Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / چین کی ’’ہر موسم‘‘ کے دوست پاکستان کیساتھ بڑھتی ہوئی دفاعی قربتیں

چین کی ’’ہر موسم‘‘ کے دوست پاکستان کیساتھ بڑھتی ہوئی دفاعی قربتیں

ہندوستان کے اگنی میزائیل V کی تیاری کا ردعمل یا چین ۔ پاکستان معاشی راہداری کا تحفظ؟

بیجنگ ۔ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چین اپنے ’’ہرموسم‘‘ کے دوست ملک پاکستان کے ساتھ فوجی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں کی شراکت داری کے ذریعہ بالسٹک میزائلس، کروز میزائلس اور ایک ہمہ مقصدی لڑاکو طیارہ تیار کئے جاسکیں۔ میڈیا میں یہ خبریں اس وقت ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے تحت گشت کررہی ہیں جبکہ پاکستان کے نئے فوجی سربراہ کی چینی عہدیداروں سے بات چیت کو بھی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کچھ عرصہ قبل ہی پاکستانی افواج کی باگ ڈور سنبھالی تھی جس کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ چین ہے جہاں انہوں نے چین کے چیف آف دی جوائنٹ اسٹاف ڈپارٹمنٹ جنرل فانگ نینگوئی سے ملاقات کی جس کا اہتمام سنٹرل ملٹری کمیشن کی زیرنگرانی کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں باجوہ نے چین کے ایگزیکیٹیو نائب وزیراعظم ژانگ گاؤلی، سنٹرل ملٹری کمیشن کے نائب صدرنشین جنرل فانگ چانکلانگ اور پیوپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر جنرل لی ژوچینگ سے بھی ملاقات کرتے ہوئے علاقائی سیکوریٹی، معاشی دفاعی تعاون اور مشترکہ مفاد کے دیگر موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی۔ اس موقع پر مسٹر فانگ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری میں بھی پاکستان جیسے ’’ہرموسم‘‘ کے دوست کے ساتھ حکمت عملی شراکت داری مختلف تبدیلیوں کے باوجود جوں کی توں موجود ہے۔ دوسری طرف بات چیت کے ذریعہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تبادلوں کو فروغ حاصل ہوگا اور اس میں مزید پختگی پیدا ہوگی جبکہ فوج میں استعمال کی جانے والی  نئی تکنیکوں پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔ یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ ایک فوجی ماہر جس نے سیکنڈ آرٹیلری کارپس (جسے اب پی ایل اے راکٹ فورس کے نام سے جانا جاتا ہے) میں خدمات انجام دے چکے سانگ ژونگ پنگ نے کہی۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان عصری ہتھیاروں کا تبادلہ جن میں FC-1 ژیاؤلانگ بھی شامل ہے، جسے پاکستان میں JF-17 تھنڈر کہا  جاتا ہے، ایک ہلکا پھلکا ہمہ مقصدی جنگجو طیارہ ہے جس کی تیاری میں دونوں ممالک نے اہم رول ادا کیا ہے اور اس کے ذریعہ دونوں ممالک اب ان طیاروں کی تیاری میں زائد توجہ دیں گے اور ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ چین کے ایجنڈہ میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ بالسٹک میزائلس، کروز میزائلس، اینٹی ایرکرافٹ میزائلس، اینٹی شپ میزائلس اور جنگ میں استعمال کئے جانے والے دبابے پاکستان میں ہی تیار کئے جائیں گے اور اس طرح دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات پختہ ہوجائیں گے جبکہ فوجی تکنیکوں سے متعلق موضوع پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ خصوصی طور پر انسداد دہشت گردی کیلئے جن ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے گا اس کیلئے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون بیحد کارآمد ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک نے کل اس بات کا بھی عزم کیا۔ چائنا۔ پاکستان اکنامک کاریڈو (CPEC) کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا جو چین کے ’’ون بیلٹ اور ون روڈ‘‘ انیشیٹو کا اہم حصہ ہے۔ دیگر فوجی ماہرین کا بھی یہی خیال ہیکہ دونوں ممالک کے فوجی تعلقات میں اضافہ دہشت گردی کی بیخ کنی کیلئے انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے پاکستان کے سفیر متعینہ چین مسعود خالد نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران بتایا کہ پاکستان نے CPEC کے تحفظ کیلئے زائد از 15000 فوجیوں کو تعینات کیا ہے جبکہ ملک کی بحریہ نے گوا اور بندرگاہ کے تحفظ کیلئے ایک خصوصی دستہ تشکیل دیا ہے۔ یاد رہیکہ بعض سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جارہا ہیکہ چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی دفاعی قربتیں بڑھانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دراصل ہندوستان کی جانب سے تیار کئے جانے والے اگنی ۔ V میزائیل کا نتیجہ ہے جو 5000 کیلو میٹر کی دوری تک نشانہ لگا سکتا ہے اور چین کا رقبہ بھی تقریباً یکساں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT