Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چینی ساختہ سستے اشیاء سے تمام ممالک متفکر

چینی ساختہ سستے اشیاء سے تمام ممالک متفکر

چین میں اسلام پر بالواسطہ پابندی کے باوجود ہندوستان میں جائے نمازوں کی تیاری و فروخت
حیدرآباد۔14مئی (سیاست نیوز) عالمی سطح پر چینی ساختہ سستے اشیاء کی دھوم ہے اور نہ صرف ہندستان بلکہ دنیا بھر کے کئی ممالک کی جانب سے چینی ساختہ اشیاء کا بڑھتا استعمال ہر ملک کو متفکر کئے ہوئے ہے لیکن چین جو کہ اسلام پر راست نہ سہی بالوسطہ پابندی عائد کرنے والا ملک ہے وہ اب جائے نمازوں کی تیاری کے ساتھ ان کی فروخت ہندستانی بازار میں کرنے لگا ہے۔ چین جہاں حالیہ دنو ںمیں اسلامی نام رکھنے اور بالخصوص ’محمد ‘ نام رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اس ملک سے جائے نمازیں تیار کرتے ہوئے مختلف ممالک کو فروخت کی جا رہی ہیں اور لوگ چین کے سستے اشیاء کے چکر میں چین کے سامان کی خریدی میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں لیکن وہ بالواسطہ اس مملکت کو فائدہ پہنچانے کے مرتکب ہوتے جا رہے ہیں جو دین اسلام اور اس ملک میں رہنے والے مسلمانوں پر ضرب لگانے کی کوشش میں ہے۔ چین کو اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب سے بھی عار ہے لیکن چینی ساختہ اشیاء میں وہ تمام اشیاء تیار کی جانے لگی ہیں جو مذہبی رسومات کے علاوہ عبادتوں کے لئے استعمال کی جاتی ہیں لیکن اس جانب بہت کم لوگوں کی توجہ مبذول ہوتی ہے ہے لیکن گذشتہ دیوالی کے موقع پر چینی پٹاخوںکے خلاف سخت مہم چلائی گئی لیکن اسی اثناء میں مخالف چینی ساختہ اشیاء کی اس مہم میں استعمال ہونے والے بیاچ اور دیگر اشیاء خود چین میں تیار کئے جانے لگے لیکن اب حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سال ہندستانی بازار میں چینی جائے نماز فروخت کیلئے پیش کی جا رہی ہے اور چین میں تیار کردہ ہزاروں ٹن مخملی جائے نماز ملک کی مختلف ریاستوں میں پہنچا دیئے گئے ہیں تاکہ انہیں ماہ رمضان المبارک کے دوران یا اس سے قبل فروخت کیا جا سکے۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ چین میں تیار کرتے ہوئے ہندستان میں فروخت کی جانے والی جائے نماز کی خریدی سے احتیاط کرنا چاہئے کیونکہ چین میں نہ صرف مسلم ناموں کے رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے بلکہ چینی حکمراں طبقہ کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس ناموں پر بھی امتناع عائد کیا گیا ہے اس کے علاوہ چین سے سال گذشتہ اس بات کی اطلاعات موصول ہوئی تھی کہ ملک میں خانگی اداروں کی جانب سے بھی ملازمین کو دوران ملازمت روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔مولانا جعفر پاشاہ نے چینی ساختہ اشیاء کے بجائے ہندستانی گھریلو صنعتوں میں تیار کردہ اشیا ء کی خریدی پر توجہ دیں تاکہ اس مملکت کی معیشت پر حملہ کیا جاسکے جو مسلمانوں کے امور میں راست مداخلت کر رہی ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ چینی ساختہ اشیاء کے بائیکاٹ کی صورت میں حالات قابو میں لائے جا سکتے ہیں کیونکہ ہندستان میں نہ صرف چین بلکہ کئی دیگر ممالک سے سامان کی آمد ممکن ہے۔مولانا جعفر پاشاہ کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم دشمن ممالک کی معیشت کو ضرب لگانا ہی ان سے حقیقی مقابلہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT