Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو محمد علی شبیر کا سال نو کا گریٹنگ کارڈ

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو محمد علی شبیر کا سال نو کا گریٹنگ کارڈ

جھوٹے وعدوں اور عوام کو دھوکہ نہ دینے پر زور، وعدوں سے انحراف کے سال کا ادعا
حیدرآباد /31 دسمبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو نئے سال کا گریٹنگ کارڈ روانہ کرتے ہوئے 2016ء میں عوام سے جھوٹے وعدے نہ کرنے اور دھوکہ نہ دینے کا مشورہ دیا۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 2015ء ٹی آر ایس حکومت کے لئے وعدوں سے انحراف، دھوکہ دینے اور دیگر جماعتوں کے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کا سال تھا۔ انھوں نے کہا کہ آلیر انکاؤنٹر کی تحقیقاتی رپورٹ آج تک منظر عام نہیں آئی، ورنگل میں دو نکسلائٹس کا انکاؤنٹر کردیا گیا، ایک سال کے دوران کانگریس اور دیگر جماعتوں کے 13 ارکان اسمبلی، 13 ارکان قانون ساز کونسل اور سیکڑوں مقامی ادارہ جات کے منتخب عوامی نمائندوں کو ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا۔ اسی طرح میٹرو ریل پراجکٹ کے ڈیزائن پر اعتراض کرکے 19 ماہ تک کام روکا اور بعد ازاں اسی ڈیزائن کو تسلیم کرلیا گیا، جس کی تاخیر سے عوام پر 600 کروڑ روپئے کا مالی بوجھ عائد ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ہر تین چار گھنٹے میں ایک کسان خودکشی کر رہا ہے اور ووٹ برائے نوٹ ٹیلیفون ٹیاپنگ مسئلہ پر دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس (کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو) نے ایک دوسرے کو جیل بھیجنے کی دھمکی دی، مگر اب دونوں ایک دوسرے کو پرتعیش دعوتوں کے علاوہ قیمتی تحائف دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا، لیکن 30 انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل کالجس بند کردیئے گئے، جب کہ 13 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرس کا تقرر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح سالانہ ایک لاکھ ملازمتوں کا وعدہ کیا گیا، مگر یہ وعدہ بھی صرف وعدہ کی حد رہ گیا۔ انھوں نے کہا کہ سات ہزار کروڑ کا فاضل بجٹ رکھنے والی تلنگانہ ریاست پر اب 70 ہزار کروڑ روپئے کا قرض ہے، حیدرآباد کی سڑکوں کی حالت خستہ ہے، برانڈ حیدرآباد کے امیج کو گھٹا دیا گیا، ریئل اسٹیٹ انفراسٹرکچر اور دیگر سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں، تاہم ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے عوامی مسائل پر ایک بھی کل جماعتی اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔ گریٹنگ کارڈ میں چیسٹ ہاسپٹل، عثمانیہ ہاسپٹل اور سکریٹریٹ کی منتقلی کے علاوہ حسین ساگر کی صفائی اور سستی شراب جیسے اہم مسائل پر بھی حکومت کو توجہ دلائی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT