Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر کجریوال ساکھ متاثر کرنا سیاہی حملہ کا مقصد

چیف منسٹر کجریوال ساکھ متاثر کرنا سیاہی حملہ کا مقصد

دہلی کی عدالت کا ریمارک، سیاہی پھینکنے والی خاتون کی 14 روزہ عدالتی تحویل
نئی دہلی ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر اروند کجریوال پر سیاہی پھینکنے کا مقصد باضابطہ جمہوری طور پر منتخب سربراہ ریاست کی ساکھ کو متاثر کرنا رہا، دہلی کی ایک عدالت نے آج یہ ریمارک کیا جبکہ ملزمہ کو 14 روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ اس حرکت کو سنگین اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے عدالت نے ملزمہ بھاونا اروڑہ کی داخل کردہ درخواست ضمانت خارج کردی اور انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا جبکہ تحقیقاتی ادارہ نے کہا کہ ملزمہ کی تحویل میں تفتیش کرنے کی مزید ضرورت نہیں۔ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سنیل کمار نے کہا کہ ملزمہ نے پہلے سے ذہن بنا کر ایک عوامی خدمت گذار کی جو چیف منسٹر دہلی ہیں، عوامی جلسہ کے دوران توہین اور ہتک کرنے کی کوشش کی۔ ملزمہ کی یہ حرکت اپنے آپ کو یہ اظہار ہیکہ اس نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اس کا ارتکاب کیا اور یہ محض باقاعدہ جمہوری غور پر منتخب سربراہ ریاست کی ساکھ کو متاثر کرنے کیلئے کیا گیا۔ مزید یہ کہ اس کیس کی تحقیقات فی الحال ابتدائی مرحلہ میں ہے اور اس میں دیگر اشخاص کی سازش شامل ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ نیز جس انداز سے اور جس طرح ملزمہ کی حرکت سرزد ہوئی وہ بھی اسے ضمانت دینے سے روکتے ہیں۔

حکومت دہلی کو پولیس سے رپورٹ مطلوب
دریں اثناء حکومت دہلی نے چیف منسٹر کجریوال پر سیاہی حملہ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پولیس کمشنر بی ایس بسی سے طلب کی ہے اور ان سے دریافت کیا کہ آیا پولیس فورس مستقبل میں اس طرح کے حملہ کے سدباب کا منصوبہ رکھتی ہے۔ پرنسپل سکریٹری (داخلہ) ایس این سہائے نے اس ضمن میں پولیس کمشنر کو مکتوب تحریر کیا ہے۔ اس دوران دہلی پولیس نے کہا کہ اس خاتون کی یہ حرکت در اصل جمہوریت پر حملہ کے مترادف ہے اور حالیہ وقتوں میں سیاستدانوں پر جوتے اور سیاہی پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ پولیس نے عدالت سے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے والوں کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT