Wednesday , July 26 2017
Home / اداریہ / چین کے معاملے میں اپوزیشن کا موقف

چین کے معاملے میں اپوزیشن کا موقف

آپ مجھ کو وہیں پہ پائیں گے
آپ کی جس جگہ کمی ہوگی

چین کے معاملے میں اپوزیشن کا موقف
چین کے سا تھ ہندوستان کا نرم رویہ سرحدی مسئلہ کو مزید جارحانہ بنا سکتا ہے۔ سکم کے علاقہ پر چین کے ادعا جات کو قبول کرنے یا نہ کرنے کی بحث کے دوران ہندوستان نے چین سے مذاکرات کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھنے کی پیشکش کی ہے۔ اگر چین ہندوستان کی جانب سے مذاکرات اس پیشکش کو کمزوری کی علامت تصور کرتا ہے تو پھر آنے والے دنوں میں چین کے تیور مزید جارحانہ ہوسکتے ہیں۔ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلہ پر غور کیا ہے۔ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیرخارجہ سشماسوراج نے اپوزیشن کے قائدین کو چین کی حالیہ کارروائیوں سے متعلق واقف کروایا۔ چین تنازعہ علاقہ میں سڑکوں کی تعمیر کے ذریعہ بنیادی موقف کو ہی تبدیل کرنے کوشاں ہے۔ اپوزیشن قائدین کے ساتھ وزارت داخلی اور خارجی ا مو ر کے ذمہ داروں نے 3 گھنٹے تک اجلاس میں اس مسئلہ پر غوروخوض کیا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن نے ہندوستان کی جانب سے اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت ضرور کی مگر یہ گروپ بھی چین کے معاملہ میں سخت رویہ اختیار کرنے پر زور دینے سے گریز کرتا نظر آیا۔ چین کی وزارت خارجہ نے ہندوستانی معتمد خارجہ ایس جئے شنکر کی سنگاپور میں کی گئی تقریر کو مسترد کردیا ہے تو اس سے واضح ہوتا ہیکہ چین اپنے درمیان سرحدی تنازعہ کو تسلیم کرنے تیار نہیں ہے۔ ایس جئے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور چین کو اپنے سرحدی تنازعات حل کرنے کیلئے جلد سے جلد بات چیت کے میز پر آنا چاہئے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان 4000 کیلو میٹر طویل سرحد کے کئی مقامات پر دیرینہ تنازعات پائے جاتے ہیں۔ اس سرحدی تنازعہ کے باوجود گذشتہ 50 برسوں میں دونوں نے کوئی سنگین غلطی بھی نہیں کی ہے البتہ ٹکراؤ کا ما حول اکثر پیدا ہوتا رہا ہے۔ بھوٹان کے ڈوکلام خطے میں ہندوستانی فوجیوں نے چین کی فوج کو سڑک تعمیر کرنے سے روکا تو اس پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ بھوٹان کا یہ علاقہ ہندوستان کیلئے اہم ہے مگر چین اس خطہ پر اپنا دعویٰ کرکے تنازعہ کو ہوا دیتا آرہا ہے ۔ پانچ سال قبل چین کے ساتھ ہندوستان کی ایک تحریری مفاہمت ہوئی تھی کہ ہندوستان، چین اور بھوٹان تینوں ممالک کی سہ رخی سرحدوں کا تعین صلاح و مشورہ سے کیا جائے گا۔ چین نے اس مفاہمت کی قدر نہیں کی اور بھوٹان میں سرحدی علاقہ پر سڑک تعمیر کرنا شروع کردیا۔ چین یہاں کے موقف کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس طرح یہ تنازعہ کشیدگی کا باعث بنتا جارہا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے سرحدی علاقوں میں ترقیاتی کام انجام دیئے اس پر ہندوستان کی نرمی یا خاموشی نے چین کے حوصلوں کو بلند کردیا ہے۔ چین کے ساتھ ہندوستان کا نرم رویہ اس لئے بھی ہے کیونکہ کئی سفارتکار اور دانشور دونوں ملکوں کے درمیان جارحانہ رویہ اور جنگ کا ہیجان پیدا کرنے کی مخالفت کی ہے کیونکہ اگر دونوں ممالک باہمی تعلقات کو خراب کرنے والی حرکتیں کریں گے تو سرحد پر برسوں سے جاری امن کی صورتحال تباہ ہوجائے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ ہفتہ جرمنی کے شہر ہمبرگ میں صدر چین سے ملاقات کا دعویٰ تو کیا مگر اس ملاقات کو ثمرآور نہیں بناسکے۔ دونوں ممالک نے اب تک جس طرح کا موقف اختیار کر رکھا ہے اس سے کشیدگی یا تنازعہ ختم ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ کشیدگی کو کم کرنے کیلئے بات چیت کی پیشکش ایک بہتر قدم ہے۔ چین کو ہندوستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرنا ہوگا۔ مذاکرات کے آغاز کیلئے شرائط رکھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ سرحدوں پر تصادم کی نوبت سے گریز کرتے آرہے دونوں ملکوں کو فوری بات چیت کے ذریعہ امن و امان کی کیفیت کو مضبوط بنائے رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اب جبکہ مودی حکومت کو چین کے مسئلہ پر اپوزیشن کی بھی تائید حاصل ہے تو سرحدی تنازعہ کی یکسوئی کی راہ ہموار کرنے اعلیٰ سطحی مذاکرات کو ہی ترجیح دی جانی چاہئے۔ اپوزیشن نے یہ تو واضح کردیا ہیکہ چین ہو یا کشمیر قوم اور ملک کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے۔
شہر میں منشیات کا چلن تشویشناک
حیدرآباد میں سکنڈری اور بیشتر سکنڈری اسکول جانے والے نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں میں منشیات کی بڑھتی لعنت نے معاشرہ کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے مراکز پر منشیات کی دستیابی خود نظم و نسق کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ تلگو فلم انڈسٹری سے وابستہ اہم شخصیتوں کا بھی منشیات میں ملوث ہونا افسوسناک واقعہ ہے۔ پولیس اور نارکوٹک ڈپارٹمنٹ کی ناک کے نیچے بڑے پیمانہ پر منشیات کا چلن ہورہا ہے تو اس سے متعلقہ محکموں کی لاعلمی یا تو فرائض سے غفلت برتنا ہے یا پھر بدعنوانی کی وجہ سے کھلی چھوٹ دینا ہے۔ کم عمر میں ہی بچہ منشیات کا عادی ہوجاتا ہے تو پھر اس کی ذہنی و جسمانی کیفیت تبدیل ہوکر انحطاط کا شکار بن جاتی ہے۔ تلگو فلم صنعت اور تعلیمی مراکز میں منشیات کی سربراہی اور عام چلن کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوششوں میں مصروف عہدیداروں کو سیاسی دباؤ کا شکار بنایا جائے تو پھر اس سماج کو منشیات کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ ڈائرکٹر آف اکسائز انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اکون سبھروال کو رخصت پر روانہ کرتے ہوئے اس کیس کی چھان بین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی منشیات کے کاروبار میں ملوث ریاکٹ کو بے نقاب کرنے کے آخری مرحلہ میں تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ سماج کے کئی معتبر گوشوں میں خاص کر سیاسی گوشوں میں منشیات کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ آیا تلگو کی فلمی شخصیتوں کے اہم ناموںکے آشکار ہونے سے روکنے کیلئے محکمہ اکسائز اور دیگر نارکوٹک عہدیداروں کی زبان بند کرانے کی سیاسی طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ حرکتیں منشیات کی روک تھام کیلئے اب تک کی ہونے والی کوششوں پر پانی پھیر دیں گی اور معاشرہ کی تباہی کی ذمہ داری ان ہی لوگوں پر ہوگی جو اکون سبھروال کو بتانے میں سرگرم ہیں۔

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT