Sunday , September 24 2017
Home / سیاسیات / چیف منسٹر کیرالا وزارت فینانس کے بھی ذمہ دار مستعفی وزیر کے مشورہ پر اومن چنڈی کا فیصلہ

چیف منسٹر کیرالا وزارت فینانس کے بھی ذمہ دار مستعفی وزیر کے مشورہ پر اومن چنڈی کا فیصلہ

تروننتھا پورم ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : رشوت ستانی کیس میں کیرالا کانگریس ( ایم ) سربراہ کے ایم منی کی کابینہ سے استعفیٰ کے ایک دن بعد آج چیف منسٹر اومن چنڈی نے بتایا ہے کہ وزارت فینانس کا قلمدان بھی رکھ لیں گے ۔ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے بتایا کہ مسٹر کے ایم منی نے خود وزارت فینانس کا قلمدان ان کے پاس رکھ لینے کی خواہش کی ہے ۔ کانگریس لیڈر اور وزیر آبکاری کے بابو کے خلاف کیرالا بار ہوٹل اونرس اسوسی ایشن کے کارگذار صدر بیجورمیش کے تازہ الزامات پر اومن چنڈی نے کہا کہ یہ مسئلہ ( رشوت ستانی کیس ) گذشتہ ایک سال سے ریاست میں موضوع بحث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کی روک تھام کے عہد پر حکومت کاربند ہے اور کرپشن ملوث کسی بھی لیڈر کا تحفظ نہیں کیا جائے گا لیکن کسی کو بھی حکومت کے خلاف بیجا الزامات لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ گورنمنٹ چیف وہپ تھامس اونی یادان کے استعفیٰ پر بہت جلد مسٹر کے ایم منی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا ۔ جن کا تعلق بھی کیرالا کانگریس سے ہے ۔ اونی یادان جو کہ منی کے با اعتماد رفیق ہیں پارٹی سربراہ سے اظہار یگانگت کے لیے اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے ۔ اومن چنڈی نے کہا کہ رشوت سانی کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلہ میں منی کیخلاف کچھ بھی نہیں ہے اور حکمران یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے کسی بھی لیڈر نے منی سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا ہے ۔ یہ تو محض اخلاقی بنیادوں پر انہوں نے استعفیٰ کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اس خصوص میں میڈیا کی رپورٹس کو چیف منسٹر نے بے بنیاد قرار دیا کہ وزیر فینانس سے استعفیٰ کے لیے اصرار کیا گیا تھا ۔ قبل ازیں 82 سالہ منی جو کہ کیرالا کانگریس (ایم ) کے سربراہ ہیں رشوت ستانی کیس میں ان کے خلاف ہائی کورٹ کے بعض سخت ریمارکس پر کل اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا ۔ جب کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے ۔ ہوٹل اینڈ بار اسوسی ایشن نے گذشتہ سال یہ الزام عائد کیا تھا ۔ وزیر فینانس منی نے 400 ہوٹلوں کے لائسنس کی تجدید کے لیے ایک کروڑ روپئے رشوت حاصل کی تھی ۔۔

TOPPOPULARRECENT