Tuesday , October 24 2017
Home / مضامین / چین 2050 ء تک سوپر پاور ہوگا امریکہ ہندوستان کو چین کے خلاف استعمال کرنے کوشاں

چین 2050 ء تک سوپر پاور ہوگا امریکہ ہندوستان کو چین کے خلاف استعمال کرنے کوشاں

سید خالد قادری

سرحدی علاقہ دوکلم میں چین کی جارحیت ہندوستان کی قوت مزاحمت کو جانچنے اور خود اپنی طاقت ظاہر کرنے کی کوشش ہے ۔ ہند ۔ بھوٹان چین سرحد پر حالات کشیدہ ہیں ۔ اس کے باوجود ہندوستان اور چین کو اس بات پر فخر ہے کہ چالیس سال کے دوران کسی طرف سے ایک بھی گولی نہیں چلی ہے ۔ مقامی عوام خوفزدہ ہیں ۔ ہندوستان اور چین کے سربراہ بیرونی فورمس میں ہاتھ بھی ملارہے ہیں اور گلے بھی مل رہے ہیں لیکن سرحد پر کشیدگی بڑھتی جارہی ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کے اجلاس تک کشیدگی برقرار رہے گی ۔ چین کے صدر زی جن پنگ کی میعاد قریب الختم ہے ۔ وہ میعاد میں توسیع کے لئے کوشاں ہیں ۔ اسطرح پارٹی پولٹ بیورو میں ردوبدل تک جو یقینی سمجھا جارہا ہے ہندوستان کے ساتھ کشیدگی بنی رہے گی ۔ 1964 ء کی ہند چین جنگ کے بعد سے کثیر آبادی والے پڑوسی ممالک کے مابین وقفہ وقفہ سے کشیدگی بڑھتی رہی ۔ ہند پاک جنگوں کے موقع پر چین ہمیشہ پاکستان کا طرفدار رہا ۔ 2008 ء میں عالمی مالیاتی و معاشی بحران کے دوران ہندوستان اور چین غیر متاثر رہے اور دونوں ممالک نے معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کی اور اس شعبہ میں باہمی تعاون و اشتراک بھی رہا لیکن اب سرحد پر کشیدگی کے ساتھ چین نے ہندوستان کے ساتھ تجارت روک دی ہے ۔ بین الاقوامی فورمس بشمول اقوام متحدہ میں چین ہمیشہ پاکستان کا طرف دار رہا اور ایک سے زائد موقع پر اس نے اپنا ویٹو کا حق ہندوستان کے خلاف استعمال کیا حالیہ عرصہ میں چین نے دہشت گرد مسعود اظہر کے خلاف کارروائی کی کوشش کی ۔ ویٹو کیا ہے اس کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے بیرون ملک صدر چین سے پرتپاک ملاقاتیں کی ہیں ۔ چین نے حال میں ون بیلٹ ون روڈ اجلاس منعقد کیا جس میں کئی ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت مدعو کئے گئے ۔ ہندوستان نے اس کا بائیکاٹ کیا کیونکہ چین پاکستان معاشی راہداری وہ راستہ ہے جو پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے گزرتا ہے جو اصل میں ہندوستان کا علاقہ ہے جس پر پاکستان نے 1948 ء میں طاقت کے زور پر قبضہ کیا تھا ۔ جنوبی چین سمندر پر پوری طرح چین دعویدار ہے ۔ امریکہ جاپان اور ساؤتھ کوریا نے اس کے جواز کو چیلنج کیا ۔ ہندوستان نے اس مسئلہ پر محتاط طرز عمل اختیار کیا لیکن دلائی لاما کے دورہ اروناچل پردیش پر چین چراغ پا ہوگیا ۔ چین اروناچل پردیش پر اپنا حق جتاتا ہے حالانکہ یہ ہندوستان کا علاقہ ہے ۔ چین نے ہندوستان کے ساتھ سرحدی تنازعہ میں بھوٹان کو گھسیٹنے کی کوشش کی ہے ۔ وہ اس طرح ہندوستان کے صبر کی آزمائش کررہا ہے ۔ اس نے ہندوستان پر اپنے علاقہ میں گھس آنے کا الزام لگایا ۔ اور ہندوستان فورسس سے اس کی اپنی سرحدوں میں واپس جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنگ کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہورہا ہے جبکہ وزیراعظم نریندر مودی امریکہ کے نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔ چین کی مزاحمت کے لئے پیشرو صدر امریکہ بارک اوباما نے جاپان اور ساؤتھ کوریا کے ساتھ چین سے مقابلہ کے لئے جو محاذ بنایا تھا اس میں ہندوستان کو شامل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ہندوستان اس کے لئے راضی نہ ہوا اس کے باوجود چین ہندوستان کی پالیسی سے مطمئین نہیں ہے ۔ اس کا احساس ہے کہ سویت یونین کے بکھرجانے کے بعد ہندوستان نے اس کے خلاف پوری طرح امریکہ کا سہارا لے رکھا ہے ۔ ہندوستان وزارت خارجہ کے ترجمان تو دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ ہمبرگ میں G20 چوٹی کانفرنس کے دوران وزیراعظم مودی اور صدر چین کے مابین ملاقات اور بات چیت ہوئی ۔ لیکن چین نے ملاقات اور بات چیت کی تردید کردی اور کہا کہ چین کے صدر اور ہندوستان کے وزیراعظم نے برکس ممالک کی میٹنگ میں شرکت کی ۔ دونوں رہنماؤں کے مابین کوئی باہمی ملاقات نہیں ہوئی ۔ چین 2025 ء تک ناقابل تسخیر علاقائی طاقت اور 2050 ء تک سب سے بڑی بین الاقوامی طاقت بننے کے لئے کوشاں ہے ۔ اس کے پیش نظر مبصرین کا احساس ہے کہ چین اس مرحلہ پر ہندوستان کے ساتھ راست تصادم اختیار نہیں کرے گا ۔ امریکہ اس دوران ہندوستان اور جاپان کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہے گا ۔ اس طرح ہندوستان کے سوجھ بوجھ کی کڑی آزمائش ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT