Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / چینی دراندازیوں پر مودی حکومت کا غافلانہ ، بزدلانہ ردعمل

چینی دراندازیوں پر مودی حکومت کا غافلانہ ، بزدلانہ ردعمل

چین پر آشکار ہوگیا کہ وزیراعظم ہند صرف باتوں کے دھنی، کانگریس اور راہول گاندھی کا بیان

نئی دہلی 7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج مرکزی حکومت کو چینی دراندازیوں کے تعلق سے اُس کی غفلت و لاپرواہی پر نشانہ بنایا جبکہ نائب صدر راہول گاندھی نے اِس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اُٹھایا۔ کانگریس نے اپنی ویب سائٹ پر پیش کردہ آرٹیکل میں کہاکہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی تشریح وزیراعظم کی تلاش برائے تفریحی منازل اور تصویر کشی کے مواقع کے ذریعہ ہورہی ہے نہ کہ ہندوستان کے مفادات کے تحفظ اور اُسے بڑھاوا دینے کے لئے ترجیح دی جارہی ہے۔ اُن کی خارجہ پالیسی کھوکھلی باتوں سے مزین ہے۔ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی ریالیوں میں زوردار تقریریں کرنا ایسا ہی ہے جیسے سفارتی محاذ پر چین کے معاملہ میں سخت موقف اختیار کرنا ہے۔ دریں اثناء نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے ٹوئٹر پر کہاکہ ہمارے وزیراعظم چین کے تعلق سے خاموش کیوں ہیں۔ یو پی اے حکومت کے 10 برسوں کے دوران پارٹی نے کہاکہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے یقینی بنائے رکھا کہ ہندوستان کے تمام بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم رہے۔ ہم نے یقینی بنایا کہ چین کی طرف سے کوئی جارحیت نہ ہونے پائے اور اُسے خوبی سے نمٹا گیا، یو پی اے نے عالمی سیاست اور ڈپلومیسی کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ کر کام کیا۔ کانگریس کی ویب سائٹ پر آرٹیکل میں یہ بھی کہا گیا کہ چین نے مودی کو جان لیا ہے کہ وہ کام کے آدمی کی بجائے باتوں کے دھنی ہیں،

اِس لئے چین نے اپنے سرکاری کنٹرول والے میڈیا کے ذریعہ ہندوستان کو کھلی دھمکیاں دینا شروع کردیا ہے اور ہمیں تلخ سبق سکھانے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔ قوم کو تعجب اور حیرانی ہوئی ہے کہ مودی حکومت کا ردعمل بے کیف ہے۔ یہ وہی نریندر مودی ہیں جن کے حامیوں نے کہا تھا کہ وہ چین کو سخت جوابات دیں گے اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ لیکن ابھی تک ہمیں جو سرخی یا جارحانہ پن دیکھنے میں آیا وہ چین کی جارحیت ہے۔ کانگریس نے یہ بھی بیان کیا کہ چین کی جانب سے اِن اشتعال انگیز بیانات کے بعد وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے محض اتنا کہاکہ چینی دراندازی محض خیالی اندازے ہیں۔ کانگریس نے کہاکہ خیالی اندازہ کا کیا مطلب ہے؟ ہمارے بہادر جوانوں سے پوچھئے جنھیں چینی جارحیت کے خلاف مزاحمت کرنا پڑرہا ہے۔ گزشتہ 45 دن میں لگ بھگ 120 چینی دراندازیاں ہوئی ہیں۔ ہندوستانی بنکروں کو تباہ کیا گیا اور چینی جنگی جہازوں اور آبدوزوں کو مبینہ طور پر بحر ہند میں دیکھا گیا ہے۔ چین نے حال ہی میں مانسرور یاترا کے مذہبی یاتریوں کا راستہ روکا اور تباہ شدہ بنکروں کی تصاویر پیش کئے۔ جون 2017 ء میں چینی آرمی کے دو ہیلی کاپٹروں نے بھی اتراکھنڈ میں ہندوستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ کانگریس نے یو پی اے حکومت کی خارجہ پالیسیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کی علاقائی سالمیت کو ممکنہ خطرات کو بروقت سمجھ لیا گیا اور اِس کے مطابق ضروری اقدامات کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT