Monday , August 21 2017
Home / عرب دنیا / ڈالر کے سامنے لیرہ کمزورشام میں معاشی بحران میں اضافہ

ڈالر کے سامنے لیرہ کمزورشام میں معاشی بحران میں اضافہ

طرابلس ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی ڈالر کے مقابلے میں شامی کرنسی لیرہ کی قدر میں واضح کمی ہوئی ہے، جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی۔ اس وقت ایک ڈالر 512 لیرہ کے برابر ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں شام میں معاشی بحران کئی گنا بڑھ گیا ہے اور ملک میں کرنسیوں کی شرح پر بلیک مارکیٹ کا کنٹرول ہے۔ یاد رہے کہ شامی حکومت غیرملکی کرنسی کے ذخائر فوج اور ملیشیاؤں پر خرچ کر چکی ہے۔ شام کے مرکزی بینک نے 2011 کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ ملکی معیشت کے تحفظ اور کرنسی کے بھاؤ کو گرفت میں رکھنے کے لیے اس کے پاس 18 ارب ڈالر ہیں۔ تاہم آج پانچ برس بعد ڈالر کے مقابلے میں لیرہ کی قدر 13 گنا کم ہو چکی ہے۔ جاریہ سال مئی کے آغاز پر مرکزی بینک نے ایک ڈالر کے بدلے 512 لیرہ کی شرح مقرر کی  جو 2011 میں ایک ڈالر کے مقابل 48 لیرہ تھا۔ معیشت کے ماہرین کے خیال میں حلب میں لڑائی کے پھر سے زور پکڑ جانے نے لیرہ کی قدر میں نئی گراوٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکھڑاتی معیشت سے ٹیک لگائے مرکزی بینک لیرہ کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بشار الاسد کی حکومت نے شام کے شہروں پر مسلط کردہ اپنی جنگ میں بتدریج اربوں ڈالر کے ذخائر کو ْلٹا دیا۔ اس کے نتیجے میں تاجر اور کاروباری حضرات کا لیرہ پر اعتماد ختم ہو گیا اور اس کے بعد بلیک مارکیٹ ہی انفرادی طور پر کنٹرولر بن گئی۔

TOPPOPULARRECENT