Monday , September 25 2017
Home / کھیل کی خبریں / چین ریواولمپکس میں ناقص مظاہرہ پر حیران

چین ریواولمپکس میں ناقص مظاہرہ پر حیران

ناکامیوں کے اسباب کا پتہ چلایا جائے گا ، سخت مسابقت اہم وجہ
ریوڈی جنیرو ۔ 21اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) چین نے ریو میں ناقص مظاہرہ کیلئے انتہائی سخت مسابقت کو مورد الزام قرار دیا اور کہا کہ 20 سال میں پہلی مرتبہ بدترین اولمپک مظاہرہ کے اسباب کا پتہ چلایا جائے گا ۔ چین کے 410 اتھلیٹس ریو اولمپکس میں حصہ لے رہے ہیں اور یہ سب سے بڑی غیرملکی اولمپک ٹیم ہے پھر بھی اسے صرف 24 گولڈ میڈل حاصل ہوئے۔ اٹلانٹا 1996 ء کے بعد یہ اب تک کی سب سے کم تعداد ہے ۔ میڈل کے جدول میں چین نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ سے بھی پیچھے ہے اور ملکی میڈیا میں ان خبروں کو بہت زیادہ نمایاں کیا جارہا ہے ۔ چین 2008 ء اولمپکس میں میڈلس کے جدول میں سرفہرست تھا ، 2004 ء اور 2012 ء میں وہ دوسرے مقام پر رہا ۔ چین کی اولمپک کمیٹی کے سربراہ لیئو پینگ نے کہاکہ معیار میں اضافہ نے ہم سب کو حیرت سے دوچار کردیا ۔ چند ایسے مسائل ہیں جنھیں ہم نظرانداز نہیں کرسکتے ۔ ریوگیمز میں ہم نے زیادہ میڈلس حاصل نہیں کئے ۔ ہم نے ان گیمز میں جس طرح کے چیلنجس درپیش ہوں گے اس کا صحیح اندازہ نہیں کیا ۔ حالیہ چند سال کے دوران کئی ممالک نے اولمپک گیمز کو اہمیت دینا شروع کردیا ہے ، لہذا بین الاقوامی سطح پر کھیل کا معیار اونچا ہوگیا اور مسابقت بھی کافی بڑھ گئی ہے ۔ ہمیں اپنی ذہنیت تبدیل کرتے ہوئے نئے حالات کے مطابق تیاریاں کرنی ہوگی ۔ لیوا نے کہاکہ ناتجربہ کاروں نے چین کو نقصان پہنچایا ۔ ہمارے اتھلیٹس میں تین تہائی پہلی مرتبہ اولمپکس میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ہم نے انھیں ٹریننگ دی لیکن صرف ٹریننگ ہی کافی نہیں ۔ ریو میں چین نے اب تک 26 گولڈ میڈل جیتے ہیں اور اٹلانٹا 1996 ء کے بعد چین کا یہ بدترین مظاہرہ رہا ہے ۔ برطانیہ نے جہاں 27 گولڈ میڈل جیتے وہیں امریکہ نے 43 گولڈ میڈل جیتے ہیں۔

ریو گیمس سے قبل چین کو یہ یقین تھا کہ وہ سرفہرست یا کم از کم دوسرے نمبر پر رہے گا لیکن حیرت انگیز طورپر اُس کا مظاہرہ ناقص رہا اور بالخصوص جمناسٹک و بیاڈمنٹن میں اتھلیٹس نے اچھا کھیل نہیں پیش کیا۔ چین کے ٹاپ بیاڈمنٹن اسٹار لین ڈانگ نے ہندوستان کے سری کانت کو ایک سخت مقابلے میں شکست دی لیکن وہ برونز بھی نہیں جیت پائے ۔ ریو اولمپکس میں برطانیہ اس وقت دوسرا مقام حاصل کئے ہوئے ہے ۔ سرکاری خبررساں ایجنسی ژنہوا نے ٹوئٹر پر اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مظاہرہ بالکل ناقص رہا ۔ ایک ایسا ملک جو کبھی چین سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا وہ اب ہم سے آگے نکل چکا ہے ۔ بی بی سی نے ژنہوا کے ٹوئٹس کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ چین نے ریو گیمز میں جملہ 710 اتھلیٹس ، کوچس اور عہدیداروں کو روانہ کیا ۔ اس کے وفد میں 35 اولمپک گولڈ میڈلسٹ بھی شامل تھے۔ ملک میں ریو اولمپکس کے ناقص مظاہرہ کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اُن کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی وجہ سے اتھلیٹس نے مایوس کن مظاہرہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT