Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / چیف منسٹر ہریانہ کے دفتر میں سنگین سیکوریٹی کوتاہی

چیف منسٹر ہریانہ کے دفتر میں سنگین سیکوریٹی کوتاہی

سی آئی ایس ایف کے 6 اہلکار معطل ، واقعہ کی تحقیقات کا حکم
چندی گڑھ ۔ 17 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ہائی سیکوریٹی پنجاب اینڈ ہریانہ سیول سکریٹریٹ کی عمارت میں چیف منسٹر ہریانہ منوہر لال کھتر آفس کے قریب ایک مسلح شخص ایک زائد مرتبہ تلاشی مرحلہ سے گذر کر داخل ہوجانے سے حفاظتی انتظامات میں کوتاہی بے نقاب ہوگئی ۔ جس کے بعد سی آئی ایس ایف کے 6 اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ۔ ایک سینئیر سی آئی ایس ایف عہدیدار نے بتایا کہ حفاظتی انتظامات میں غفلت برتنے پر 6 اہلکاروں کو معطل اور اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے ۔ منگل کو پیش آئے اس واقعہ کے سلسلہ میں سکریٹریٹ میں متعین سی آئی ایس ایف کمانڈنٹ کو طلب کر کے مبینہ کوتاہیوں سے واقف کروایا گیا ۔ واضح رہے کہ سکریٹریٹ عمارت کے لیے حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری سنٹرل انڈسٹریل ریزرو فورس کو تفویض کی گئی ہے ۔ دہلی کا ایک شہری ایس پی رانا جس کے پاس پوائنٹ 32 بور کی لائسنس یافتہ پستول تھی ۔ 3 مقامات پر تلاشی کے مرحلہ سے گذر گیا لیکن عمارت کی چوتھی منزل پر چیف منسٹر آفس کے سیکوریٹی اسٹاف نے اسے بالاخر ہتھیار کے ساتھ پکڑ لیا ۔ تاہم آل انڈیا ایمبولنس ویلفیر اسوسی ایشن کے صدر ایس پی رانا نے بتایا کہ اسوسی ایشن کے 20 تا 30 نمائندوں کے ایک گروپ کے ساتھ چیف منسٹر کھتر سے ملاقات کے لیے سکریٹریٹ پہنچے تھے تاکہ ہریانہ سے گذرنے والی ایمبولنس سے پاسنجر ٹیکس کی وصولی کے خلاف نمائندگی اور ٹیکس سے دستبرداری کا مطالبہ کیا جاسکے ۔ یہ دریافت کیے جانے پر کہ سکریٹریٹ کی عمارت میں ہتھیار کیوں لائے تھے ؟ رانا نے بتایا کہ سیکوریٹی تحدیدات سے وہ لا علم تھا ۔ میں نے جانتا تھا کہ لائسنس یافتہ ہتھیار بھی لانا منع ہے جب کہ اسوسی ایشن کے ارکان نے سکریٹریٹ بلڈنگ میں داخلے کے لیے گیٹ پاس بھی حاصل کرلیا تھا ۔ سی آئی ایس ایف اسٹاف کی کوئی غلطی نہیں ہے ۔ جنہوں نے اپنے فرائض ادا کئے تھے ۔ اور میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں کیوں کہ میں لائسنس یافتہ پستول بھی لانے کی پابندی سے ناواقف تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT