Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کا انتقال

چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کا انتقال

SRINAGAR, JAN 7 (UNI):- People carrying the coffin of Jammu and Kashmir Chief Minister Mufti Mohammad Sayeed during his funeral procession in Srinagar on Thursday. (With Story) UNI PHOTO - 78U

پورے سرکاری اعزازات کے ساتھ آبائی ٹاؤن میں تدفین، محبوبہ مفتی جانشین منتخب
نئی دہلی ؍ سری نگر 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید جنھوں نے مسلم غالب آبادی والی ریاست کشمیر میں بی جے پی کے ساتھ ناممکن مخلوط حکومت قائم کی تھی، انتقال کرگئے۔ اُن کے انتقال کے چند ہی گھنٹوں بعد اُن کی پارٹی پی ڈی پی نے اُن کی دختر محبوبہ مفتی کو اُن کا جانشین منتخب کرلیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اُنھیں شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مفتی صاحب نے جموں و کشمیر میں اپنی قیادت کے ذریعہ لوگوں کے زخم مندمل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی تھی اور بلا لحاظ سیاسی وابستگی اپنے مداح پیدا کئے تھے۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کو وزیراعظم نے تدفین میں مرکز کی نمائندگی کے لئے روانہ کیا ہے۔ اُن کی نماز جنازہ شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں ادا کی گئی۔ جس میں سینکڑوں سوگواروں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ اُن کے سابق بااعتماد ساتھی نعیم اختر کی امامت میں ادا کی گئی اور تدفین پورے سرکاری اعزازات کے ساتھ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں عمل میں آئی۔ سابق ریاستی وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد نے بھی تدفین اور نماز جنازہ میں شرکت کی۔ دونوں اپوزیشن قائدین اور مفتی سعید کے فرزندمفتی تصدق نے جنازہ کو کاندھا دیا۔

مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ اور ریاستی گورنر این این ووہرہ نے اُن کی قیامگاہ پر پہونچ کر سوگوار ارکان خاندان کو پرسہ دیا۔ اُن کے انتقال کے چند ہی گھنٹوں بعد 28 رکنی پی ڈی پی مقننہ پارٹی نے متفقہ طور پر محبوبہ کو اپنا قائد منتخب کرلیا۔ ایک وفد نے راج بھون میں گورنر سے ملاقات کی اور محبوبہ مفتی کی تائید کا مکتوب اُن کے حوالے کیا۔ اقتدار کی بلا رکاوٹ منتقلی اُس وقت ممکن ہوگئی جبکہ مخلوط حکومت کی حلیف بی جے پی نے واضح اشارہ دیا کہ اُسے محبوبہ مفتی کے مفتی سعید کے جانشین بننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ تقریب حلف برداری کب منعقد کی جائے گی۔ مرکزی حکومت نے آج پورے ملک میں قومی پرچم نصف بلندی تک لہرانے کا حکم دیا۔ مرکزی کابینہ نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔ دریں اثناء کانگریس نے مفتی سعید کی ستائش کرتے ہوئے اُنھیں انسان دوست شخصیت قرار دیا۔ سونیا اور راہول گاندھی نے سوگوار ارکان خاندان کو پیامات تعزیت روانہ کئے۔

 

گورنر ، چیف جسٹس، جموں و کشمیر ہائیکورٹ اور گیلانی کا اظہار تعزیت
جموں ؍ سرینگر 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) گورنر جموں و کشمیر این این وہرہ اور چیف جسٹس جموں و کشمیر ہائیکورٹ این پال وسنت کمار نے چیف منسٹر مفتی محمد سعید کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ گورنر نے کہاکہ ان کے انتقال سے سیاسی حلقوں میں جو خلا پیدا ہوا اس کا پُر ہونا مشکل ہے۔ ریاستی چیف سکریٹری بی آر شرما اور دیگر تمام سکریٹریز نے بھی گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی اسمبلی اسپیکر کویندر گپتا نے مفتی سعید کو ایک عظیم شخصیت قرار دیا۔ جموں و کشمیر کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔ سخت گیر موقف کی حامل حریت کانفرنس کے لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے مفتی محمد سعید کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔

 

مفتی محمد سعید ۔ ایک پُرعزم اور بلند حوصلہ سیاستداں
جموں و کشمیر میں بی جے پی سے ناممکن اتحاد کو ممکن بنا کر ہی دم لیا
سرینگر۔/7جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کو معمولی وکیل سے ملک کے پہلے وزیر داخلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا جنہوں نے قومی اور ریاستی سیاست میں منفرد پہچان بنائی تھی۔ 6عشروں پر محیط اپنے سیاسی کیریئر میں مفتی سعید، عبداللہ خاندان ( شیخ عبداللہ، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ ) کیلئے مخالف اقتدار کا مرکز بن کر اُبھرے تھے ۔ اگرچیکہ سیاسی بساط پر شطرنج کی چال چلتے رہے لیکن متضاد نظریات کے باجود سیاسی جماعتوں کے ساتھ  دوستی بھی قائم کرتے تھے۔ مفتی سعید جوکہ 12جنوری کو 80سال مکمل کرنے والے تھے اپنے سیاسی سفر میں اسوقت بام عروج پر پہنچ گئے ۔1989ء میں ملک کے پہلے مسلم وزیر داخلہ بن گئے ۔ بعد ازاں ریاست کے چیف منسٹر کے عہدہ تک رسائی حاصل کرلی اور دوبارہ بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کرتے ہوئے 2015 میں مخلوط حکومت کی قیادت سنبھالی اور واحد مسلم اکثریتی ریاست کی حکومت میں بی جے پی کو بھی شامل کرلیا۔ مفتی سعید ایسے وقت وزارت داخلہ میں پہنچے جب ان کی آبائی ریاست میں عسکریت پسندی سراُبھاررہی تھی تاہم ان کا دور وزارت داخلہ اس لحاظ سے یادگار رہا کہ ان کی دختر روبیہ سعید کو جے کے ایل ایف نے اغوا کرلیا تھا اور عسکریت پسندوں کے مطالبہ کے مطابق ان کے پانچ ساتھیوں کی جیل سے رہائی کے بعد روبیہ سعید کو آزاد کردیا گیا ۔ جس پر مفتی سعید کے حریفوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان ایک نرم مملکت کے طور پر پیش کیا گیا ۔ مفتی محمد سعید ضلع اننت ناگ میں بیچ بہارا کے بابا محلہ میں12جنوری 1936ء کو پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم مقامی اسکول ، گریجویشن ایس بی کالج سرینگر سے کیا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے لاء ڈگری اور عرب تاریخ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی۔اتر پردیش کے حلقہ مظفر نگر سے جنتا دل امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوکر مرکزی وزیر داخلہ بن گئے اور پی وی نرسمہا راؤ کے دور حکومت کے آخری ایام میں اپنی دختر محبوبہ مفتی کے ساتھ کانگریس میں دوبارہ آگئے اور وہ 1998 میں لوک سبھا کیلئے اور ان کی دختر 1996میں کشمیر اسمبلی کیلئے منتخب ہوگئے لیکن چیف منسٹر کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے 1999ء میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی قائم کرلی اور اس عہدہ پر فائز ہوکر ہی دم توڑ دیا۔

TOPPOPULARRECENT