Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / چین‘ امریکہ اور ہندوستان کیلئے مشترک پریشانی

چین‘ امریکہ اور ہندوستان کیلئے مشترک پریشانی

سابق نائب وزیر خارجہ نکولس برنس کے مضمون کی واشنگٹن پوسٹ میں اشاعت
واشنگٹن ۔5جون ( سیاست ڈاٹ کام)  ہندوستان اور امریکہ کو ایک ہی قسم کی الجھن کا سامنا ہے کہ ایشیاء میں چین کی تازہ جارحیت کا مقابلہ کیسے کیا جائے ۔ ایک سابق اعلیٰ سطحی امریکی سفارت کار نے کہا کہ وہ مستحکم ہند ۔ امریکہ تعلقات کی تائید کرتا ہے ۔جب وزیراعظم مودی اور صدر امریکہ بارک اوباما کی اوول آفس میں ملاقات ہوئی تو دونوں ممالک کو جس مشترکہ پریشانی کا سامنا ہے اس کا تذکرہ آیا ۔ ایشیاء میں چین نے تازہ جارحیت کا آغاز کردیا ہے ۔ سابق نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی اُمور نکولس برنس نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک ہی قسم کی پریشانی کا سامنا ہے ۔ برنس نے احساس ظاہر کیا کہ ان کے سامنے کوئی متبادل راستہ نہیں ہے ۔ انہیں تجارت ‘ عالمی معاشی استحکام اور تبدیلی ماحولیات کے شعبوں میں چین سے مقابلہ کرنا پڑے گا کیونکہ چین بین الاقوامی سطح پر زیادہ وزن اور اثر و رسوخ حاصل کررہا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ امریکہ اور ہندوستان سمجھا جاتا ہے کہ چین کی جانب سے ویٹنام کو دھمکیاں دینے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے جس کی شدید ضرورت ہے ۔ چین ویٹنام کے علاوہ فلپائن اور دیگر ممالک کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ جنوبی بحر چین میں جزیرے تعمیر کررہا ہے ۔ برنس نے پیر کے دن واشنگٹن پوسٹ کیلئے ایک مضمون تحریر کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع ایسٹن کارٹر خاص طور پر موثر کردار ادا کررہے ہیں اور زیادہ متحدہ امریکی فوجی تعاون ہندوستان کے ساتھ کرنے کی راہ ہموار کررہے ہیں لیکن امریکہ کے اس رویہ میں بعض سینئر ہندوستانی رکاوٹ پیدا کررہے ہیں جو ایک طویل عرصہ سے اس بحث میں شامل ہیں کہ انہیں امریکہ کے ساتھ روابط میں استحکام پیدا کرنا نہیں چاہیئے کیونکہ اس سے ہندوستان کی روایتی غیر جانبداری متاثر ہوگی ۔ حالانکہ دونوں ممالک میں اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن برنس کا کہنا ہے کہ اُن کی ٹھوس جمہوری بنیاد کی وجہ سے امریکہ اور ہندوستان بہترین موقف میں ہے کہ جاریہ صدی میں پوری دنیا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا ہندوستان میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنا اوباما کے مقررہ نشانہ کی جھلک رکھتا ہے ۔ قبل ازیں ان کے پیشرو جارج بش نے بھی ایک مستحکم ہندوستان کو امریکہ کے قومی مفاد میں قرار دیا تھا ۔ درحقیقت وزیراعظم کی خارجہ پالیسی جس میںانہوں نے خود ہندوستان میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے کی اپیل کی ہے ان کے عزائم کی عکاسی کرتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT