Saturday , March 25 2017
Home / Top Stories / چین ۔ امریکہ تجارتی جنگ کا خمیازہ امریکی کمپنیوں کو بھگتنا پڑے گا : کیگیانگ

چین ۔ امریکہ تجارتی جنگ کا خمیازہ امریکی کمپنیوں کو بھگتنا پڑے گا : کیگیانگ

صدر چین ژی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی آئندہ ماہ فلوریڈا میں ملاقات

بیجنگ۔ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم چین لی کیگیانگ نے آج امریکہ کو ایک ایسا انتباہ دیا جس نے ایسے ممالک کو تو ضرور خوش کردیا ہوگا جو امریکہ سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ مسٹر کیگیانگ نے امریکہ کو کسی بھی نوعیت کی تجارتی جنگ سے گریز کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اگر امریکہ نے ایسا نہیں کیا تو سب سے پہلے امریکی کمپنیوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ مسٹر کیگیانگ ایسا سخت بیان دینے پر اس وقت مجبور ہوئے جب صدر چین ژی جن پنگ ایک اہم کانفرنس میں شرکت کرنے امریکہ گئے تھے۔ اس وقت ٹرمپ کا فرض تھا کہ وہ اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے نہ صرف رواداری بلکہ وضع داری کا بھی مظاہرہ کرتے تاہم ٹرمپ سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ ٹرمپ نے چین کو کرنسی مینی پولیٹر کہا اور یہ دھمکی دی کہ چین سے امریکہ درآمد ہونے والی اشیاء پر وہ (ٹرمپ) بھاری ٹیکس عائد کریں گے۔ لی کیگیانگ نے اپنی سالانہ نیوز کانفرنس کے دوران (جو چین کی پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے بعد منعقد کی جاتی ہے) کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی تجارتی جنگ چھڑ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو باہمی تجارت میں دیانت داری اور اصول پسندی کے عناصر باقی نہیں رہیں گے۔ گزشتہ سال پر ہی اگر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلے گا کہ چین کے ساتھ مختلف اشیاء کی تجارت میں امریکہ کو 347 ملین ڈالرس کا خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا

جس کے بعد ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس نقصان کی بھرپائی کی پوری کوشش کریں گے اور یہ چین پر یہ سخت ریمارک کردیا کہ چین نے اپنی کرنسی کے تبادلے کیلئے جو پالیسیاں بنا رکھی ہیں، امریکہ کو ہونے والا خسارہ ان ہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مسٹر کیگیانگ نے کہا کہ ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘ پر عمل پیرا ہوکر اگر تجارتی جنگ چھڑ جاتی ہے تو یہ امریکی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک کے ذریعہ تحریر کئے گئے ایک مضمون کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اور چین کے درمیان کوئی تجارتی جنگ ہوئی تو اس سے بیرونی سرمایوں سے چلنے والی کمپنیاں خصوصی طور امریکی کمپنیوں کو شدید خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے عہدیدار اس وقت کہ ٹرمپ اور ژی جن پنگ کے درمیان پہلی ملاقات کے منتظر ہیں جو آئندہ ماہ فلوریڈا میں ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ بھی اپنے مار۔ اے لاگو اسٹیٹ میں ژی جنگ پنگ کو مدعو کرتے ہوئے ان کی شاندار ضیافت کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس موقع پر مسٹر کیگیانگ نے ایک اور بات کہی کہ دونوں ممالک کے سفارتی عہدیدار ٹرمپ اور ژی جن پنگ کی دو بہ دو ملاقات کیلئے بے چین ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ چین ۔ امریکہ کے تعلقات میں یوں تو کئی اُتار چڑھاؤ آئے ہیں اور جھٹکے بھی لگے ہیں تاہم ہمیں اب بھی اس بات کی توقع ہے کہ دونوں ممالک مثبت سمت کی جانب اپنے قدم بڑھائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جو بھی نظریاتی اختلافات ہیں، انہیں بات چیت کے ذریعہ ختم کردیا جائے کیونکہ وقت کا بھی یہی تقاضہ ہے اور ہماری ضرورت بھی اسی میں مضمر ہے کہ ایسے اختلافات جنہیں فی الفور ختم نہیں کیا جاسکتا انہیں بات چیت کے مختلف ادوار کے ذریعہ ختم کردیا جائے اور دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفاد کی جانب توجہ دیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان نظریاتی اختلاف بتدریج کم ہوجائے گا۔ مسٹر کیگیانگ نے اس موقع پر تائیوان کے موضوع پر بھی کچھ جملے ادا کئے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے قبل ازیں یہ بھی کہا تھا کہ وہ چین سے اس کے ’’ایک چین‘‘ کے موضوع پر عنقریب بات چیت کریں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT