Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / چین میں کیمیائی مادوں کے گودام میں دو زبردست دھماکے، 50ہلاک

چین میں کیمیائی مادوں کے گودام میں دو زبردست دھماکے، 50ہلاک

TIANJIN, AUG 13:- Damaged cars are seen as smoke rises from the debris after the explosions at the Binhai new district in Tianjin, China, August 13, 2015. Two massive explosions caused by flammable goods ripped through an industrial area in the northeast Chinese port city of Tianjin late on Wednesday, killing 17 people and injuring as many as 400, official Chinese media reported. REUTERS/UNI PHOTO-1R

۔700افراد زخمی، 66 کی حالت نازک

بیجنگ 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) کیمیائی اور زہریلے مادے رکھنے کے لئے استعمال کئے جانے والے گودام میں ہوئے زبردست دوہرے دھماکہ میں کم و بیش 50 افراد ہلاک جبکہ 700 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 66 افراد کے زخم شدید نوعیت کے ہیں۔ یہ حادثہ چین کے بندرگاہی شہر تیانین میں رونما ہوا۔ دھماکہ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روہائی ویز ہاؤس کے پرخچے اُڑ گئے جہاں خطرناک اشیاء کا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکہ سے قبل آگ لگنے کا واقعہ بھی رونما ہوا تھا۔ آگ کی شدت کی وجہ سے وہاں موجود کیمیائی اور زہریلے مادے بھی اُس کی زد میں آگئے۔ بچاؤ کاری عملہ نے یہ بات بتائی۔ یہ تمام تفصیلات ژینہوا خبررساں ایجنسی نے وہاں موجود عینی شاہدین کے حوالہ سے فراہم کیں۔

44 افراد میں 12 افراد کا تعلق آتش فرو عملہ سے تھا۔ ان تمام اشیاء کا مختلف کنٹینرس میں ذخیرہ کیا گیا تھا جن کے بعد دو زور دار دھماکے ہوئے۔ گودام کے آس پاس کے علاقوں میں رہائش پذیر 10 ہزار افراد کا وہاں سے تخلیہ کروایا گیا جبکہ 66 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ سی سی ٹی وی کا جو فوٹیج جاری کیا گیا ہے اس میں دھویں کے مرغولے اُٹھتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق آگ پر ہنوز قابو نہیں پایا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لئے پانی کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے کیوں کہ وہاں دھماکو مادوں کا بہت بڑا اسٹاک موجود ہے۔ آگ بجھانے کے لئے ریت اور دیگر اشیاء کا استعمال کیا جارہا ہے۔ زخمیوں کو شہر کے مختلف ہاسپٹلس میں شریک کیا گیا ہے

جہاں مریضوں کے وارڈ میں ہر طرف خون بکھرا ہوا دیکھا گیا کیوں کہ ہاسپٹل پہنچنے کے بعد بھی زخمیوں کے جسم سے خون کا اخراج جاری تھا۔ دریں اثناء ٹائڈا ہاسپٹل کے سربراہ لویون جہاں زائداز 150 زخمیوں کو شریک کیا گیا ہے، ژینہوا خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ زیادہ تر لوگ ٹوٹے ہوئے شیشوں اور پتھروں کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ اس مہیب آتشزدگی میں زائد از نئی ایک ہزار کاریں جل کر خاکستر ہوگئی ہیں۔ ان کاروں کو کھلے مقام پر رکھا گیا تھا جو آگ لگنے کے گوداموں کے قریب واقع ہے۔ کاروں کی لمبی قطاریں یکایک آگ کی لپیٹ میں آگئیں اور شعلے بلند ہوگئے جس کے ساتھ ہی آسمانوں پر کثیف دھواں اٹھنے لگا۔ چین کے شہر تیانین میں زائد از 15 ملین افراد کی آبادی ہے۔ یہ سب سے بڑا بندرگاہی اور صنعتیں علاقہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT