Monday , October 23 2017
Home / دنیا / چین کے نزدیک ’ایک چین ‘ اصول پر امریکہ سے تعلقات کشیدہ

چین کے نزدیک ’ایک چین ‘ اصول پر امریکہ سے تعلقات کشیدہ

واشنگٹن؍بیجنگ 15 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونیلڈ ٹرمپ کو کو در پردہ وارننگ دیتے ہوئے چینی سفیر برائے امریکہ نے کہا ہے کہ چین اپنی قومی خود مختاری اور علاقائی یک جہتی کو داو پر لگا کر امریکہ سے ہر گز معاملات نہیں کرے گا۔ بیجنگ سے بھی امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ون چائنا پالیسی سے متعلق کسی بھی تبدیلی سے نہ صرف تائیوان میں امن و استحکام متاثر ہوگا بلکہ اس کا واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات پر بھی اثر پڑے گا۔چینی سفیر سی ٹیانکائی نے اعلیٰ امریکی کمپنیوں کے اعلیٰ ذمہ داران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں کو اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔چین امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیاد کھوکھلی نہ کی جائے بلکہ اسے بچا یا جائے جس کے لئے چاہئے کہ بین اقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا پاس رکھا جائے ان سے صرف نظر نہ کیا جائے اور واقعی طور پر چینی خود مختاری اور علاقائی یک جہتی کا سودا نہیں اور قطعی نہیں کیا جا سکتا۔چینی کابینہ کے دفتر برائے تائیوان کے ترجمان کے مطابق نو منتخب امریکی صدر کے حالیہ بیان سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ون چائنا پالیسی کو تسلیم کیے بغیر امریکہ کاروبار سمیت دیگر معاملات میں چین سے فوائد حاصل نہیں کرسکے گا۔امریکہ اور چین کا شمار دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں میں ہوتا ہے

، ان دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس 660 ارب ڈالر کا مشترکہ کاروبار ہوا تھا۔ سی ٹیانکائی نے اگرچہ اپنی بات چیت میں تائیوان کا نام نہیں لیا نہ ہی انہوں ٹرمپ کے اس بیان کا کوئی حوالہ دیا کہ امرہکہ تائیوان کو ون چائنا کا حصہ ماننے کی پالیسی کا پابند رہنے کا پابند نہیں لیکن ان کی باتوں کا ڑُخ چینی وزارت خارجہ کے اس احتجاج کی طرف ہی تھا جس میں ون چائنا اصول کو امریکہ چین تعلقات کی سیاسی بنیاد گردانا گیا ہے ۔واضح رہے کہ ون چائنا پالیسی کے تحت ہی امریکہ نے بیجنگ کو چین کا دارالحکومت قبول کرتے ہوئے تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات قائم کر رکھے ہیں، واضح رہے کہ امریکہ، تائیوان کو جاپان کی سابق کالونی اور 1949 کی خانہ جنگی میں چین کا حاصل شدہ علاقہ تسلیم کرتا ہے ۔چین کے دفتر برائے تائیوان کے ترجمان این فینگشن کے مطابق امریکہ کی جانب سے ون چائنا پالیسی کی خلاف ورزی امن و امان کی صورتحال خراب کرے گی، نمائندے کے مطابق ون چائنا پالیسی چین اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے سیاسی بنیاد کا کام کرتی ہے ۔قبل ازیں منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ 2 دسمبر کو تائیوان کے صدر سائی اینگ وین سے فون پر گفتگو کی تھی، تائیوان کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی تھی۔

اقتداراعلیٰ پر سودے بازی سے چین کا انکار
واشنگٹن، 15 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چین نے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو براہ راست طور پرخبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت سے وابستہ امور پر امریکہ کے ساتھ سودا نہیں کرے گا۔امریکہ میں چین کے سفیر سے کوئی تیا ن کئي نے امریکی کمپنیوں کے سربراہوں کے ساتھ میٹنگ میں کل کہا کہ بیجنگ اور واشنگٹن کی حکومتوں کو باہمی تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا ” چین امریکہ تعلقات کے سیاسی بنیاد کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے اور اس کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو مانا جانا چاہئے ، نظر انداز نہیں۔درحقیقت قومی اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت سودے بازی کے لئے نہیں ہیں، ہرگز نہیں”۔ انہوں نے تائیوان کے بارے میں یا پچھلے ہفتہ ٹرمپ کی جانب سے ”ایک چین” کی پالیسی کولے کر دیئے گئے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ضروری نہیں ہم پہلے کی طرح تائیوان کو چین کا حصہ مانیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں تائیوان کی صدر سائ انگ وین کے ساتھ فون پر بات چیت کی تھی۔ قبل ازیں چین کے سیاسی مخالفت کی وجہ سے 1979 سے کسی امریکی لیڈر اور کسی تائیوان لیڈر کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT