Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم ڈگری کورسیس بحال

ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم ڈگری کورسیس بحال

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا وائس چانسلر اور رجسٹرار کے ساتھ طویل اجلاس میں فیصلہ
حیدرآباد۔21 جولائی (سیاست نیوز) ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم گریجویشن کی سہولت کی بحالی کے سلسلہ میں روزنامہ سیاست کی مہم کامیاب رہی اور وائس چانسلر و رجسٹرار نے آج اس فیصلے سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج وائس چانسلر ڈاکٹر سیتاراما رائو اور رجسٹرار پروفیسر سی وینکٹیا کو سکریٹریٹ طلب کیا تھا۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خان، سکریٹری اقلیتی امور سید عمر جلیل اور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اردو ذریعہ تعلیم سے گریجویشن کی سہولت ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وائس چانسلر اور رجسٹرار نے اردو میں نصابی کتب کی تیاری میں تاخیر کا بہانہ بنایا اور کہا کہ ترجمہ میں تاخیر کی وجہ سے صرف ایک سال کے لیے اردو میڈیم گریجویشن کو ملتوی کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اردو زبان کی ترقی اور اردو ذریعہ تعلیم کے فروغ کے حق میں ہے، ایسے میں اوپن یونیورسٹی کا یہ فیصلہ حکومت کی نیک نامی متاثر کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اس سلسلہ میں کافی سنجیدہ ہیں اور تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے پس منظر میں یونیورسٹی کے اس فیصلے سے چیف منسٹر کو تشویش ہے۔ محمود علی نے کہا کہ اسمبلی میں چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ اردو کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا۔ لہٰذا اوپن یونیورسٹی کو چاہئے کہ وہ اردو میڈیم میں گریجویشن کی سہولت برقرار رکھے اور ایک سال کے لیے بھی اسے مسدود نہ کیا جائے۔ انہوں نے نصابی کتب کے اردو ترجمے کے سلسلہ میں حکومت سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد طے کیا گیا کہ اردو میڈیم کورس کے احیاء کے لیے پہلے مرحلہ میں فرسٹ سمسٹر کے نصاب کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے رجسٹرار اردو یونیورسٹی ڈاکٹر شکیل احمد سے ربط قائم کیا اور ٹرانسلیشن ڈپارٹمنٹ سے پہلے سمسٹر کا ترجمہ فراہم کرنے کی خواہش کی۔ رجسٹرار اردو یونیورسٹی نے نصابی کتب کے ترجمے سے اتفاق کرلیا۔ وائس چانسلر اوپن یونیورسٹی اور سکریٹری اقلیتی بہبود ہفتے کے دن نصابی کتب کے ساتھ رجسٹرار اردو یونیورسٹی سے ملاقات کریں گے اور انہیں فرسٹ سمسٹر کا نصاب حوالے کیا جائے گا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ اردو میڈیم گریجویشن کی بحالی کے بعد سیکنڈ سمسٹر کے نصاب کا ترجمہ فراہم کرنے میں اردو اکیڈیمی سے تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سمسٹر واری سطح اردو میں نصاب تیار کیا جائے تو کورس کی بحالی میں رکاوٹ نہیں ہوگی۔ میٹنگ کے دوران اوپن یونیورسٹی حکام کو تجویز پیش کی گئی کہ وہ کورس کے بلارکاوٹ جاری رہنے کے لیے ایک سال کے لیے عثمانیہ یونیورسٹی کا نصاب اختیار کریں جس پر حکام نے انکار کیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ جب انگلش اور تلگو کا نصاب تیار ہے تو اردو نصاب کی تیاری میں کیوں تاخیر کی گئی۔ نصاب کی تیاری کے بعد ہی تبدیلی کا فیصلہ کیا جانا چاہئے تھا۔ اوپن یونیورسٹی کے حکام نے اردو ماہرین کی کمی کی شکایت کی جس پر ڈپٹی چیف منسٹر نے پوچھا کہ اس کام کے لیے آخر کن سے ربط قائم کیا گیا جس پر حکام لاجواب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنس ٹسٹ کے بعد داخلوں سے عین قبل اس طرح کا فیصلہ اردو داں طبقے میں بے چینی کا باعث بن چکا ہے۔ نومبر میں فرسٹ سمسٹر امتحان ہے اور اس کا نصاب توقع ہے کہ اندرون ایک ماہ تیار ہوجائے گا۔ نصابی کتب کی تیاری کے تیقن کے بعد وائس چانسلر و رجسٹرار نے جاریہ سال اردو امتحانات مسدودکرنے کے فیصلے سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ اس طرح ڈپٹی چیف منسٹر کی مساعی کے سبب ریاست کی ایک اہم یونیورسٹی میں اردو امتحانات کی بحالی ممکن ہوسکی اور اردو والوں نے اطمینان کی سانس لی۔ روزنامہ سیاست نے سب سے پہلے اس مسئلہ کو عوام کے روبرو پیش کیا تھا جس کے بعد قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری سے نمائندگی کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT