Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر ہریانہ کھتر کا مسلمانوں کو گوشت کھانے کیخلاف انتباہ

چیف منسٹر ہریانہ کھتر کا مسلمانوں کو گوشت کھانے کیخلاف انتباہ

چندی گڑھ ؍ نئی دہلی ۔16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر ہریانہ منوہر لال کھتر کے ان ریمارکس پر آج سیاسی تنازعہ چھڑ گیا کہ مسلمان اس ملک میں رہ سکتے ہیں لیکن انہیں گائے کا گوشت کھانا ترک کرنا ہوگا۔ کانگریس نے اسے غیردستوری اور ہندوستان کی جمہوریت کیلئے ’’دکھ کا دن‘‘ قرار دیا ۔چونکہ ان ریمارکس پر شدید برہمی ظاہر کی جارہی ہے، اس لئے بی جے پی نے خود کو کھتر کے خیالات سے لاتعلق کرتے ہوئے اسے غلط بتایا اور دعویٰ کیا کہ یہ پارٹی کا موقف نہیں ہے جبکہ عام آدمی پارٹی نے چیف منسٹر ہریانہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ کھتر نے اپنی طرف سے نقصان کے ازالہ کی کوشش میں کہا کہ ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا لیکن اگر عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ اظہار تاسف کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا : ’’ میرے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ۔ میں نے اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا لیکن اگر کسی کے جذبات کو میرے الفاظ سے ٹھیس پہنچی ہے تو میں معذرت خواہی کیلئے تیار ہوں‘‘۔ چیف منسٹر کے مشیر جواہر یادو نے کہا کہ کھتر نے انڈین ایکسپریس کو دیئے گئے انٹرویو میں اس طرح کا بیان کبھی نہیں دیا۔ اس کے بعد اخبار میں کھتر کے انٹرویو کا آڈیو ٹیپ جاری کردیا جس میں انہیں متنازعہ بیان دیتے ہوئے سنا گیا۔ اخبار کی جانب سے انٹرویو میں کھتر نے کہا تھا : ’’مسلمان اس ملک میں بدستور رہ سکتے ہیں لیکن انہیں بیف کھانا چھوڑ دینا ہوگا کیونکہ گائے یہاں عقیدہ کا معاملہ ہے‘‘۔ اس دوران  وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کھتر کے نظریات کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’’میں کھتر سے کہوں گا کہ ایسے ریمارکس کرنا غلط ہے۔ کسی کے کھانے پینے کی عادت کو مذہب سے نہیں جوڑا جاسکتا‘‘۔ دادری واقعہ کے چند دنوں بعد کھتر کے ان ریمارکس میں اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بی جے پی پر تنقیدوں کی لہر چھیڑ دی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT