Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کا وعدہ وفا نہ ہوا

چیف منسٹر کا وعدہ وفا نہ ہوا

حیدرآباد۔ 10 ستمبر (سیاست نیوز) روزنامہ سیاست کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے حکومت پر دباؤ بنانے کیلئے شروع کردہ تحریک کا شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں زبردست ردعمل دیکھا جارہا ہے۔ صدر تلنگانہ اردو فورم و مظہر ایجوکیشنل سوسائٹی مسٹر محمد اسمعیل الرب انصاری (اُردو انصاری) کی قیادت میں خواتین پر مشتمل ایک وفد نے کلکٹر حیدرآباد مسٹر راہول بوجا سے ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے ایک تحریری یادداشت پیش کی۔ بعدازاں مسٹر انصاری نے بتایا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مسلمانوں نے خیرمقدم کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو اقتدار سونپنے میں غیرمعمولی رول ادا کیا۔ ٹی آر ایس دور اقتدار کے 15 ماہ مکمل ہوچکے ہیں، اس دوران چیف منسٹر تلنگانہ نے بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا ہے۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے مسلم طلبہ کو تعلیمی میدان میں دو سال سے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اب ملازمتوں میں بھی مسلمانوں کو نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خاں اور ادارہ سیاست کے ذمہ داران سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی روزنامہ سیاست نے جو تحریک شروع کی ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے جب سیاست کی تحریک سے کلکٹر حیدرآباد کو واقف کرایا تو راہول بوجا نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو حکومت تک پہونچانے کیلئے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں گے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات مسلمانوں کا حق ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بھی اپنے وعدے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے، مگر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کیلئے بی سی کمیشن کی تشکیل ضروری ہے۔ بی سی کمیشن کی تشکیل کے بغیر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ ماضی میں کانگریس کی مثال موجود ہے لہذا انکوائری آف کمیشن کی رپورٹ بے فیض ثابت ہوگی۔ حکومت مزید وقت ضائع کئے بغیر فوری بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے اپنی سنجیدگی کا ثبوت فراہم کریں۔ مسلمان تمام شعبوں میں پسماندہ ہیں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ مرلیدھر کمیشن کی رپورٹ اور ابو صالح کی رپورٹ اس کا ثبوت ہے۔ پسماندہ طبقات سے بھی پسماندہ رہنے والے مسلمانوں کو دیگر ابنائے وطن کے برابر ترقی دینے کیلئے 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی مسلمانوں کا دستوری حق ہے۔

TOPPOPULARRECENT