Friday , August 18 2017
Home / مضامین / چین سے دوری، امریکہ سے قربت خارجہ پالیسی میں عدم توازن

چین سے دوری، امریکہ سے قربت خارجہ پالیسی میں عدم توازن

 

غضنفر علی خاں
عام طورپر یہ تاثر گہرا ہوتا جارہا ہے کہ وزیراعظم داخلی امور اور مسائل سے زیادہ خارجی امور اور پالیسی کی تشکیل جدید میںدلچسپی لے رہے ہیں، ان کے متواتر بیرونی دوروں نے سیاسی مبصرین میں یہ احساس گہرا کردیا ہے کہ وہ بار بار بیرونی دوروں پر جارہے ہیں۔ ان کے دو سالہ دور حکومت میں وزیراعظم مودی نے جتنے دورے کئے ہیں، کسی وزیراعظم نے نہیں کئے ۔ ایک ہی دورہ کے موقع پر وہ ایک سے زیادہ ممالک جاتے ہیں ۔ ان کا یہ عمل گنیز ریکارڈ بک میں درج کیا جانا چاہئے ۔ اس کی بظاہر ایک وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ داخلی مسائل، ان کی پارٹی کے ’’بے لگام‘‘ لیڈر پیدا کر رہے ہیں جن پر مودی کا زور نہیں چلتا۔ بعض وقت تو اعلانیہ طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مودی کی ہر پالیسی کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ا یس کے ہیڈکوارٹر ناگپور میں ہے ۔ وہاں سے جو کہا جاتا ہے وہ اس پر بلا چوں و چرا عمل کرتے ہیں ۔ بنیادی طور پر بی جے پی ’’پونچی پتی‘‘ لیڈروں پر منحصر ہے اور وہ اذہان جو سیدھے بازو کی سوچ رکھتے ہیں ، ان کا رجحان امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی اور دیگر خوشحال یوروپی ممالک کی جانب ہوتا ہے ۔ انہیں نہ تیسری دنیا کی فکر ہوتی ہے اور نہ معاشی طور پر ہندوستان کی طرح کمزور ممالک کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں عدم توازن کی کیفیت بڑی تیزی سے پیدا ہورہی ہے ۔ وزیراعظم نے اپنے دو سالہ دور حکومت میں چار مرتبہ امریکہ کے صدر اوباما سے ملاقات کی۔ ایک قومی اخبار نے بطور طنز لکھا تھا کہ ایک وزیراعظم، 4 دورے ، 6 ممالک، اس شدت سے تو دنیا کا کوئی سربراہ بیرون ممالک کا دورہ نہیں کرتا۔ کرے گا بھی کیسے ، ہر سربراہ مملکت کو اپنے ملک کے مسائل کی یکسوئی کیلئے اپنے ہی ملک میں زیادہ وقت گزارنا پڑتا ہے لیکن جس ملک کے وزیراعظم خود اندرون مسائل میں دخل اندازی سے گریز کرے اس کو بیرون ممالک ہی میں ’’وقت گزاری‘‘ کرنی پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں مسٹر مودی اپنے دورہ کے دوران امریکہ کو یا اس کے حامی یا حاشیہ بردار ممالک کو جانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جغرافیائی نقطہ نظر سے ہمارے لئے سب سے خطرناک پڑوسی چین ہے۔ یہ نہ صرف براعظم ایشیا کا نہایت طاقتور ملک ہے بلکہ عالمی سطح پر رفتہ رفتہ چین اپنا موقف مضبوط کر رہا ہے ۔ چین نے اقوام متحدہ کی رکنیت کے ساتھ ہی اس کے سب سے طاقتور ادارہ ’’سیکوریٹی کونسل‘‘ کی رکنیت بھی حاصل کرلی تھی ۔ سیکوریٹی کونسل کی رکنیت کا مطلب ہی یہی ہے کہ ایسا کوئی بھی رکن ملک دنیا کے ہر اہم مسئلہ میں فیصلہ کن موقف رکھتا ہے ۔ اس کو ویٹو پاور حاصل ہوتا ہے،

کسی بھی عالمی نوعیت کے مسئلہ پر یہ ملک ویٹو کے استعمال سے مسئلہ کی یکسوئی کی نوعیت ہی بدل دے سکتا ہے ۔ چین کا بھی یہی موقف ہے ۔ چین ہمارا قریبی پڑوسی ہے لیکن انتہائی جارحیت پسند اور توسیع پسند ملک ہے ۔ چین سے ہماری 1962 ء میں جنگ ہوچکی ہے جس میں ہم کو شرمناک شکست ہوئی تھی ۔ اس جنگ میں ہندوستان کے سینکڑوں مربع میل زمین پر چین نے قبضہ کرلیا تھا ۔ آج بھی سرحدی ریاست اروناچل کے علاقوں پر چین ہی کا قبضہ وو تسلط ہے۔ یہ ہند۔چین سرحدی مسئلہ اس جنگ کے بعد سے آج تک حل نہیں ہوا۔ ابھی پچھلے ہفتہ چین کے سینکڑوں سپاہی ہماری اس ریاست کے علاقوں میں گھس آئے تھے ۔ وہاں چینی فوج کی چوکیاں بھی قائم ہیں۔ اتنی کشیدگی کے باوجود وزیراعظم چین سے نئی مفاہمت کرنے کے بجائے ہندوستان اور چین میں تصادم کو بڑھاوا دے رہے ہیں یا کم از کم یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ  جو قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش جاری رکھی ہے

اس سے یہی تاثر پیدا ہورہا ہے کہ ہندوستان پڑوسی ملک چین سے دور اور دورافتادہ امریکہ سے قربتیں بڑھا رہا ہے ۔ امریکہ کبھی کسی کا قابل اعتماد دوست نہیں ہوسکتا۔ ویتنام جنگ سے لیکر حالیہ برسوں میں امریکہ نے آزاد ، خود مختار غیر جانبدار ممالک کی آزادی غصب کی ہے ۔ ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ’’امریکہ کو اپنے آپ کے سوا کسی بھی ملک سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ صرف اس لئے کہ امریکہ نے نیوکلیئر سپلائر گروپ‘‘ میں ہندوستان کے داخلہ یا اس گروپ کی رکنیت کیلئے مثبت رویہ اختیار کیا ہے ۔ ہماری خارجی پالیسی کے توازن کو بگاڑنے کا سبب نہیں بن سکتا جس این ایس جی گروپ کی رکنیت کیلئے امریکہ نے ہندوستان کی تائید کی ہے ۔ اس کی انتہائی شدت کے ساتھ چین نے مخالفت کی ہے ۔ اس گروپ میں وہ ممالک بھی شامل ہے جنہوں نے نیوکلیئر اسلحہ کے عدم پھیلاؤ معاہدہ پر دستخط نہیں کئے ہیں اور ان ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے ۔ چین کیوں ہندوستان کی مخالفت کر رہا ہے ۔ یہ ایک علحدہ تفصیل طلب مسئلہ ہے لیکن یہ بات ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ایک ایسے ناقابل اعتماد اور جارحیت پسند ملک چین سے نئی چھیڑ چھاڑ ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے ۔ یہ رائے بڑی تیزی سے عام ہورہی ہے کہ خارجہ حکمت عملی میں توازن بگڑ رہا ہے۔ ہم امریکہ سے جتنا قریب ہوں گے چین بلکہ روس کے ساتھ ہمارے فاصلے بڑھیںگے۔ امریکہ اور روس میں آج کے دور کی سرحد جنگ پھر شروع ہوگئی ، جو  پہلے کی سرد جنگ سے مختلف ضرورہے لیکن تاثر میں دونوں جنگیں یکساں ہیں۔

ہم کیوں اس کشاکش میں کوئی فریق نہیں،ہمیں اپنا غیر وابستگی کا موقف اس طرح برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جس طرح سابق میں تھا۔ ایک بات اور بھی اہم ہے فی الحال چین اور ہمارے دوسرے قریبی پڑوسی ملک پاکستان کے درمیان بڑی دوستی اور اشتراک و تعاون کی فضا بن رہی ہے ۔ پاکستان بھی ہمارا با اعتماد  و پڑوسی نہیں ہے ۔ ہزار کوششوںکے باوجود پاکستان ہمارا دوست ملک نہیں بن سکا۔ آج بھی پاکستان ہمارے قومی مفادات کے مغائر کام کرتاہے۔ پاک۔چین دوستی ہمارے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ دونوں بڑی حد تک ایک ہی قسم کے ممالک ہیں ۔ پاکستان این ایس جی گروپ کی رکنیت کے دعویٰ کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہا ہے ۔ چین ہماری رکنیت کا شدید مخالف ہے ۔ گروپ میں شامل کچھ ممالک نے چین کے موقف کی تائید بھی کی ہے ۔ ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس گروپ کی رکنیت کا مسئلہ کھٹائی میں پڑجائے گا ۔ پاکستان سے تو خیر ہم نمٹ  لیں گے حالانکہ حالیہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے پاس نیوکلیئر ہم سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومت پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنے کے موقف میں نہیں ہے کہ نیوکلیئر اسلحہ کا کوئی استعمال نہیں ہوگا ۔ اگر ایسا کوئی تصادم ہوتا ہے تو اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئے ۔ چین ۔ پاکستان کی پشت پناہی کرنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔ اس وقت خارجہ حکمت عملی میں توازن کا بگاڑ ہمارے لئے بدبختانہ بات ہوگی۔ چین قریبی پڑوسی ہے ۔ چین کو یہ بھی اندازہ ہے کہ جارحیت کی صورت میں امریکہ کچھ بھی نہیں کرسکتا ہے ۔ ہند۔امریکہ دوستی معاشی طور پر مستحکم ہے تو کوئی بات نہیں لیکن چین جیسے ’’دشمن نما دوست ‘‘ سے یہ چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT