Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم ڈگری کورس کو ختم کرنے کی سازش پر تنقید

ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم ڈگری کورس کو ختم کرنے کی سازش پر تنقید

وزارت تعلیم اور حکومت کو فوری حرکت میں آنے کا مطالبہ ، ڈاکٹر کے چرنجیوی اور دیگر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔24جولائی (سیاست نیوز) بی آار امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو زبان کو ختم کرنیکی سازش کے خلاف ڈاکٹر کے چرنجیوی‘ کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی ‘ ڈاکٹر لبنی ثروت ‘ ڈاکٹر سید یاسین ہاشمی کے علاوہ متاثرہ طلبہ نے آج پریس کانفرنس کے ذریعہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بند اندازمیں اردو کو ختم کرنے کیلئے کی جانے والی اس سازش کے خلاف ریاستی حکومت بالخصوص وزارت تعلیم کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے کہا کہ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اس مسئلہ کی یکسوئی کرتے ہوئے طلبہ کے داخلوں کے عمل کو شروع کرے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اردوزبان میں گریجویٹ کورسس کے خاتمہ کے فیصلہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منظم انداز میں اردو داں طبقہ کو اعلی تعلیم سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے بتایا کہ ریاستی حکومت و وزارت تعلیم کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے بھی کئی شبہات پیدا ہو رہے ہیں جبکہ اردو قومی زبانو ںکی فہرست میں شامل زبان ہونے کے علاوہ ریاست میں دوسری سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی نے کہا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ اردو ذریعہ تعلیم کو ختم کرتا ہے اور از سر نو اس کا آغاز نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ یونیورسٹی کی جانب سے اردو داں طبقہ کے بنیادی حق کو سلب کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تلگو و انگریزی زبان کے طلبہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں اعلی نشانات حاصل کر سکتے ہیں اور انہیں رینک حاصل ہو سکتا ہے تو اردو میڈیم کے طلبہ بھی یہ ریکارڈ بنا سکتے ہیں لیکن انہیں معیاری اور بنیادی مواد کی فراہمی ممکن بنائی جانی چاہئے۔کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت کو فوری یونیورسٹی انتظامیہ کو طلب کرتے ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کرتے ہوئے اردو داں طبقہ سے چھینے جا رہے ان کے حق تعلیم کو بچانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ڈاکٹر لبنی ثروت نے بتایا کہ بی آر امبیڈکر یونیورسٹی کی جانب سے اردو کو ختم کرنے کی کوشش آج نئی نہیں ہے بلکہ اردو نصاب تعلیم کی عدم اشاعت کے ذریعہ کافی عرصہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہے لیکن ان کوششوں کو اب عملی جامہ پہنایا جانے لگا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اردو داں طبقہ کی بڑی تعداد بی آر امبیڈکر یونیورسٹی کے فاصلاتی طرز تعلیم سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ڈگری اور اعلی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔اسی لئے اردو زبان کو یونیورسٹی سے ختم کیا جانا دراصل اردو داں طبقہ میں موجود خواندگی کے فیصد کو کم کرنے کی سازش کے مماثل ہوگا اسی لئے ان کو ششو ںکو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے بی آر امبیڈکر یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فوری اردو میڈیم ڈگری داخلوں کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میںلائے اور اردو داں طبقہ سے غیر مشروط معذرت خواہی کے ذریعہ اردو طلبہ کو تعلیم کی فراہمی کے اقدامات کرے۔ڈاکٹر لبنی ثروت نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو کی گئی تاکید کے باوجود یونیورسٹی حکام کے طرقیہ کار سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومت کو خاطر میں لائے بغیر سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ڈاکٹر سید یاسین ہاشمی نے بتایا کہ یونیورسٹی کا یہ اقدام اردوداں طلبہ کیلئے بھاری نقصان کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے فوری اس کی بحالی کی کاروائی کی جانی چاہئے۔اس پریس کانفرنس میں یونیورسٹی میں داخلہ سے محروم ہونے والے متاثرہ طلبہ نے بھی اپنے خیالات ظاہر کئے اور کہا کہ اردو کے خاتمہ کے سبب وہ ترک تعلیم پر مجبور ہو جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT