Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / ڈاڑھی کی مقدار وُ مستحق امامت

ڈاڑھی کی مقدار وُ مستحق امامت

سوال  :  ۱۔  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیش امام کی داڑھی کتنی ہونی چاہئے ۔ اگر اس مقدار سے کم ہو تو اس کی اقتداء جائزہے یا کیا جبکہ وہ امام حافظ وقاری ہے۔ اگر ایسا امام مقدار مقررہ داڑھی رکھنے کا وعدہ کرلے تو تو اس مقدار کے پورے ہونے تک کیا اس کی اقتداء درست ہوگی  ؟
۲۔  اگر امام کسی موقعہ پر جھوٹ بولے اور آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کرے تو اس کی اقتداء سے متعلق شرعاً کیا حکم ہے  ؟
جواب :  ہرمسلمان کوخواہ وہ امام ہو یا مقتدی داڑھی رکھنا چاہئے اور اس کی مسنون مقدار ایک مٹھی ہے اس سے زائد حصے کو تراشنا جائز ہے ۔ الدرالمختار برحاشیہ رد المحتار جلد پنجم کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے:  ولا بأس بنتف الشیب وأخذ اطراف اللحیۃ والسنۃ فیھا القبضۃ ۔ اور رد المحتار میں ہے : (قولہ والسنۃ فیھاالقبضۃ ) وھو أن یقبض الرجل لحیتہ فما زاد منھا علی قبضتہ قطعہ کذا ذکر محمد فی کتاب الآثار عن الامام قال وبہ نأخذ ۔ محیط السرخسی۔ داڑھی مونڈھنا اصلاً جائز نہیں ہے اور داڑھی کی مسنون مقدار سے کم رہنے کی صورت میں کترانا مخنثوں کا فعل ہے شرعاً یہ بھی جائز نہیں ہے ۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد دوم ص ۱۲۳ میں ہے :  وأما الأخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ و مخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل یہود الہند و مجوس الأعاجم ۔ فتح
شرعاً امامت کا وہی شخص زیادہ مستحق ہے جو مسائل نماز سے زیادہ واقف ہو اور فواحش سے پرہیز کرتاہو ، اس کے بعد قرآن اچھا پڑھنے والا اگر اس صف میں سب لوگ برابر ہوں تو پھر متقی شخص کو امام بنانا چاہئے ۔ درمختار جلد اول ص ۳۹۱ میں ہے : ( والأحق بالامامۃ ) تقدیما بل نصبا أی للامام الراتب ( الأعلم بأحکام الصلوۃ ) فقط صحۃ وفسادًا بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ وحفظہ قدر فرض ( ثم الأحسن تلاوۃ ) وتجویدًا (للقرائۃ ثم الأورع ) أی الأکثر اتقاء للشبہات والتقوی اتقاء المحرمات ۔
پس صورت مسئول عنہا میں امام کوچاہئے کہ وہ مسنون مقدار داڑھی رکھے ۔ اگر امام مذکور مسائل نماز سے واقف ہے اور قاری بھی ہے اور شرعی داڑھی رکھنے کاوعدہ کررہا ہے تو اس کی اقتداء جائزہے ۔
۲۔   اگر امام جھوٹ سے توبہ کرلے اور آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کرلے تو اس کی اقتداء درست ہے
زبانی قرآن پڑھنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجھے سورہ یٰسین اور سورہ مزمل زبانی یاد ہے ، جمعہ میں خطیب صاحب نے روزانہ قرآن مجید تلاوت کرنے پر زور دیا۔ اگر میں روزانہ زبانی سورہ یٰسین یا سورہ مزمل کی تلاوت کروں تو کافی ہے یا دیکھ کر پڑھنا ضروری ہوگا  ؟
جواب :  ہر مسلمان کو قرآن شریف کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اگر دیکھ کر قرآن پڑھنے کا وقت نہیں اور وہ زبانی قرآن پڑھتا ہے تو کافی ہے لیکن قرآن شریف زبانی پڑھنے کے بہ نسبت دیکھ کر پڑھنا زیادہ اجر و ثواب اور فضیلت کا موجب ہے کیونکہ دیکھ کر پڑھنے میں دو طرح سے عبادت کا ہونا ثابت ہے۔ ایک تو تلاوت اور دوسرا اس کا دیکھنا ، قرآن مجید کو دیکھنا بھی ایک مستقل عبادت ہے ۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  افضل عبادۃ امتی قراء ۃ القرآن نظرا۔ یعنی میری امت کی افضل ترین عبادت دیکھ کر قرآن مجید پڑھنا ہے۔ (فتاوی قاضیخان) عالمگیری جلد اول ص ۳۱۷ کتاب الکراھۃ میں ہے:   قرأۃ القرآن فی المصحف اولی من القرأۃ من ظھر القلب۔
فقط واللہ أعلم

TOPPOPULARRECENT