Monday , October 23 2017
Home / مضامین / چین ۔ امریکہ تعلقات

چین ۔ امریکہ تعلقات

 

زہا ڈاوجیونگ
چین اور امریکہ کے مابین تعلقات ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت میںایسا لگتا ہے کہ معمولی رکاوٹوںکے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ نے اپنی ’ ایک چین ‘ پالیسی کو برقرار رکھا ہوا ہے ۔ دونوں ملکوں نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق مسائل کی یکسوئی کیلئے 100 دن کا منصوبہ تیار کیا تھا ۔ دونوںملک شمالی کوریا سے نمٹنے کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کے دائرہ کار میں نمٹنے کیلئے کھلے عام اختلاف نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے جاریہ سال مئی کے مہینے کے اوائل میں چینی پٹی اور روڈ فورم کیلئے اپنا ایک وفد بھی روانہ کیا تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کے جہاز ساوتھ چائنا سی کو روانہ کرنے اور تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے کے فیصلے کو ہوسکتا ہے کہ کچھ مبصرین دونوں ملکوں کے مابین مسائل کی وجہ قرار دیں لیکن یہ سب کچھ معمول کے کام ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے ڈونالڈ ٹرمپ کا انتظامیہ انکار نہیں کرسکتا تھا ۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ٹیم نے چین کو ایک Currency manipulator قرار دینے کا سلسلہ بند کردیا ہے ۔ اس نے چین میں تیار کی جانے والی اشیا پر امپورٹ قیمتوں میں کوئی منفی تحدیدات عائد نہیںکی ہیں جس کا ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ وعدہ کیا تھا ۔ اس طرح کی پالیسیاں خود امریکہ اور اس کے باہر بھی متنازعہ ہوسکتی تھیں۔ اگر ٹرمپ کا انتظامیہ ٹرمپ کے صدارتی ذمہ داری سنبھالنے سے بل کئے گئے اپنے اعلانات پر عمل ٓوری کرتا تو ان اقدامات کے خلاف کچھ حرکت ضرور ہوتی لیکن یہ بھی چین کی جانب سے نہیں ہوتی ۔ تجارت اورسرمایہ کاری امریکہ اور چین کے مابین تعلقات میں سب سے اہم عنصر ہے ۔ اس صورتحال میں بیجنگ اور واشنگٹن دونوں ہی اپنے اپنے مفادات میںچاہتے ہیںکہ باہمی تعلقات کو مستحکم اور قابل قیاس راہ پر گامزن رکھیں۔ حالانکہ دونوںملکوں کے مابین حالیہ مشترکہ معاشی تبادلہ خیال کے بعد کوئی مشترکہ پریس کانفرنس نہیںکی گئی لیکن دونوںملکوں کے مابین جو اختلافات ہیں وہ در حقیقت دونوںملکوں کیلئے قابل قبول معاہدوں تک پہونچنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کا قیاس کرنا مشکل ہے ۔ حالانکہ چین میں کچھ لوگ اب بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی پر منفی تبصرے کرتے ہیں لیکن خود چین نے ٹرمپ کی کامیبی پر اس سطح کی سماجی اور ثقافتی حیرت کا اظہار نہیں کیا ہے کیونکہ چین اور امریکہ دونوںکے سماج وسیع النظر ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ سے مقابلہ کرچکیں ہیلاری کلنٹن سے قربت کے باوجود بھی 2016 میں باہمی تعلقات میں آسانی کی چین کی امیدیں کم ہی تھیں۔ ان حالات میں فلوریڈا میں 2017 کے اوائل میں صدر چین ژی جن پنگ اور ڈونالڈ ٹرمپ کے مابین جو ملاقات ہوئی اس نے باہمی تعلقات کو درکار استحکام فراہم کیا تھا ۔ اس موقع پر جو سب سے اہم نتیجہ نکال وہ یہ اعلان تھا کہ تعلقات میں جو اختلافات ہیں ان کو حل کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے ۔ ان اختلافات میںتمام سرکاری حکمت عملی اور معاشی مذاکرات بھی شامل تھے جنہیں چار مراحل میں حل کرنے سے اتفاق کیا گیا تھا ۔ اس ملاقات نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں قدرے آسانی پیدا کی تھی ۔ وقت کے گذرنے کے ساتھ چین پر یہ واضح ہوگیا کہ سخت سکیوریٹی مسائل پر امریکہ میں آج بھی وہی موقف ہے جو سابق میں ہوا کرتا تھا اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ صدر امریکہ کون ہے ۔

امریکی فون خود اپنے کیلنڈر کے حساب سے کام کرتی ہے ۔ اس کیلئے جنوبی کوریا میں ٹرمنل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس اینٹی بیالسٹک میزائیل نصب کرنے کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ جنوبی کوریا میں صدارتی تبدیلی کے موقع پر ہوئی بحران کی کیفیت بھی اس میںرکاوٹ نہیں بن سکی کیونکہ یہ نظام امریکہ کی فوج کے ہاتھ میں تھا اور اسی نے اس پر عمل آوری کی ۔ یہ ایک سادہ حقیقت ہے کہ معمولی آرٹیلری فائرنگ شمالی کوریا میں زیادہ نقصان پہونچانے کیلئے کافی ہے اور اس کے جنوبی کوریا میں راست ٹیلیکاسٹ سے زبردست نفسیاتی نراج کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ جہاں تک ٹرمپ کی ایشیا سے متعلق بحیثیت مجموعی پالیسی کا مسئلہ ہے کچھ چینی مبصرین فکرمند ہیں کہ آیا ٹرمپ ‘ اوباما کی پالیسی کو برقرار رکھیں گے یا پھر کسی اور نام سے ری بیالنسنگ پر توجہ دی جائیگی ٹرمپ کے پہلے بیرونی دورہ ( سعودی عرب آمد اور پھر یہاں سے ناٹو ممالک کی معمول کی ملاقات کیلئے روانگی ) اور پھر امریکہ کے حلیفوں کو دئے گئے دوسرے اشاروں کی وجہ سے یہ سوال ختم ہوگیا ہے ۔ ایشیا میں امریکہ کی فوجی مداخلت کا تسلسل ہی وہاں کا واحد رول ہے ۔ چین کے ساتھ باہمی تعلقات کے مسئلہ میںڈونالڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ شمالی کوریا کو نظر اانداز کردیا ہے شمالی کوریا کے معاملہ میں چین کا جو رول ہے وہ خود اس کیلئے ذمہ دار بن گیا ہے ۔ جہاں ڈونالڈ ٹرمپ شمالی کوریا مسئلہ کو بیجنگ پر دباو بنانے کی بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ان کا مقصد یہی ہے کہ چین کے موقف میں نرمی پیدا کی جائے ۔ جہاں تک شمالی کوریا کے رویہ میں تبدیلی لانے کی بات ہے وہ امریکہ کیلئے ثانوی اہمیت کا مسئلہ ہے ۔

اس حکمت عملی سے سارے علاقہ کی سکیوریٹی پیچیدہ ہوجانے کا خطرہ ہے ۔ شمالی کوریا کی حکومت ہی وہ واحد فریق ہے جس کو جاریہ حالات سے فائدہ ہوسکتا ہے ۔شمالی کوریائی حکومت اس معاملہ میں اس کی ناک کے نیچے پیش آنے والے حالات اور بین الاقوامی برادری کے دباو کو نظر انداز کرسکتی ہے ۔ بات چیت کیلئے بین الاقوامی برادری کے دباو کو نظر انداز کرتے ہوئے شمالی کوریا اپنے نیوکلئیر اور بین براعظمی میزائیل پروگرام کو جاری رکھنے پر توجہ دے سکتا ہے ۔ جب جنوبی کوریا اور جاپان کو یہ یقین ہوجائیگا کہ شمالی کوریا کا نیوکلئیر پروگرام اپنی حدود پار کرچکا ہے تو وہ خود نیوکلئیر ہتھیاروں سے دور رہنے امریکہ کے مشورہ کو قبول کرنے تیار نہیں ہونگے ۔ اس صورت میں شمال مشرقی ایشیائی سکیوریٹی کے استحکام کو خطرہ لاحق ہوجائیگا ۔
ٹرمپ نے بلا شبہ شمالی کوریا کے رویہ کو واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین خلیج کو بڑھانے کا موقع دیا ہے ۔ ان کی ٹیم کو اب اس صورتحال سے نمٹنے کا کوئی آسان راستہ تلاش کرنا ہوگا اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس سارے عمل میں وہ چین سے کتنی ہمدردی کی امید رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود چین اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں اب بھی خاطر خواہ لچک موجود ہے ۔

TOPPOPULARRECENT