Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / چیف منسٹر کرناٹک کو برطرف کردینے سونیا گاندھی پر زور

چیف منسٹر کرناٹک کو برطرف کردینے سونیا گاندھی پر زور

بنگلور میں تنزانیہ کے خاتون کو برہنہ کرنے اور دوبارہ حملہ کا واقعہ نسلی تشدد کے مترادف
کولکتہ ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے قومی ترجمان میناکشی لیکھی نے آج صدر کانگریس سونیا گاندھی پر زور دیا کہ وہ چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا کو فوری برطرف کردیں۔ بنگلور میں تنزانیہ کی ایک خاتون پر مبینہ حملہ اور برہنہ کرنے کا واقعہ سراسر نسلی حملہ کے مترادف ہے۔ سونیا گاندھی کو فوری کارروائی کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی سرزنش کرنی چاہئے اور چیف منسٹر کو برخاست کردیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شریمتی سونیا گاندھی کو اپنی حکمرانی والی ریاست کرناٹک کے واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے چیف منسٹر تبدیل کرنا چاہئے۔ سونیا گاندھی کو اس واقعہ پر رپورٹ طلب کرنے کے بجائے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے حکومت کرناٹک سے رپورٹ طلب کی ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ کے مطابق سدارامیا حکومت کو ہدایت دی گئی ہیکہ وہ تنزانیہ کی خاتون کے واقعہ کی تفصیلات پیش کریں۔ ریاستی حکومت کے دعویٰ کی نفی کرتے ہوئے بی جے پی ترجمان نے حکومت سے استفسار کیا کہ آخر وہ سچائی کوچھپانا کیوں چاہتی ہے۔ سچ تو یہ ہیکہ اس خاتون کو برہنہ کرکے گشت کروایا گیا۔ یہ ہمارے وقار کا مسئلہ ہے۔ آخر ہم ملک میں ہماری خواتین کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں گے۔ اس خاتون کی کار کو بھی آگ لگا دی گئی۔ حقائق کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ یہ سراسر نسلی امتیاز کا کیس ہے۔ غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں خواتین غیرمحفوظ ہیں۔ 21 سالہ تنزانیہ کی خاتون کو برہنہ کرنے کے واقعہ پر احتجاج کے درمیان حکومت کرناٹک نے آج کہا کہ اس واقعہ کے سلسلہ میں 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کرناٹک حکومت نے تنزانیہ کی خاتون کو برہنہ کرکے گشت کرانے کی تردید کی۔ حملہ آوروں نے اس خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT