Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈاکٹر امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو میڈیم سے گریجویشن کی سہولت ختم

ڈاکٹر امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو میڈیم سے گریجویشن کی سہولت ختم

 

ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر مخالف اردو عہدیداروں بشمول وائس چانسلر و رجسٹرار کا فیصلہ ۔ صرف ایک سال کیلئے اردو ذریعہ تعلیم کو ختم کرنے کا بہانہ

حیدرآباد ۔ 17۔ جولائی (سیاست نیوز) ملک میں اردو کا اہم مرکز مانے جانے والے حیدرآباد شہر کی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی نے اردو زبان کے ساتھ عصبیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ مخالف اردو عہدیداروں بشمول وائس چانسلر و رجسٹرار نے جاریہ سال سے اردو میڈیم گریجویشن کو ختم کردیا ہے۔ اگرچہ یونیورسٹی اسے صرف ایک سال کیلئے کیا گیا فیصلہ قرار دے رہی ہے ، لیکن محبان اردو کو اس تیقن پر بھروسہ نہیں کیونکہ ایک بار اردو میڈیم کے خاتمہ کے بعد اس کا دوبارہ احیاء ممکن نہیں ہے ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اردو زبان کی ترقی و ترویج کے دعوے کرنے سے تھکتے نہیں لیکن ریاستی حکومت کے تحت چلنے والی اس یونیورسٹی نے دن دھاڑے اردو کا قتل کردیا اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فیصلہ سے قبل ریاستی حکومت سے کوئی اجازت حاصل نہیں کی گئی اور یونیورسٹی حکام نے ایک طرفہ فیصلہ کرلیا ہے ۔ اگر اس بارے میں چیف منسٹر کو اطلاع دی جاتی تو یقینی طور پر وہ اس اقدام کی مخالفت کرتے۔ تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو بھی اس فیصلہ کے سلسلہ میں اطلاع نہیں دی گئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یونیورسٹی کے حکام اردو امتحانات کو مسدود کرنے کے فیصلہ سے قبل وجوہات کے بارے میں حکومت کو واقف کراتے یا محکمہ اقلیتی بہبود سے ربط قائم کرتے تاکہ اردو کے ماہرین کو فراہم کرنے میں حکومت پہل کرتی۔ اردو زبان میں نصابی کتب نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے یونیورسٹی کی اگزیکیٹیو کونسل نے بی اے ، بی کام اور بی ایس سی امتحانات کے اردو میں انعقاد کو روک دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جاریہ تعلیمی سال سے اس فیصلہ پر عمل آوری ہوگی۔ گزشتہ 25 برسں سے یونیورسٹی میں انگلش اور تلگو کے ساتھ اردو میڈیم میں گریجویشن کی سہولت حاصل ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جاریہ سال مارچ میں اردو گریجویشن کورسس کیلئے انٹرنس امتحان منعقد کیا گیا اور طلبہ اس امتحان میں کوالیفائی بھی ہوئے ہیں لیکن اچانک امتحانات مسدود کئے جانے کے فیصلہ سے ہزاروں طلبہ کو مایوسی ہوئی ہے ۔ اگر اردو میں امتحانات منعقد نہ کرنا تھا تو پھر انٹرنس امتحان کیوں منعقد کیا گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنس امتحان میں کوالیفائی طلبہ انصاف کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو کا عملہ موجود نہیں ہے اور حالیہ عرصہ میں اردو کے ایک پروفیسر کی سبکدوشی کے بعد سے اردو سیکشن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اردو فیکلٹی نہ ہو نے کا بہانہ اردو والوں کیلئے اس لئے بھی ناقابل قبول ہے کیونکہ حیدرآباد اردو کا مرکز ہے اور یونیورسٹی اگر چاہے تو عثمانیہ یا کسی اور یونیورسٹی سے مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی سینئر پروفیسرس سبکدوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اردو میٹریل تیار کیا جاسکتا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 1981 ء میں اے پی اوپن یونیورسٹی سے مذکورہ یونیورسٹی کا آغاز ہوا اور 1990 ء میں اسے بی آر امبیڈکر یونیورسٹی کا نام دیا گیا۔ پروفیسر افضل محمد کے دور وائس چانسلری میں اردو میڈیم کا آغاز ہوا تھا لیکن آج متعصب اور اردو دشمن حکام نے آخر کار اپنی سازش پر عمل کردیا ۔ بتایا جاتاہے کہ انگلش میڈیم کی نصابی کتب ابھی تک تیاری کے مرحلہ میں ہے اور اس کام کی تکمیل کے بعد ان کا اردو میں ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی کی ویب سائیٹ پر داخلوں کے سلسلہ میں صرف تلگو اور انگلش آپشن دکھائی دے رہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکام کو اردو میڈیم سے دلچسپی ہو تو وہ اپنے تعلیمی سمسٹر کا آغاز اگست کی بجائے اکتوبر سے کرسکتے ہیں اور ان دو ماہ میں اردو نصابی کتب کی تیاری اور اشاعت کا کام بہ آسانی مکمل ہوجائیگا۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کی اسٹیٹ یونیورسٹیز میں فی الوقت صرف تین یونیورسٹی میں اردو میڈیم کی سہولت حاصل ہے ۔ ان میں عثمانیہ یونیورسٹی ، تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد اور شتا واہنا یونیورسٹی کریم نگر شامل ہے۔ چوتھی یونیورسٹی امبیڈکر تھی جس میں جاریہ سال سے اردو میڈیم کو مسدود کردیا ہے ۔ ریاست کی دیگر یونیورسٹیز کاکتیہ یونیورسٹی ورنگل ، پالمور یونیورسٹی محبوب نگر ، مہاتما گاندھی یونیورسٹی نلگنڈہ میں اردو میڈیم کا کوئی نظم نہیں ہے۔ کاکتیہ یونیورسٹی ریاست کی قدیم یونیورسٹی ہے لیکن آج تک اردو والوں نے بھی اردو میڈیم کے آغاز کیلئے کوئی جدوجہد نہیں کی ۔ مہاتما گاندھی یونیورسٹی نلگنڈہ کے وائس چانسلر پروفیسر الطاف حسین ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ وہ اپنے دور میں نلگنڈہ یونیورسٹی میں اردو میڈیم کلاسس کا آغاز کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT