Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کی قیام گاہ میں 150 کمرے ہونے کے دعویٰ پر ہنگامہ

چیف منسٹر کی قیام گاہ میں 150 کمرے ہونے کے دعویٰ پر ہنگامہ

پرگتی بھون تلنگانہ کی شان ، کے سی آر کا ردعمل ، وینکٹ ریڈی پر اظہار برہمی
حیدرآباد۔/27ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ آج اس وقت کانگریس کے رکن کے وینکٹ ریڈی پر برہم ہوگئے جب انہوں نے چیف منسٹر کی نئی قیامگاہ میں 150 کمرے ہونے کا دعویٰ کیا۔ امکنہ اسکیم پر مختصر مدتی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ غریبوں کیلئے مکانات کی اسکیم زیر التواء ہے لیکن چیف منسٹر نے انتہائی عصری قیامگاہ تعمیر کی ہے جس میں 150 کمرے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ برہم ہوگئے اور وینکٹ ریڈی سے سوال کیا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ نئی سرکاری قیامگاہ میں 150کمرے موجود ہیں۔  وینکٹ ریڈی نے چیلنج کیا کہ اگر حکومت باقی ڈھائی برس میں 2لاکھ 60 ہزار مکانات تعمیر کرتی ہے تو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ جس پر چیف منسٹر نے کہاکہ اس چیلنج کے ذریعہ وینکٹ ریڈی نے اپنا سیاسی مستقبل تاریک کرلیا ہے۔ حکومت 2 لاکھ 60ہزار سے زائد مکانات تعمیر کردکھائے گی۔ چیف منسٹر نے ان کی قیامگاہ کے بارے میں وینکٹ ریڈی کے تبصرہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرگتی بھون دراصل تلنگانہ ریاست کا وقار ہے اور یہ تلنگانہ ریاست کی جائیداد ہے نہ کہ ان کی ذاتی جائیداد۔ انہوں نے کہا کہ وینکٹ ریڈی پرتی بھون میں 150 کمروں کی بات ثابت کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پرگتی بھون دراصل تلنگانہ عوام کی جائیداد ہے یہ کے سی آر کا مکان نہیں ہے۔ ملک اور بیرون ملک سے آنے والی اہم شخصیتیں پرگتی بھون کو آتی ہیں اور انہیں تلنگانہ کے وقار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے وہ سرکاری قیامگاہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی قیامگاہ کے بارے میں اس طرح غیر ذمہ دارانہ بیانات افسوسناک ہیں۔ چیف منسٹر جب ایوان میں موجود ہوں اس وقت کیا اس طرح کی گفتگو کی جاسکتی ہے۔ اخبارات میں آنے والی خبروں کی بنیاد پر اسمبلی میں بات کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی کے طرز عمل اور رویہ کو کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے پیش کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کیلئے حیدرآباد میں کوئی سرکاری قیامگاہ موجود نہیں تھی اس قدر بڑی ریاست آندھرا پردیش میں چیف منسٹر کیلئے رہائش گاہ کا نہ ہونا باعث حیرت تھا۔چیف  منسٹر نے ریمارک کیا کہ نظام نے لاکھوں ایکر اراضی چھوڑی لیکن بعد کے حکمرانوں نے ریاست میں چیف منسٹر کیلئے ایک مکان بھی تعمیر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے سرکاری رہائش گاہ تعمیر کی تاہم اس میں بھی پارکنگ کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی صرف چیف منسٹر کی گاڑی قیامگاہ میں داخل ہوسکتی تھی اور باقی گاڑیاں سڑک پر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی قیامگاہ کیلئے پارکنگ کی جگہ کا ہونا اولین ضرورت ہے کیونکہ وزراء، عوامی نمائندے اور عہدیدار رجوع ہوتے ہیں۔ کلکٹر کانفرنس منعقد کی جائے تو عہدیداروں کی گاڑیاں کہاں رہیں گی۔ ان تمام ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے پرگتی بھون تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بہت جلد شہر کے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو پرگتی بھون کا معائنہ کروائیں گے اسوقت پتہ چلے گا کہ پرگتی بھون میں کتنے کمرے ہیں اور یہ کس مقصد سے تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کیلئے پرگتی بھون میں وہ بہترین کھانے کا انتظام کریں گے۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے وضاحت کی کہ وہ چیف منسٹر پر شخصی تنقید کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس مرحلہ پر اسپیکر مدھوسدن چاری نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ شہر کے ارکان اسمبلی کے ساتھ وینکٹ ریڈی کو بھی پرگتی بھون مدعو کیا جائے تاکہ وہ عمارت دیکھ سکیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ 36 کروڑ کے خرچ سے پرگتی بھون تعمیر کیا گیا ہے اور یہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کیلئے ہے اور آگے آنے والے چیف منسٹرس کیلئے بھی یہی سرکاری رہائش گاہ رہے گی۔ انہوں نے چیف منسٹر کے گھر کا تخمینہ کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ دیگر ریاستوں کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے چیف منسٹرس کی قیامگاہوں کا جائز ہ لیں۔

TOPPOPULARRECENT