Tuesday , October 17 2017
Home / سیاسیات / چیف منسٹر دہلی کا دفتر ’’غائب دماغ‘‘ سی آئی سی کی جانب سے سرزنش

چیف منسٹر دہلی کا دفتر ’’غائب دماغ‘‘ سی آئی سی کی جانب سے سرزنش

سینئر سٹیزن کی درخواست کی جانچ کے بغیر دیگر محکمہ جات کو روانہ کرنا غیر صحتمندانہ عمل
نئی دہلی 27 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سنٹرل انفارمیشن کمیشن نے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے دفتر کی سرزنش کی اور کہاکہ وہ ’’غیب دماغ‘‘ حرکتیں کررہا ہے۔ ایک سینئر سٹیزن کی درخواست کو دوسرے محکموں کو منتقل کرنے سے قبل دفتر کے عہدیداروں نے اپنے دماغ کا استعمال نہیں کیا۔ یہ درخواست وظیفہ کے موقف کو جاننے کے لئے داخل کی گئی تھی مگر سی ایم او نے اسے 29 محکموں سے رجوع کردیا۔ کمیشن نے کہاکہ اس سے لاپرواہی اور تساہلی کا پتہ چلتا ہے کہ سی ایم او جیسے بڑے دفتر میں غیر صحتمندانہ عوامل ہورہے ہیں۔ دفتر کے عہدیداروں نے ایک حق معلومات قانون (آر ٹی آئی) کی درخواست کو دیگر محکموں سے رجوع کردیا جبکہ سی آئی سی نے چیف منسٹر کے دفتر کو ہدایت دی کہ وہ نئی دہلی کی حکومت میں تمام نوعیت کے وظائف کے موقف پر ایک وائیٹ پیپر تیار کرے اور یہ بتائے کہ وظائف کی عدم ادائیگی کی وجوہات کیا ہے۔ بقایا جات کی ادائیگی کا وقت اور تاریخ بتائی جائے اور 20 دن کے اندر یہ وضاحت کی جائے کہ آخر وہ وظائف کو کب ادا کرے گی۔ انفارمیشن کمشنر سریدھر اچاریالو نے سی ایم او کو یہ بھی ہدایت دی کہ درخواست گذار چرنجیت سنگھ بھاٹیہ کو ایک لاکھ روپئے کا معاوضہ ادا کرے اور پبلک انفارمیشن آفیسرس کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے غیر ضروری طور پر اس سینئر سٹیزن کی درخواست دیگر محکموں کو منتقل کردی۔ سی ایم او نے درخواست دیکھے بغیر اپنا دماغ استعمال کئے بغیر اسے دوسرے محکمہ سے رجوع کردیا جبکہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے

جس کو درخواست گذار نے اٹھایا ہے۔ سی ایم او نے صرف ایک پوسٹ آفس کی طرح رول ادا کیا اور اپنی آر ٹی آئی کی درخواست کو دیگر محکموں کے پاس روانہ کردیا جہاں سے یہ درخواست دیگر محکموں کے پاس گشت کرتی رہی۔ انھوں نے کہاکہ سی ایم او اور دیگر آفیسرس نے درخواست گذار کو اس کی اطلاع نہیں دی کہ آخر وہ اس کا وظیفہ کیوں ادا نہیں کررہے ہیں یا یہ وظیفہ کب ادا کرنا شروع کیا جائے گا۔ کمیشن نے بتایا کہ اس کو پتہ چلا کہ سی ایم او جیسے اعلیٰ درجہ کے حامل دفتر کا رویہ اس طرح ہے تو تمام سرکاری دفاتر میں کیا صورتحال ہوگی۔ سینئر سٹیزن بھاٹیہ نے اپنی آر ٹی آئی درخواست داخل کی تھی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر جولائی 2014 ء اور اپریل 2015 ء کے درمیان 10 مئی تک اس کی بیوی کا وظیفہ کیوں ادا نہیں کیا گیا۔ 3 ماہ کے چیکس اپریل، جون 2014 ء کو فروری 2015 میں 8 بعد حوالے کیا گیاتھا۔ بھاٹیہ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس کوتاہی اور وظیفہ کی عدم وصولی سے متعلق چیف منسٹر کو سینکڑوں مکتوب لکھے کیوں کہ ان کی بیوی کی معذوری کا وظیفہ نہیں مل رہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT