Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈاکٹر اسلم پرویز نے وائس چانسلر اردو یونیورسٹی کا جائزہ حاصل کرلیا

ڈاکٹر اسلم پرویز نے وائس چانسلر اردو یونیورسٹی کا جائزہ حاصل کرلیا

طلباء کی 10 روز سے جاری ہڑتال ختم ، کیمپس میں خوشگوار ماحول بحال
حیدرآباد۔/20اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈاکٹر اسلم پرویز نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔ ان کے جائزہ حاصل کرتے ہی یونیورسٹی میں ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوا ہے اور احتجاجی اساتذہ اور طلباء نے 10دن سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر اسلم پرویز کا جائزہ حاصل کرنا یونیورسٹی کیلئے فعال نیک تصور کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے جاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے سیاہ دور کا خاتمہ ہوگا۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے جائزہ حاصل کرتے ہی طلبہ اور اساتذہ کو واضح طور پر یہ پیام دیا کہ وہ یونیورسٹی کی ترقی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے اور ہر قدم اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی ترقی اور قیام کے مقصد کی تکمیل کیلئے اساتذہ اور طلباء کے تعاون کی اپیل کی۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ اردو یونیورسٹی میں اب علاقائی عصبیت نہیں چلے گی اور اردو زبان کا مکمل تحفظ ہوگا۔ ان کا اشارہ اردو ذریعہ تعلیم کو ختم کرنے کیلئے سابق میں کی گئی کوششوں کی طرف تھا۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ علاقائی عصبیت ہرگز نہیں ہوگی اور اگر یونیورسٹی میں کوئی دہلی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ موجود ہوں تو وہ ہرگز یہ تصور نہ کریں کہ ان کے ساتھ کوئی خصوصی سلوک کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ان کے شخصی دوست بھی دفتری اُمور میں کسی غیر معمولی رعایت کی توقع نہ رکھیں۔ نئے وائس چانسلر کی آمد اور جائزہ حاصل کرنے کے بعد طلباء اور اساتذہ کے خطاب میں جو بات واضح طور پر اُبھر کر آئی وہ یہ تھی کہ انہوں نے اپیل کی کہ ان کے نام کے ساتھ پروفیسر نہ لکھا جائے کیونکہ وہ بہ اعتبار عہدہ پروفیسر نہیں بلکہ صرف ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ وہ ایسی پروفیسر شپ کو نہیں مانتے جو قابلیت کے بغیر ہو۔ تہنیتی تقریب میں انہوں نے مختلف قرآنی آیات کا حوالہ دیا اور ان کا ترجمہ و تشریح کرتے ہوئے طلباء اور اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ ساتھ ہی اپنی غیرجانبدار اور دیانتدارانہ خدمات کا عہد کیا۔ آج صبح حیدرآباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر رحمت اللہ نے ان کا استقبال کیا۔ یونیورسٹی کی ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی 3 اسوسی ایشنوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیدار بھی ایر پورٹ پر استقبال کیلئے موجود تھے۔ یونیورسٹی پہنچنے کے بعد انچارج وائس چانسلر خواجہ شاہد سے انہوں نے عہدہ کا جائزہ لیا اور موجودہ صورتحال پر بات چیت کی۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے مختلف ڈپارٹمنٹس کے ڈین کے ساتھ مختصر تبادلہ خیال کیا جس کے بعد انہیں اساتذہ اور طلباء جلوس کی شکل میں آڈیٹوریم لے گئے۔ یونیورسٹی میں تطہیر اسکوائر قائم کیا گیا جہاں شجرکاری کی گئی۔ یہ اسکوائر یونیورسٹی میں گزشتہ چند برسوں کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے خاتمہ کی امید کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے بھی ایک پودا لگایا۔ تہنیتی تقریب میں یونیورسٹی کے سابق انچارج وائس چانسلر اور بعض دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی غیر موجودگی باعث حیرت تھی جبکہ صرف رجسٹرار رحمت اللہ نے تقریب میں شرکت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اسلم پرویز بہت جلد رجسٹرار اور دیگر عہدوں پر اپنی ٹیم کا تقرر کریں گے۔ اس موقع پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کی گئی جس پر وائس چانسلر نے کہا کہ وہ ابھی نئے ہیں لہذا انہیں مسائل کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے تمام معاملات کا جائزہ لینے اور مطالبات پر ہمدردانہ غور کا تیقن دیا جس کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہڑتال سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایک حقیقی معلم کی طرح خطاب کرتے ہوئے ہر کسی کا دل موہ لیا۔ وہ طلباء کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کیلئے یونیورسٹی کے ہاسٹل، مطبخ اور دیگر سہولتوں کا جائزہ لیں گے۔ وہ حیدرآباد اور اس کے باہر موجود یونیورسٹی کے مختلف اداروں کے دورے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ ان کی کارکردگی کا احتساب کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT