Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو رویہ تبدیل کرنے کا مشورہ : کے جانا ریڈی

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو رویہ تبدیل کرنے کا مشورہ : کے جانا ریڈی

صدر پی سی سی تلنگانہ اتم کمار کے خلاف دھمکی کی مذمت ، قائد اپوزیشن کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : قائد اپوزیشن مسٹر کے جانا ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ان کی جانب سے اپوزیشن بالخصوص کیپٹن اتم کمار ریڈی کو دی گئی دھمکی پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کے جانا ریڈی نے کہا کہ کے سی آر تلنگانہ تحریک کے دوران جس طرح زبان استعمال کرتے تھے چیف منسٹر بننے کے بعد بھی وہی لب و لہجہ کا استعمال کررہے ہیں ۔ اقتدار مستقل نہیں ہے اور نہ ہی اپوزیشن بالخصوص کانگریس ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بننے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے ۔ کانگریس پارٹی عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کررہی ہے ۔ انہوں نے مہاراشٹرا سے کئے گئے آبی معاہدہ کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں مہاراشٹرا سے 152 بلند میٹر بیارج تعمیر کرنے کا اصولی طور پر اتفاق کیا گیا تھا ۔ اس اتفاق کے 6 ماہ بعد ہی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا فیصلہ ہوگیا جس کی وجہ سے تعمیری کام آگے نہیں بڑھ سکے ۔ مہاراشٹرا سے واپسی کے بعد بیگم پیٹ ایرپورٹ پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے جو تقریر کی ہے وہ بحیثیت چیف منسٹر انہیں زیب نہیں دیتی ۔ اپوزیشن کی تنقیدیں جمہوریت کا حصہ ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان کے شکوک دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ تاہم شخصیتوں کو تنقیدوں کا شکار بناتے ہوئے ان کے الزامات کو چیف منسٹر نے یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ پراجکٹس سے متعلق ڈی پی آر دینے کا وزیر آبپاشی کو مکتوب روانہ کرنے پر ہریش راؤ کی جانب سے کوئی جواب وصول نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تمڈی پٹی پر بیارج کی تعمیر کے بعد پانی لفٹ کرنے کے ہی 7 ہزار کروڑ روپئے برقی اخراجات ہوں گے ۔ اپوزیشن کو اعتماد میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT