Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / چین اور بنگلہ دیش کے مابین 20 ارب ڈالر مالیتی 40 سمجھوتے

چین اور بنگلہ دیش کے مابین 20 ارب ڈالر مالیتی 40 سمجھوتے

باہمی تعلقات کو حکمت عملی کی رفاقت تک وسعت، چینی اقتصادی راہداری کو ڈھاکہ کی تائید

ڈھاکہ ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش اور چین نے انفراسٹرکچر شعبہ میں قرض اور سرمایہ کاری معاملتوں کے بشمول آج 20 ارب امریکی ڈالر مالیتی 40 سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں۔ وزیراعظم شیخ حسینہ نے چین صدر ژی جن پنگ کی بات کے بعد دونوں ملکوں نے باہمی تعلقات کو حکمت عملی کی رفاقت تک وسعت بھی دی ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ سے بات چیت کے بعد چینی صدر ژی جن پنگ نے کہا کہ ’’ہم نے تعاون کی قریبی جامع رفاقت کو حکمت عملی تک فروغ دینے کے علاوہ اعلیٰ سطحی تبادلوں میں اضافہ اور حکمت عملی کے مواصلات میں اضافہ سے اتفاق کرلیا ہے تاکہ ہمارے باہمی تعلقات کو مزید اعلیٰ سطح تک آگے بڑھایا جائے‘‘۔

صدر ژی نے کہا کہ ’’چین ۔ بنگلہ د یش اب ایک جدید تاریخی نقطہ آغاز پر پہنچ گئے ہیں اور ایک پرامید مستقبل کی سمت پیشرفت کررہے ہیں۔ شیخ حسینہ اور ژی جن پنگ نے باہمی مذاکرات کے بعد دونوں حکومتوں کے علاوہ چین کی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ 27 سمجھوتوں پر دستخطوں کا مشاہدہ کیا۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیش کے خانگی کمپنیوں کے ساتھ بھی 13 سمجھوتے کئے گئے۔ بنگلہ دیش وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’یہ سمجھوتے 20 ارب امریکی ڈالر مالیتی ہوسکتے ہیں۔ ان میں ایسے بڑے پراجکٹس بھی شامل ہیں جنہیں قرض کی ضرورت ہے‘‘۔ تاہم معتمد خارجہ شہیدالحق نے ان سمجھوتوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران ان معاملتوں کی مالیت بیان کرنے سے گریز کو ترجیح دی۔ ایک اور اہم پیشرفت میں بنگلہ دیش نے ژی جن پنگ کے پسندیدہ بیلٹ اینڈ روڈ پراجکٹ کی تائید کی حالانکہ ہندوستان ماضی میںاس پراجکٹ پر شکوک، اندیشے اور تشویش ظاہر کرچکا ہے۔ شیخ حسینہ نے کہا کہ صدر ژی کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ پراجکٹ کے تحت بنگلہ دیش بھی چین کے ساتھ سرگرم انداز میں کام کرنے تیار ہے۔ نیز بنگلہ دیش، چیف ہند اور مائنمار کو مربوط کرنے والی اقتصادی راہداری کی تعمیر کی تائید کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT