Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر عوام کو علاء الدین کا چراغ دکھانے کوشاں

چیف منسٹر عوام کو علاء الدین کا چراغ دکھانے کوشاں

سالانہ بجٹ کو میجک بجٹ بنانے سے ریاست کی ترقی کیسے ہوگی : محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے تلنگانہ حکومت کے سالانہ بجٹ کو ’کے سی آر کے میجک بجٹ سے تعبیر کیا ‘ اور کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے اس میجک بجٹ کے ذریعہ ریاستی عوام کو ’ علاء الدین کا چراغ ‘ دکھانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ کیوں کہ گذشتہ تین سال کے دوران چار مرتبہ پیش کردہ بجٹ میں رقومات تو مختص کیے جارہے ہیں لیکن ان مختص کردہ رقومات کے منجملہ صرف 50 تا 60 فیصد رقومات ہی خرچ کی جارہی ہیں ۔ آج یہاں تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بجٹ پر ہوئے مباحث پر اپنے اختتامی اظہار خیال میں مسٹر محمد علی شبیر نے حکومت کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پہلے بجٹ میں ایک لاکھ کروڑ روپئے مختص کر کے صرف 69 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ دوسرے سال کے بجٹ میں 1.15 لاکھ کروڑ روپئے مختص کر کے 93 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کے لیے مختص کردہ رقومات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پسماندہ طبقات کی بہبود پر بھی مختص کردہ رقومات کے منجملہ 74 تا 78 فیصد رقومات ہی خرچ کی جارہی ہیں ۔ قائد اپوزیشن نے برقی پیداوار اور سربراہی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تلنگانہ حکومت نے برقی پیداوار کو یقینی نہیں بنایا ۔ بلکہ دیگر ریاستوں سے برقی حاصل کر کے کروڑہا روپئے کے بقایا جات پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے دریافت کیا کہ آیا برقی بقایا جات سے متعلق 6 ہزار کروڑ روپئے کس طرح ادا کئے جائیں گے اور آیا ان رقومات کا مالی بوجھ برقی بلدی میں اضافہ کے ذریعہ عوام پر عائد کیا جائے گا یا مرکزی حکومت سے رقومات حاصل کر کے ادا کئے جائیں گی ۔ اس سلسلہ میں ضروری وضاحت کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے انتہائی سخت الفاط میں کہا کہ حکومت جینکو کے ذریعہ ابتک ایک میگا واٹ برقی پیداوار بھی نہیں کرواسکی ۔ اس تعلق سے قائد اپوزیشن نے حکومت کو برقی پیداوار کو ثابت کر دکھانے کا چیلنج کیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں بھی حکومت کو چاہئے کہ وہ وضاحت کریں ۔ انہوں نے ریاست میں اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک یعینی چار مرتبہ پیش کردہ بجٹ میں اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے مختص کردہ رقومات بھی 40 تا 60 فیصد رقومات ہی خرچ کئے گئے ۔ اور اس مرتبہ پیش کردہ بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلہ میں رقومات میں کمی کی گئی ۔ علاوہ ازیں اردو اکیڈیمی کے 70 کمپیوٹر سنٹرس بند کردئیے گئے اور 34 اردو لائبریریاں بند کردی گئیں ۔ انہوں نے حکومت کے طرز عمل پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مسجد کے ملازمین وغیرہ کو تنخواہیں نہیں دی گئیں ۔ بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے روانہ ہونے والے اور روانہ ہوئے طلباء کو رقومات فراہم نہیں کی گئیں ۔ اس کے علاوہ تلنگانہ کے کسی اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر عمل آوری نہیں کی جارہی ہے ۔ لہذا ریاست کے موجودہ 31 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کرنے کا اعلان کر کے عمل آوری کے لیے مثبت اقدامات کرنے پر زور مطالبہ کیا ۔ قائد اپوزیشن نے محکمہ صحت و طبابت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تمام ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس کو سوپر اسپیشالیٹز ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن کوئی ایک ہاسپٹل کو بھی سوپر اسپیشالیٹیز ہاسپٹل میں تبدیل نہیں کیا گیا ۔ اس طرح حکومت ہر شعبہ میں ناکام ثابت ہوئی ۔ محکمہ تعلیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں طلباء کی کم تعداد کے بہانے سرکاری مدارس ، بند کردئیے جارہے ہیں ۔ بالخصوص اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی جائیدادیں مخلوعہ رہنے کی وجہ سے طلباء اسکولوں میں داخلے نہیں لے رہے ہیں جس کی وجہ سے تعداد کی کمی کا بہانہ بناکر اسکولوں کو بند کردیا جارہا ہے ۔ لہذا تمام سرکاری مدارس بشمول اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے ، یونیورسٹیوں میں بھی اساتذہ کے تقررات کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے سماجی تلنگانہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سماجی تلنگانہ کی باتیں کررہی ہے لیکن حکومت بے روزگار تعلیم یافتہ افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے کا تیقین دیتے ہوئے ملازمتوں کی فراہمی سے متعلق اعلامیے جاری کرہی ہے لیکن بعد ازاں ملازمتوں کی فراہمی سے متعلق جاری کردہ اعلامیوں کو منسوخ کردیا جارہا ہے ۔ انہوں نے حکومت کی اس کارکردگی کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عوام بے روزگارتعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ’ چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی ہے ‘ مسٹر محمد علی شبیر نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ سماجی تلنگانہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں ۔ انہوں نے دیگر محکمہ جات کے تعلق سے بھی تفصیلی تذکرہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT