Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / چیف منسٹر مدھیہ پردیش کو برہم احتجاجیوں نے ڈھکیل دیا

چیف منسٹر مدھیہ پردیش کو برہم احتجاجیوں نے ڈھکیل دیا

چوہان اپنے ساتھی وزیر کے ساتھ زمین پر بیٹھنے پر مجبور ، بی جے پی لیڈر ملزم ہنوزمفرور

جھابوا ۔ /13ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان کو آج دھماکہ اس مقام پر پٹلہ واد احتجاجیوں نے ڈھکیل دیا جہاں گزشتہ روز 89 افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے ۔ اس دوران اس دھماکہ میں درجنوں افراد کی ہلاکتوں پر عوامی برہمی سڑکوں پر پہونچ گئی جب اصل ملزم جس کا بی جے پی سے رابطہ ہے ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا ۔ چیف منسٹر چوہان اور ان کے کابینی ساتھی انترسنگھ آریہ کو المیہ کے قریبی مقام جدید بس اسٹینڈ کے پاس برہم مقامی عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا ۔ برہم عوام نے چیف منسٹر کو ڈھکیلتے ہوئے مقام واقعہ پہونچنے سے روک دیا ۔ عوامی غیض و غضب کو محسوس کرتے ہوئے دونوں قائدین گھیراؤ کے دوران زمین پر اکڑوں بیٹھنے پر مجبور ہوگئے ۔

واپسی سے قبل 15 منٹ تک برہم احتجاجیوں کی نمائندگیوں کی سماعت کی ۔ احتجاجیوں نے جن میں کانگریسی کارکن بھی شامل تھے ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کے خلاف مسلسل نعرے لگاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس بدترین المیہ کے انسداد کے لئے قبل از وقت مناسب اقدامات نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے خاطی افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ۔ احتجاجیوں نے ضلع کلکٹر ارونا گیتا کی برطرفی کا مطالبہ کیا اور چیف منسٹر کیلئے راستہ بنانے والے پولیس کے سب ڈیویژنل آفیسر اے آر خاں کی پٹائی کی ۔ چوہان نے مقام حادثہ کا دورہ کیا بعد ازاں متاثرہ خاندانوں کے گھر پہونچ کر کہا کہ معمول کے حالات کی بحالی تک وہ پیٹلہ واد ٹاؤن میں قیام کریں گے اور امدادی کاموں کی راست نگرانی کی جائے گی ۔ اس دوران پولیس نے کانکنی کے کام میں استعمال کئے جانے والے دھماکو مواد کی بھاری مقدار کو عمارت میں رکھنے والے ملزم راجیندر کساوا کو پکڑنے کیلئے پولیس نے کئی مقامات پر دھاوے کئے ۔ کانگریس نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کساوا کو قوانین کے خلاف اس عمارت میں دھماکو مواد رکھنے کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ ضلع بی جے پی ویاپار منڈل کا صدر ہے ۔
کانگریس نے چوہان پر اقتدار کے مکمل غلط اور بیجا استعمال کا الزام عائد کیا ۔

TOPPOPULARRECENT