Monday , October 23 2017
Home / دنیا / چین کے ایغور مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ

چین کے ایغور مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ

نماز ادا کرنے، روزہ اور داڑھی رکھنے اور السلام علیکم کہنے پر امتناع

کاشگر (چین) ۔ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بات اگر میانمار کی ہو تو بدھسٹوں کے ظلم و ستم آنگ سان سوچی اور روہنگیا مسلمانوں اور میانمار میں برسوں تک چلنے والے جنٹاراج ذہن میں آجاتے ہیں۔ آج تک روہنگیا مسلمانوں کے حق میں سوچی نے کبھی کوئی تائیدی بیان نہیں دیا جس کیلئے وہ ہمیشہ تنقیدوں میں رہیں لیکن دوسری طرف اگر ایشیاء کی ایک بڑی طاقت چین کا تذکرہ کیا جائے تو اس نے بھی ایغور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں چین نے اپنی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی تعداد میں یہ کہہ کر زبردست کٹوتی کی ہیکہ انفرادی قوت سے اب کچھ نہیں ہونے والا بلکہ ملک کو میزائیل ٹیکنالوجی اور راکٹ فورس کی ضرورت ہے لیکن ایغور مسلمانوں پر حد سے زیادہ پابندی لگا کر چین آخر کیا ثابت کرنا چاہتا ہے، یہ بات آج تک کسی کی سمجھ میں نہیں آئی اور اگر کچھ ممالک یہ بات سمجھتے بھی ہیں تو دانستہ طور پر خاموش ہیں کہ چین سے ’’پنگا‘‘ کیوں لیا جائے کیونکہ وہ ایک کمیونسٹ ملک ہے اور ایغور مسلمان بھی چین کا داخلی معاملہ ہیں۔ ژنجیانگ خطہ ایسا ہے جہاں مسلمانوں کو رمضان المبارک کے دوران بھی نہیں بخشا گیا۔ مساجد کے آس پاس کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری پولیس افسران وہاں آنے والے مسلمانوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتے ہیں۔ کسی کو بھی عام مقامات پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ یہاں تک کہ 50 سال سے کم عمر مسلمان کی داڑھی رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔ کاشگر میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ رمضان المبارک کے اختتام پر جب عیدالفطر منائی جاتی تھی تو مسجد کے باہر بھی مصلیان اپنی جائے نماز لاکر بچھادیتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے تھے لیکن اب وہ سلسلہ بھی بند کردیا گیا ہے۔ ایک ماہ قبل ہی جب عیدالفطر منائی گئی تو مساجد پُر ہونے کے بعد باہر کا حصہ بھی مصلیوں سے بھر جاتا تھا لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہوا کیونکہ نمازیوں کی تعداد بیحد قلیل تھی۔ اس معاملہ پر حکام نے لب کشائی سے گریز کیا ہے لیکن یہاں کے تاجرین کا کہنا ہیکہ حکومت نے مختلف مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ عیدالفطر کی نماز میں شرکت کیلئے ایغور مسلمانوں کو روکا جاسکے جو کاشگر پہنچتے ہیں۔

ایک دیگر تاجر نے کہا کہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کیلئے یہ مقام مناسب نہیں ہے۔ دوسری طرف حکومت کا یہ استدلال ہیکہ سیکوریٹی میں سخت اضافہ اس بات کو یقینی بنانا ہیکہ اسلامی انتہاء پسندی یہاں تک نہ پہنچ سکے لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہیکہ حکام ژنجیانگ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کررہے ہیں۔ آسٹریلیا کی لاٹروپ یونیورسٹی میں چینی سیکوریٹی کے ماہر سمجھے جانے والے جیمس لیبولڈ نے کہا کہ چین میں سیکوریٹی کا غیرمعمولی پیمانے پر اضافہ کیا جارہا ہے۔ اگر ہم 2009ء کا جائزہ لیں تو اس وقت علاقائی دارالخلافہ ارمقی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعدسے ہی حکومت نے ژنجیانگ میں سیکوریٹی اور مذہبی بنیاد پر بعض تحدیدات عائد کی تھی۔ مارچ میں صدر ژی جن پنگ نے سیکوریٹی فورس کو اس خطہ میں ایک ’’فولادی دیوار‘‘ تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ ایغور مسلمانوں نے ادعا کیا تھا کہ ان کا تعلق عراق میں دولت اسلامیہ کے ایک ضمنی گروپ سے ہے اور وہ کاشگر کو اپنا وطن سمجھتے ہیں اور اگر ایغور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا سلوک روا رکھا گیا تو وہ واپس آ کر وہاں خون کی ندیاں بہادیں گے۔ صرف ایک تا دو سال کے اندر حکومت چین نے ژنجیانگ کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے جہاں ہر طرف سیکوریٹی اہلکار نظر آتے ہیں اور تقریباً ہر بلاک میں ایک پولیس اسٹیشن قائم کیا گیا ہے اورانتہاء پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے سخت قوانین متعارف کئے گئے ہیں۔ ہر طرف بڑے بڑے بورڈس آویزاں کئے گئے ہیں جہاں کسی کو بھی کھلے عام عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے‘‘ تحریر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ 50 سال سے کم عمر والوں کو داڑھی رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ سرکاری ملازمین کو رمضان المبارک کے دوران روزے رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ پاکستانی سرحد سے قریب واقع تشکرگان میں چینی حکام نے ایک ’’حلال‘‘ ریستوران کو بھی بند کردیا ہے جسے دراصل سزاء سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ تعطیل کے دوران ریستوران نے کھانا سربراہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ مسلمان جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو السلام علیکم (آپ پر امن و سلامتی ہو) کہتے ہیں اور انتہاء یہ ہوگئی کہ چینی حکام نے السلام علیکم کہنے پر بھی یہ کہہ کر پابندی عائد کردی کہ اس سے علحدگی پسندی کا اظہار ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT