Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر یو پی کے انتخابی حلقہ گورکھپور کے سرکاری ہاسپٹل میں 30 بچوں کی موت

چیف منسٹر یو پی کے انتخابی حلقہ گورکھپور کے سرکاری ہاسپٹل میں 30 بچوں کی موت

دواخانہ میں آکسیجن کی سربراہی میں مجرمانہ خلل سے معصوم بچوں نے دم توڑدیا ، وزیر صحت کے استعفیٰ کا مطالبہ

گورکھپور (یو پی) ۔ /11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سرکاری دواخانہ بابا راگھو داس میڈیکل کالج ہاسپٹل میں گزشتہ دو دن کے دوران 30 بچے آکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے فوت ہوگئے ۔ ضلع مجسٹریٹ راجیو راٹیلا نے اس کا انکشاف کیا ۔ حالانکہ انہوں نے اموات کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن مرکزی وزارت نے کہا کہ سماج وادی پارٹی گورکھپور کے بموجب 21 بچے سیال آکسیجن کی سربراہی میں قلت کی وجہ سے فوت ہوئے ۔ سماج وادی پارٹی گورکھپور کے بموجب 21 بچے سیال آکسیجن کی سربراہی قلت کی وجہ سے ڈی آر ڈی میڈیکل کالج ہاسپٹل میں گزشتہ 36 گھنٹے کے دوران فوت ہوگئے ۔ سینئر عہدیدار مقام واردات پر موجود ہیں ۔ بالکل درست وجہ کی سیول انتظامیہ کی جانب سے جانچ کی جارہی ہے ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ اس واقعہ سے اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ردعمل ظاہر کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے ریاستی وزیر صحت کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے ۔ راٹیلا کے بموجب 17 بچے ماقبل زچگی وارڈ میں 5 شدید امراض تنفس کے وارڈ اے ای ایس میں اور 8 جنرل وارڈ میں گزشتہ دو دن کے دوران فوت ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 7 اموات ماقبل زچگی وارڈ نمبر 3 ، اے ای ایس وارڈ میں دو اور جنرل وارڈ میں 2 واقع ہوئی ہیں ۔ کل آدھی رات کو اس کی اطلاع ملی ۔ باقی 23 اموات ماقبل زچگی 14 ، اے ای ایس وارڈ میں 3 اور جنرل وارڈ میں 6 واقع ہوئی ہیں ۔ جن کا /9 اور /10 اگست کی درمیانی شب میں انکشاف ہوا ۔ ایک مخصوص سوال کے جواب میں کہ آیا اموات آکسیجن کی سربراہی کی قلت کا نتیجہ ہیں ۔ راٹیلا نے جو ہاسپٹل میں عارضی طور پر مقیم ہیں کہا کہ وہ ڈاکٹروں سے دریافت کرچکے ہیں لیکن آکسیجن کی قلت کی وجہ سے کوئی اموات واقع نہیں ہوئیں ۔ ریاستی حکومت نے لکھنؤ سے جاری کردہ سرکاری بیان میں آکسیجن کی ہاسپٹل میں عدم دستیابی کی خبروں کو مسترد کردیا ۔ ریاستی وزیر صحت سدھارتھ ناتھ گپتا نے کہا کہ بچوں کی اموات بدبختانہ ہے اور حکومت ایک تحقیقات کمیٹی قائم کررہی ہے تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جاسکے کہ کس کوتاہی کی وجہ سے اموات ہوئی ہیں اور اگر کوئی خاطی پایا جائے تو اس سے جواب طلب کیا جائے گا ۔ فی الحال 50 آکسیجن سلینڈرس دستیاب ہیں اور مزید 100 تا 150 سیلنڈرس جلد ہی ہاسپٹل پہونچ جائیں گے ۔ اس سوال پر کہ کیا فروخت کنندہ کی جانب سے آکسیجن کی سربراہی روک دی گئی ہے کیونکہ ہاسپٹل نے 70 لاکھ روپئے تک کے بل ادا نہیں کئے ہیں ۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ جزوی ادائیگی کنٹراکٹر کو کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اموات کے پس پردہ وجہ کا پتہ چلایا جارہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ بالکل درست وجوہات دریافت کرنے کیلئے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہیں ۔ اور حقائق کا کل شام تک پتہ چل جائے گا ۔ یو پی کی حکومت سنبھالنے کے بعد یوگی آدیہ ناتھ نے طبی اور تعلیمی شعبوں کی حالت بہتر بنانے پر زور دیا تھا ۔ اپریل میں آدتیہ ناتھ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس نے 6 ایمس اور 25 نئے میڈیکل کالجس ریاست میں قائم کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں ۔ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کے دوران اس کا تیقن دیا تھا ۔ بچوں کی اموات کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی ، نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے بچوں کی اموات پر صدمہ پہونچنے کا اظہار کیا ہے ۔ صدر یو پی کانگریس راج ببر نے کہا کہ اس سے ریاستی حکومت کی بے حسی کا ثبوت ملتا ہے ۔ ریاستی وزیر صحت کو اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہوجانا چاہئیے ۔ جواب دہی کی ذمہ داری کا تعین کرنا چاہئیے اور خود بھی ذمہ داری قبول کرنی چاہئیے ۔ چیف منسٹر یو پی نے دو دن قبل ہی اپنے لوک سبھا حلقہ انتخاب گورکھپور کا دورہ کیا تھا ۔ انہوں نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت اس علاقہ کو امراض تنفس سے پاک کردے گی جس کی وجہ سے ہر سال کئی بچے فوت ہوتے ہیں ۔ سابق چیف منسٹر اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ریاستی حکومت کو اموات کے سانحہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی اور مہلوک بچوں کے ارکان خاندان کو 20 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ گزشتہ چالیس سال کے دوران 40 ہزار بچے اس علاقہ میں ہلاک ہوچکے ہیں حالانکہ حکومت یو پی نے اس علاقہ سے امراض تنفس اور جاپانی بخار سے پاک کرنے کیلئے مہم کا آغاز کرکھا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT