Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ڈاکٹر جلیس انصاری حیدرآباد بم دھماکوں کے مقدمہ میںبری

ڈاکٹر جلیس انصاری حیدرآباد بم دھماکوں کے مقدمہ میںبری

بابری مسجد کی شہادت کے انتقام کیلئے دھماکوں کے الزامات ثابت کرنے میں استغاثہ ناکام
حیدرآباد۔ 14 ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو پولیٹن سیشن کورٹ نے آج بانی تنظیم اصلاحُ المسلمین ڈاکٹر جلیس انصاری عرف ڈاکٹر بم کو سال 1993ء میں پیش آئے سلسلہ وار بم دھماکہ کیس میں بری کردیا۔ 56 سالہ جلیس انصاری جو بی یو ایم ایس ڈاکٹر ہیں، نے اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے بابری مسجد کی شہادت کی انتقامی کارروائی کے طور پر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر بم دھماکے کئے تھے۔ انصاری کو سال 1994ء میں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا اور تحقیقات میں یہ پتہ چلا کہ بابری مسجد کی شہادت کی انتقامی کارروائی کے طور پر اس نے تنظیم اصلاحُ المسلمین قائم کی جس کے ذریعہ گلبرگہ (کرناٹک)، جئے پور (راجستھان) اور حیدرآباد میں بم دھماکے کئے تھے۔ 12 اگست 1993ء میں تنظیم اصلاحُ المسلمین کے ارکان نے ہمایوں نگر اور عابڈس پولیس اسٹیشنس کے احاطوں میں بم دھماکے کئے تھے اور اس نے پولیس اسٹیشن سے متصل دیوار منہدم ہوگئی تھی اور اس واقعہ میں دوکان کا واچ مین زخمی ہوگیا تھا۔ اسی طرح 12 ستمبر 1993ء میں مذکورہ تنظیم کے ارکان نے سکندرآباد سنٹرل ریلوے ریزرویشن کاؤنٹر کے قریب ایک بم دھماکہ کیا تھا جس میں ریلوے کے دو ملازمین ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔ تنظیم کے ارکان نے 22 اکٹوبر 1993ء مدینہ ایجوکیشن سنٹر نامپلی جو پولیس اسٹیشن حدود میں واقع ہے، کے قریب ایک بم دھماکہ کیا تھا، جس میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ حیدرآباد سٹی پولیس کی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے (ایس آئی ٹی) نے ڈاکٹر جلیس انصاری کے ساتھیوں شمس الدین، ظہیرالدین احمد، عظیم الدین، نظیر الدین ، محمد یوسف اور محمد انصاری متوطن کرناٹک اور غوث محمد پاشاہ اور عزیز الدین احمد ساکن حیدرآباد کو گرفتار کیا تھا لیکن 22 جون 2007ء کو یہاں کی ایک مقامی عدالت نے انہیں بری کردیا۔ ڈاکٹر جلیس انصاری طویل عرصہ سے راجستھان کے ضلع اجمیر جیل میں محروس ہے، کیونکہ اسے جئے پور سٹی میں بم دھماکہ کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ممبئی سلسلہ وار بم دھماکے میں ملوث ہونے پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ 19 سال کے طویل عرصہ بعد اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے جاریہ سال ڈاکٹر جلیس انصاری کو حیدرآباد منتقل کرتے ہوئے اس کے خلاف ایک مقدمہ چلایا تھا لیکن استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ نامپلی کریمنل کورٹ کے سینئر وکیل محمد مظفراللہ خان شفاعت ایڈوکیٹ نے کامیاب طور پر ڈاکٹر جلیس انصاری اور ان کے ساتھیوں کی پیروی کی جس کے سبب ملزمین کیس میں بے قصور ثابت ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT