Sunday , September 24 2017
Home / اداریہ / چین کی در اندازی ۔ مودی حکومت کی خاموشی

چین کی در اندازی ۔ مودی حکومت کی خاموشی

اس دورِ ترقی کی ہے بنیاد ہی سائنس
تعمیر کا امکان ، تباہی کے بھی آثار
چین کی در اندازی ۔ مودی حکومت کی خاموشی
وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر چین ژی ژپنگ نے برکس ممالک کے رسمی اجلاس کے موقع پر ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی ۔ بدقسمتی سے سکم کے قریب سرحد پر ہند ۔ چین کے درمیان طویل تعطل کے باوجود وزیراعظم مودی نے صدر چین کے سامنے چین کی فوجی دراندازی کے بارے میں اُف تک نہیں کیا ۔ البتہ ان کے ایجنڈہ میں صرف پاکستان کو نشانہ بنانا تھا ۔ گذشتہ ماہ سکم سے متصل سرحدی علاقہ میں جب سے تعطل پیدا ہوا ہے چین نے ہندوستان کو سلسلہ وار دھمکیاں بھی دی ہیں اور اس سے کہا ہے کہ وہ ڈوکلم سے اپنی فوج ہٹالے ۔ سکم کے قریب کے اس علاقہ پر چین نے اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے ۔ ہندوستانی فوج نے جون کے اوائل میں اس علاقہ پر پہونچکر چین کی فوج کی جانب سے تعمیر کی جانے والی سڑک کو رکوانے کی کوشش کی تھی لیکن ایسا نہ ہونے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ۔ سرحدی بالادستی دکھانے والی چین کی فوج نے سکم کے علاقہ میں دراندازی بھی کی ہے ۔ وزیراعظم مودی کو عالمی سطح پر اس مسئلہ کو چین کے صدر کے سامنے اٹھانے کا موقع ملا تھا لیکن انہوں نے صرف مصافحہ کرنے پر ہی اکتفا کیا ۔ اپوزیشن کانگریس کو بھی وزیراعظم مودی کے اس رویہ پر اعتراض ہے کیوں کہ چین کی دراندازیاں بڑھتی جارہی ہیں اور ہندوستانی وزیراعظم اس مسئلہ پر عالمی فورم اور اندرون ملک ’ چپ ‘ ہیں ۔ ان کی یہ خاموشی چین کی بالادستی کی توثیق کرتی ہے ۔ چین اس طرح کی حرکت کسی بھی وقت کرتا رہتا ہے ۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ چین کا یہ ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ وہ طاقت یادولت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے علاوہ چین اپنی سرحدی پالیسی اور جارحیت کے مظاہرہ کے ذریعہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں کمپنیوں کو آگے قدم اٹھانے سے باز رکھنے کی بھی درپردہ کوشش کرتا ہے ۔ چین نہیں چاہتا کہ ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کو اطمینان بخش فضا دستیاب رہے ۔ سکم معاملہ میں ہندوستان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم رکھنے والے چین کے سامنے وزیراعظم مودی کا مودبانہ طریقہ سے گھٹنے ٹیک دینا افسوسناک ہے ۔ چین جارحانہ طور پر ہندوستانی سرحدوں پر خلاف ورزیاں کررہا ہے اور یہ صورتحال نئی دہلی کے لیے ’ سنگین ‘ نوعیت رکھتی ہے ۔ جی 20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر صدر چین سے سکم سرحدی تنازعہ کے بارے میں بات چیت کی جانی چاہئے تھی لیکن اس موقع کو گنوادیا گیا۔ اس تناظر میں اپوزیشن کانگریس نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ چین کی دراندازیوں کے تعلق سے غافلانہ اور بزدلانہ مظاہرہ کررہی ہے ۔ گذشتہ 45 دن میں سرحد پر چین کی جانب سے زائد از 120 مرتبہ دراندازی ہوئی ہیں ۔ ہندوستانی بنکروں کو تباہ کیا گیا ہے ۔ چین بظاہر جنگ کی تیاریوں کا مظاہرہ کررہا ہے اس کے جواب میں وزیراعظم مودی نرمی اور خوش دلی کے ساتھ صدر چین سے مصافحہ کو ہی عافیت جان کر چین کی جارحیت اور بالادستی کو تسلیم کرچکے ہیں ۔ چین کی واضح اشتعال انگیزی اور چین کے سفیر کی ہندوستان کے خلاف تلخ بیانی قابل نوٹ ہے ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے آخر مودی حکومت نے کیا قدم اٹھائے ہیں یہ غیر واضح ہے ۔ عمل سے زیادہ مودی کو وعدوں اور دعوؤں کے ساتھ بیرونی دورے کرتے دیکھا جارہا ہے ۔ چین نے 2013 میں بھی ڈمچک میں دراندازی کی تھی ۔ جولائی 2014 میں سرحدی علاقہ میں ایسے ہی واقعات رونما ہوئے تھے ۔ یہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعہ حل کیے جاسکتے ہیں ۔ لیکن ستمبر 2014 میں چمور میں چین کی دراندازی دانستہ اور منظم طریقہ سے کی گئی تھی ۔ سینکڑوں سپاہیوں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا تھا ۔ سرحد پر دونوں ممالک کی سینکڑوں سپاہی آمنا سامنا کررہے ہیں لیکن عالمی سطح پر وزیراعظم مودی نے چین کے مسئلہ کو ہرگز نہ اٹھا کر پڑوسی ملک کی جارحیت کو تسلیم کرنے کا ثبوت فراہم کیا ہے ۔ وزیراعظم مودی ہر بات کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جب کہ حکومت کے سینے پر چین کی فوج نے جس طرح کی ضرب پہونچائی ہے وہ اس مرتبہ مختلف دکھائی دیتی ہے ۔ وزیراعظم مودی نے ہندوستانی علاقہ کے تحفظ اور اس کے وقار کی برقراری کو یقینی بنانے کی کوشش نہیں کی ۔ ایشیائی خطہ میں دو اُبھرتی طاقتوں کے درمیان اس طرح کی کشیدہ صورتحال آگے چل کر تشویشناک ثابت ہوتی ہے تو یہ مودی حکومت کی غفلت اور نادانیوں کا نتیجہ ہوگی ۔ پاکستان پر اپنی توجہ مرکوز کرچکی مودی حکومت ، چین سے غافل رہ کر ہندوستان کو سبق سکھانے چین کے منصوبہ کو تقویت دینے کا کام کررہی ہے ۔۔
ملک کی نصف آبادی جی ایس ٹی سے ناواقف
جی ایس ٹی کے بارے میں ملک کی نصف آبادی کے لا علم ہونے کے درمیان یکم جولائی سے نافذ العمل اس ٹیکس نظام نے ملک بھر میں اُدھم مچادی ہے ۔ چھوٹے دوکانات اور بڑے ادارہ جات اپنے کاروبار سے جی ایس ٹی کو مربوط کرنے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہیں ۔ مگر یہ ایک آسان کام دکھائی نہیں دیتا ۔ صرف حکومت ہی اس ٹیکس نظام کو آسان بتارہی ہے تاکہ عوام کے درد کو عیاں ہونے سے روک سکے ۔ حالیہ برسوں میں ہندوستانی معیشت کو بہتر بنانے کی جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں ان میں کس حد تک کامیابی ملی ہے یہ غیر واضح ہے ۔ اب موجودہ جی ایس ٹی کے ذریعہ معاشی اصلاحات کا بڑا قدم اٹھایا گیا ہے تو ایک عصری ، مسابقتی معیشت کی تعمیر کی جانب حکومت کی کوششوں میں کامیابی کی توقع کی جانی چاہئے ۔ لیکن یہ کوشش جی ایس ٹی کے نفآذ کے بعد برآمد ہونے والے نتائج کا آئینہ ہوں گی ۔ نوٹ بندی کے ذریعہ ملک کے عوام کو پریشان کرنے والی حکومت نے جی ایس ٹی کا ہتھوڑا مارا ہے تو غریب عوام ہی متاثر ہوں گے ۔ تاجر طبقہ بھی جی ایس ٹی کے ذریعہ زائد منافع حاصل کرنے سے زیادہ اس ٹیکس نظام کو سمجھنے میں الجھا ہوا ہے ۔ جی ایس ٹی کو اگرچیکہ ملک کا سب سے بڑا معاشی اصلاحات کا قدم کہا جارہا ہے لیکن سروے سے ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک کی 60 فیصد آبادی ہنوز جی ایس ٹی کے نفع نقصان سے واقف نہیں ہے ۔ ٹیکس اصلاحات کے میدان میں انقلاب لانے کا مطلب یکم جولائی سے واحد یکساں ٹیکس ڈھانچہ کا نفاذ ہوا ۔ جی ایس ٹی کو موافق غریب قانون بتانے والے سرکاری اداروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ہندوستان کی نصف آبادی سے تعلق رکھنے والے عوام کو آگے چل کر کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT