Sunday , August 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / چیف منسٹر پر دلت مخالف حکمت عملی اپنانے کا الزام

چیف منسٹر پر دلت مخالف حکمت عملی اپنانے کا الزام

کریم نگر ۔ 29 ۔ اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے انتخابات سے قبل دلتوں کی حمایت بہبود و ترقی کے تعلق سے بڑے بڑے دعوے کئے تھے ۔ ٹی آر ایس اقتدار پر آنے پر تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر دلت ہوگا کہا تھا ۔ آج حکومت اقتدار پر آنے کے بعد سے آج تک دلت مخالف حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے ۔ ضلع کانگریس صدر کے مرتنجیم نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ وہ پرنٹ اینڈ الکٹرانک میڈیا سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے دلتوں کے تعلق سے کئے ہوئے ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کے سی آر کی سوچ و فکر منصوبہ بھی سراسر دلت مخالف ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر راجیا کو بلاکسی وجہ کیوں نکالا گیا اور کے سری ہری کو ان کی جگہ کیوں فائز کیا گیا ۔ راجیا کو برقرار رکھتے ہوئے بھی کے سری ہری کو شامل کیا جاسکتا تھا ۔ کابینہ میں ایک بھی دلت وزیر نہیں اور کوئی خاتون بھی نہیں ہے ۔ جبکہ کانگریس دور اقتدار میں دلت خاتون وزیر کے علاوہ دلت مرد وزیر بھی تھے ۔ ایس سی ، ایس ٹی سب پلان میں مختص کردہ 700 کروڑ روپئے سال گزشتہ استعمال نہیں کیا گیا واپس کردیا گیا ۔ جاریہ سال بھی سب پلان فنڈز کی بھاری رقم واپس کردیئے جانے کا امکان ہے ۔ کتنی بدبختی کی بات ہے کہ فنڈز ہونے کے باوجود دلت فلاح و بہبودی پروگرام پر رقم خرچ نہیں کی جارہی ہے ۔ اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ حکومت کو چیف منسٹر کو دلتوں کی ترقی سے کس قدر دلچسپی ہے ۔ تعمیر امکنہ کے تحت حکومت کے جاری کردہ جی او میں ہر اسمبلی حلقہ میں 400 بے گھر خاندانوں کیلئے تعمیر کر کے دیئے جحانے کی بات کہی ہے اس میں ایس سی ، ایس ٹی کے 50 فیصد اقلیتوں کو 7 فیصد مکانات تعمیر کئے جائیں گے ہر حلقہ اسمبلی میں 100 سے کم مواضعات نہیں ہے ۔ چپہ ڈنڈی میں 135 مواضعات ہیں اس حساب سے جہاں ہر موضع کو چار مکانات الاٹ کئے جائیں گے تو چپہ ڈنڈی میں ایس سی ، ایس ٹی کیلئے صرف ایک مکان آئے گا کہا ، یہ نمونہ کیلئے ہوگا کہہ کر مرتنجیم نے سوال کیا ۔ کے سی آر نے کانگریس حکومت کا مذاق اُڑایا تھا اور کہا تھا کہ تہوار میں داماد گھر آجائے تو ساس ، سسر اور اور گھر کے دیگر افراد کو گھر سے باہر سونا پڑے گا ۔ میں پانچ لاکھ روپئے سے دوبیڈروم ورانڈہ بیت الخلا حمام کے ساتھ مکان تعمیر کر کے دوں گا ۔ اب ان کے جاری احکامات کے مطابق تعمیر ہو تو شاید ایک سو سال بھی ضلع کریم نگر کے ایک لاکھ 84 ہزار مکان تعمیر نہیں ہوں ۔ کانگریس دور میں تعمیر امکنہ میں بدعنوانیاں ہوئی ہیں کے سی آر کہہ رہے ہیں تو تحقیقات کریں ، سزا دینے قانونی کارروائی سے کس نے روکا ہے جو مکانات تعمیر ہوئے ہیں ان کی رقم بل کی ادائیگی کریں ۔ کریم نگر میں پاسپورٹ آفس کا افتتاح کئے جانے کا اعلان تعجب خیز ہے ۔ ایام پی ونود کمار نے منظور کروایا ہے ۔ کہنا جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ پاسپورٹ دفتر کانگریس دور حکومت میں قائم کیا گیا اسے بند کیوں کیا گیا اس تعلق سے جواب دیں ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ کریم نگر میں گٹکھا فروخت میں دیویژن سطح کے پولیس آفیسر اور برسراقتدار قائدین ملوث ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT