Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کو % 12تحفظات کی فراہمی میں غیرسنجیدہ

چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کو % 12تحفظات کی فراہمی میں غیرسنجیدہ

حیدرآباد۔ 2 نومبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کے معاملے میں غیرسنجیدہ ہیں۔ مجلس اور بی جے پی ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہونچا رہے ہیں۔ مجلس کے قائدین کی دولت بڑھ رہی ہے مگر پرانے شہر کے عوام مزید پسماندہ ہورہے ہیں۔ آلیر انکاؤنٹر کو کانگریس پارٹی، ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں موضوع بحث بنائے گی۔ تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے زیراہتمام منعقدہ ’’صحافت سے ملاقات‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور سے کئے گئے 12% مسلم تحفظات پر عمل آوری کیلئے چیف منسٹر تلنگانہ سنجیدہ نہیں ہے۔ جبکہ کانگریس نے 5%مسلم تحفظات کے وعدے کو اندرون 56 یوم مکمل کردیا تھا جبکہ 17 ماہ گذرنے کے بعد بھی کے سی آر نے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا۔ سدھیر کمیٹی کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کرسکے۔ اگر تلنگانہ حکومت مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے تو وہ فوری بغیر کسی تاخیر کے بی سی کمیشن تشکیل دے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے ٹاملناڈو کے طرز پر مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا ہے، وہ مضحکہ خیز ہے۔ 9 ویں شیڈول کے تحت ٹاملناڈو کو یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے نویں شیڈول کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ بی جے پی مسلم تحفظات کی مخالف ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ جبکہ مہاراشٹرا میں کانگریس نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو 5% تحفظات دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے تعلیم میں مسلمانوں کو 5% تحفظات برقرار رکھا تھا تاہم مہاراشٹرا کی شیوسینا۔ بی جے پی حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ مسلم تحفظات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ بہار کی انتخابی مہم میں وزیراعظم نریندر مودی نے مسلم تحفظات کی مخالفت کی ہے۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ مجلس اور بی جے پی مشترکہ طور پر مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہونچا رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی ،گریٹر حیدرآباد کے بلدی انتخابات میں مجلس سے آر پار کی لڑائی لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختصر عرصہ میں مجلسی قائدین کی دولت اور اثاثہ جات میں بے حساب اضافہ ہوا ہے جبکہ پرانے شہر کے رائے دہندے غریب کے غریب رہ گئے ۔ ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مجلس کی جانب سے پرانے شہر میں خانگی فائنانسروں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ کانگریس، ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کرے گی۔
آلیر انکاؤنٹر میں پانچ مسلم نوجوانوں کو بے رحمانہ انداز میں قتل کیا گیا، ساتھ ہی ورنگل انکاؤنٹر کو بھی موضوع بحث بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے 180 اہم وعدوں میں 10 وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کی 17 ماہی کارکردگی مایوس کن ہے جس میں 1600 کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ ریاست تلنگانہ کی معاشی حالت بھی انتہائی نازک ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ عوامی مفادات کا تحفظ کرنے اور ریاست کو ترقی دینے کے بجائے اپنے افرادِ خاندان کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس موقع پر صدر ٹی یو ڈبلیو جے شوکت علی صوفی، جنرل سیکریٹری ہادی راحیل اور دوسرے موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT