Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / !چیف منسٹر کی ہدایت کے آگے بی سی کمیشن بےبس

!چیف منسٹر کی ہدایت کے آگے بی سی کمیشن بےبس

مسلمانوں کی پسماندگی کیلئے علیحدہ اعداد و شمار کے بجائے سدھیر کمیشن پر انحصار لمحۂ فکر
حیدرآباد۔/5جنوری، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر چیف منسٹر نے بی سی کمیشن کو جاریہ اسمبلی سیشن کے دوران رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے مطابق بی سی کمیشن نے ماہرین کی اعانت سے رپورٹ کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ کمیشن سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ 6 یا 7 جنوری تک حکومت کو رپورٹ پیش کردے تاکہ 11جنوری تک جاری رہنے والے اسمبلی اجلاس میں حکومت اپنے موقف کا اظہار کرسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی کمیشن کی سفارشات کے مطابق حکومت اسمبلی اور کونسل میں قرارداد کی منظوری پر غور کررہی ہے جبکہ حکومت کے بعض عہدیداروں نے قانون سازی کی سفارش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی کمیشن کی رپورٹ کی وصولی کے بعد قانونی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ قانون سازی کی صورت میں حکومت کو بل تیار کرکے پہلے کابینہ میں منظوری حاصل کرنا ضروری ہے جبکہ قرارداد منظور کرنے کابینہ کی منظوری کی ضرورت نہیں اور کسی بھی لمحہ قرارداد تیار کرکے ایوانوں میں پیش کی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی کمیشن کو رپورٹ کی تیاری کے سلسلہ میں بعض ماہرین کی خدمات فراہم کی گئی ہیں۔ پہلے مرحلہ میں رپورٹ تلگو زبان میں حکومت کو پیش کی جائے گی بعد میں دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بی سی کمیشن کی رپورٹ 225 سے زائد صفحات پر مشتمل ہوسکتی ہے اور اس میں سدھیر کمیشن کی رپورٹ کے حصے شامل رہیں گے اور 6 روزہ عوامی سماعت کے دوران حاصل نمائندگیوں کا تذکرہ کیا جائیگا۔ چیف منسٹر دفتر کے عہدیداروں کے علاوہ محکمہ جات اقلیتی بہبود اور بی سی ویلفیر کے عہدیدار بھی بی سی کمیشن کی رپورٹ اور اسمبلی میں مجوزہ قرارداد کے سلسلہ میں مصروف دیکھے گئے ۔اسمبلی میں قرارداد کی پیشکشی کی صورت میں سوائے بی جے پی کے تمام جماعتوں کی تائید حاصل ہونے کا حکومت کو یقین ہے۔ کانگریس ذرائع نے بتایا کہ پارٹی ایوانوں میں قرارداد کی تائید کرکے تحفظات کی فراہمی کے طریقہ کار کی مخالفت کریگی۔ حکومت سے مطالبہ کیا جائیگا کہ وہ وعدہ کے مطابق مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کو یقینی بنائے۔ دوسری طرف سدھیر کمیشن کے ماہرین مسلم تحفظات کو قانونی پیچیدگیوں سے بچانے حکومت کو علحدہ رپورٹ پیش کرنے کی تیاری میں ہیں۔ یہ ماہرین سپریم کورٹ میں موجودہ 4 فیصد تحفظات کے مقدمہ کی تناظر میں حکومت کو قانونی پیشرفت کے سلسلہ میں تجاویز پیش کرینگے تاکہ محفوظ طریقہ سے مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ ہوسکے۔ اسی دوران بی سی کمیشن کی جانب سے اضلاع کا دورہ کئے بغیر صرف سدھیر کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ کی تیاری کی مختلف گوشوں سے مخالفت کی جارہی ہے۔ سابق میں تحفظات کی فراہمی کے امور میں شامل عہدیداروں اور قائدین کا ماننا ہے کہ بی سی کمیشن کو مسلمانوں کی پسماندگی ثابت کرنے علحدہ اعداد و شمار پیش کرنے چاہیئے تھے۔ برخلاف اسکے کسی اور کمیشن کی رپورٹ پر انحصار کرنا حکومت کی عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن کے ارکان میں اس مسئلہ پر اختلاف رائے ہے تاہم وہ چیف منسٹر کی ہدایت کے آگے بے بس ہیں۔

TOPPOPULARRECENT