Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / چین سے تعطل ‘ کشمیر کی صورتحال پر اپوزیشن کو واقف کروانے کا فیصلہ

چین سے تعطل ‘ کشمیر کی صورتحال پر اپوزیشن کو واقف کروانے کا فیصلہ

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ سشما سوراج کی آج سیاسی قائدین سے ملاقات ۔ پارلیمنٹ سیشن سے قبل اقدام

نئی دہلی 13 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ سشما سوراج اپوزیشن جماعتوں کو چین کے ساتھ جاری تعطل اور کشمیر کی صورتحال سے واقف کروائیں گے ۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کو کل ایک اجلاس کیلئے مدعو کیا جا رہا ہے جہاں دو سینئر وزرا ہند ۔ چین سرحد پر پائی جانے والی صورتحال اور جموں و کشمیر کی صورتحال سے واقف کروانے کے علاوہ حکومت کی جانب سے کی گئی کارروائیوں سے بھی واقف کروائیں گے ۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا پیر سے آغاز ہونے والا ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ اس سشن سے قبل سرحد کی صورتحال کے تعلق سے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہتا ہے ۔ فی الحال ہندوستان کے سب سے بڑے پڑوسی ملک چین اور جموں و کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کو اس کی مبینہ نا اہلی پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ فی الحال جاری تنازعہ کے دوران ہندوستان نے چین کی جانب سے ہند ۔ بھوٹان ۔ تبت سہ فریقی جنکشن کی صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بھوٹان سہ فریقی جنکشن کے قریب ڈوکلام علاقہ میں پیدا ہوئے تعطل پر ہندوستان اور چین کے مابین گذشتہ تین ہفتوں سے تنازعہ چل رہا ہے ۔ یہاں چینی فوج کی جانب سے ایک روڈ تعمیر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

ڈوکا لا اس علاقہ کا ہندوستانی نام ہے جبکہ اس علاقہ کو بھوٹان ڈوکلام کا نام دیتا ہے جبکہ چین کا ادعا ہے کہ یہ ڈونلنگ علاقہ کا حصہ ہے ۔ جموں و کشمیر میںاننت ناگ ضلع میں امرناتھ یاترا سے واپس ہونے والے سات یاتری ایک دہشت گردانہ حملہ میں جمعہ کو ہلاک ہوگئے تھے ۔ ریاست میں چار اضلاع پلواما ‘ کلگام ‘ شوپیان اور اننت ناگ میں گذشتہ سال جولائی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے حالات انتہائی ابتر ہیں اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے ۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پانچ ماہ تک وادی میں تشدد کا سلسلہ جاری رہا تھا اور اس میں جملہ 67 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے ۔ یہ تشدد دوبارہ 9 اپریل کو شروع ہوا تھا جب سرینگر لوک سبھا حلقہ کیلئے ضمنی انتخاب ہوا تھا ۔ ملک میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا کہ اس نے چین اور جموں و کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کی چین کے مسئلہ پر خاموشی پر سوال اٹھایا تھا ۔ کانگریس کے نائب صدر نے ہندوستان میںچینی سفیر سے بھی اس مسئلہ پر ملاقات کی تھی ۔ راہول گاندھی نے کل نریندرمودی پر ایسی پالیسیاں اختیار کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس سے کشمیر میں دہشت گردوں کیلئے حالات سازگار ہو رہے تھے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ نریندر مودی بی جے پی ۔ پی ڈی پی اتحاد کیلئے مختصر مدتی سیاسی فائدہ کو یقینی بنانے والی پالیسیاں اختیار کر رہے ہیں اور اس کی ملک کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ مرکزی حکومت کی اس طرح کی پالیسیوں کے نتیجہ میں معصوم ہندوستانیوں کو قربانیاں دینی پڑ رہی ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو چین اور جموںو کشمیر کے مسئلہ پر حالات سے واقف کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT