگل میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وعدوں سے انحراف پر سنگسار کا مشورہ دیا تھا۔ چیف منسٹر کے سنگسار کا وقت آگیا ہے، کیونکہ انھوں نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا، مگر خود چیف منسٹر بن بیٹھے۔ مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے اور دلت طبقہ کو تین ایکڑ اراضی دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان وعدوں پر اب تک عمل آوری نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ورنگل کے ضمنی انتخاب کے پیش نظر صرف حیدرآباد کے 300 غریب عوام میں ڈبل بیڈ روم کے فلیٹس تقسیم کئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ نے چیف منسٹر بننے کے لئے حلقہ لوک سبھا میدک کا ضمنی انتخاب کروایا اور اب اپنے حامی کو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کے لئے ورنگل لوک سبھا کا ضمنی انتخاب کروایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر جمہوری اصولوں کے مطابق خدمات انجام دینے کی بجائے ہٹلر جیسا کام کر رہے ہیں اور ریاست سے بدعنوانیوں کے خاتمہ کا اعلان کرنے والے کے سی آر خود بدعنوانیوں میں ملوث ہوکر سی بی آئی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ واٹر گرڈ پراجکٹ میں چیف منسٹر اور ان کے فرزند کے ٹی آر دو ہزار کروڑ روپئے کے اسکام میں ملوث ہیں، جس کو ثابت کرنے کے لئے وہ (دامودھر راج نرسمہا) تیار ہیں، لیکن ثابت ہونے کے بعد کے ٹی آر کو وزارت سے مستعفی ہونا پڑے گا اور ثابت نہ کرنے کی صورت میں وہ سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کسی بھی وقت کھلے مباحثہ کے لئے تیار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT