Monday , October 23 2017
Home / دنیا / چین کے سائبر حملے ناقابل قبول

چین کے سائبر حملے ناقابل قبول

WASHINGTON, SEP 11 :- U.S. President Barack Obama and first lady Michelle Obama join White House Staff to observe a moment of silence on the South Lawn of the White House to mark the 14th anniversary of the 9/11 attacks, in Washington September 11, 2015. Relatives of the nearly 3,000 people killed in the Sept. 11, 2001, attacks are due to gather in New York, Pennsylvania and outside Washington on Friday to mark the 14th anniversary of the hijacked airliner strikes carried out by al Qaeda militants. REUTERS/UNI PHOTO-25R

امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کیا جائے گا : اوباما

واشنگٹن ۔ 12 سپٹمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ چین کے مبینہ سائبر حملے کسی صورت بھی ’قابلِ قبول‘ نہیں ہیں۔ صدر اوباما نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب چین کے صدر شی جن پنگ امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔چین پر الزام ہے کہ اُس نے کئی امریکی اداروں کی ویب سائٹس اور لاکھوں سرکاری ملازمین کے اکاؤنٹس ہیک کیے ہیں۔چین کے صدر رواں ماہ کے آخر میں واشنگٹن کا دورے کریں گے۔صدر اوباما کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس طرح کے حملوں سے نمٹنے کیلئے اپنا نظام مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نیویارک کے ایک ہوٹل میں مزید قیام نہیں کریں گے۔ یہ ہوٹل ایک چینی کمپنی نے گذشتہ سال خریدی تھی۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ ہوٹل کی خریداری کا چینی جاسوسی سے کوئی تعلق ہے۔صدر اوباما نے اپنے تاثرات کا اظہار میری لینڈ میں امریکی فوجی حکام کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ’ہم نے چین کو بہت واضح انداز میں بتا دیا ہے کہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن میں وہ ملوث پائے گئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب چین کی جانب سے کی جارہی ہیں اور یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔انھوں نے کہاکہ چین کے ان اقدامات کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ تصور کیا جائے گا ۔ انھوں نے تجویز دی کہ دونوں فریقین کو سائبر اسپیس سے متعلق عام قوانین پر اتفاق کرنا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جسے ہم قومی سلامتی کو لاحق اہم خطرہ سمجھتے ہیں اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جاسوسی کا خطرہ،اوباما کا
چین کی ہوٹل میں قیام سے گریز
واشنگٹن۔ 12 سپٹمبر۔(سیاست ڈاٹ کام)  صدر بارک اوباما اور ان کا وفد نیو یارک کے اس نامور ہوٹل میں قیام نہیں کریں گے جہاں امریکی سربراہان روایتی طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے دوران قیام کرتے آئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جوش ارنسٹ نے واشنگٹن میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران صدر اور ان کے وفد کی نیو یارک پیلس ہوٹل میں قیام کرنے کی خبر کی تصدیق کی۔ اس سے پہلے امریکی سربراہان اور ان کا وفد تاریخی والڈورف اسٹوریا ہوٹل میں قیام کیا کرتے تھے۔ امریکی میڈیا نے رواں ہفتہ بتایا تھا کہ سکیورٹی اور جاسوسی کے خطرات کے پیش نظر حکام صدر کو کسی دوسرے مقام پر ٹھہرانے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ وائیٹ ہاؤس نے اوباما کے لکژری نیویارک پیلس ہوٹل میں قیام کی توثیق کی ہے ۔ یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ ہندوستان کے وزرائے اعظم گزشتہ چند سال سے اسی ہوٹل میں قیام کرتے آرہے ہیں ۔

 

سنگاپور میں حکمراں جماعت کی شاندار کامیابی
سنگاپور ۔ 12 سپٹمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) سنگاپور کے عام انتخابات میں اپوزیشن کی غیرمعمولی مہم کے باوجود وزیراعظم لی سن لونگ کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے اور انھوں نے آزادی کے بعد 12 ویں مرتبہ اس طرح کی کامیابی دلانے پر عوام سے اظہارتشکر کیا ۔ پیپلز ایکشن پارٹی نے 89 رکنی پارلیمنٹ میں 83 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔

TOPPOPULARRECENT