Thursday , August 24 2017
Home / دنیا / چین، ہندوستان سے بلیٹ ٹرین معاہدہ کیلئے ہنوز تیار

چین، ہندوستان سے بلیٹ ٹرین معاہدہ کیلئے ہنوز تیار

ہند ۔ جاپان معاہدہ کے باوجود دیگر راہداریوں کیلئے امکانات کھلے
بیجنگ ۔ 14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج ہندوستان کو ایک بار پھر تیقن دیا کہ ہندوستان اگر دنیا کی تیز ترین ٹرین (بلیٹ ٹرین) کیلئے چین کے تعاون کا طلبگار ہوگا تو چین اپنا تعاون خوشی خوشی دے گا کیونکہ ہندوستان میں بلیٹ ٹرین کو چلانے کے امکانات کے مختلف پہلوؤں پر غوروخوض جاری ہے جبکہ چین کے ساتھ ہندوستان کی پہلی بلیٹ ٹرین بنانے کا موقع جاپان نے چھین لیا ہے۔ اس موقع پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگ لی نے ایک انتہائی مؤثر جواب دیتے ہوئے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ایشیائی ممالک اپنی ترقی کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے انفراسٹرکچر تیار کررہے ہیں جو ایک اچھی علامت ہے۔ ہانگ لی نے اخباری نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات بتائی۔ جہاں ان سے ہندوستان اور جاپان کے درمیان ہندوستان کے شہر ممبئی اور احمدآباد کے درمیان 500 کیلو میٹر طویل فاصلہ پر بلیٹ ٹرین راہداری شروع کئے جانے کے معاہدہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ 12 بلین ڈالرس کے ایک پراجکٹ کیلئے جاپان نے 8.1 بلین امریکی ڈالرس کی آسان شرائط پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے بھی ہندوستان کے ساتھ تیز رفتار ٹرینوں کو چلانے میں تعاون رہا ہے جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ تاہم چین اس نئے پراجکٹ پر بھی ہندوستان کا حصہ بننا چاہتا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ  بھی ضروری ہیکہ ہندوستانی عہدیداروں نے یہ وضاحت کردی ہیکہ ہندوستان اور جاپان کے درمیان صرف ممبئی ۔ احمدآباد بلیٹ ٹرین راہداری کیلئے معاہدہ ہوا ہے جبکہ دیگر راہداریوں کیلئے چین کے ساتھ معاہدہ کے دروازے ہنوز کھلے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم جاپان شینزوابے کے حالیہ دورہ ہندوستان کے موقع پر بلیٹ ٹرین راہداری کے معاہدہ کو قطعیت دی گئی ہے۔ بہرحال چین کے ساتھ ہندوستان کے معاہدہ کا جہاں تک سوال ہے چینائی۔ دہلی کے 2200 کیلو میٹر طویل اور نئی دہلی ۔ ممبئی کے 1200 کیلو میٹر طویل بلیٹ ٹرین راہداری پر چین اپنی اسٹڈی جاری رکھے ہوئے ۔ ہندوستانی عہدیداروں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ممبئی ۔ احمدآباد بلیٹ ٹرین راہداری کیلئے جاپان نے اپنی اسٹڈی کا سلسلہ اس وقت شروع کیا تھا جب چین کا اس منظرنامہ میں کہیں دور دور تک بھی پتہ نہیں تھا۔ ہندوستان میں چلائی جارہی موجودہ ٹرینوں کی رفتار میں بہتری لانے کے علاوہ چین ہندوستانی ریلوے انجینئرس کو خصوصی تربیت بھی فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں چین میں جس طرح ایک ریلوے یونیورسٹی قائم کی گئی ہے، اسی اساس پر ہندوستان میں بھی ریلوے یونیورسٹی کا قیام عمل میں آئے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ گذشتہ ماہ این آئی ٹی ٹی آیوگ کے نائب صدرنشین اروند پناگریائے بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی انفراسٹرکچر کی فیانسنگ جاپان کے مقابلے بہت زیادہ مہنگی ہے۔

TOPPOPULARRECENT