Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / ڈاکٹر ذاکر نائیک کی سرگرمیوں کے بارے میں ہندوستان سے تفصیلات کی طلبی

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی سرگرمیوں کے بارے میں ہندوستان سے تفصیلات کی طلبی

مبلغ اسلام کی بعض تشریحات اور تاویلات قابل گرفت، بنگلہ دیش کے وزیر اطلاعات حسن الحق کا بیان
نئی دہلی۔/19اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش نے آج اسلامی مبلغ ڈاکٹرذاکر نائیک کی سرگرمیوں کے بارے میں ہندوستان سے تفصیلات طلب کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ ماہ ڈھاکہ ( گلشن ) میں ہلاکت خیز حملہ سے قبل ہی ممتاز علماء کرام نے ان کے خلاف کارروائی پر زور دیا تھا۔ بنگلہ دیش کے وزیر اطلاعات حسن الحق نے جو کہ ہندوستان کے 6روزہ دورہ پر ہیں کہا ہے کہ ان کے ملک میں پیس ٹی وی پر پابندی عائد کرتے ہوئے ذاکر نائیک کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے اور یہ اشارہ دیا کہ متنازعہ اسکالر کے خلاف ہندوستا ن کی کارروائی کے منتظر ہیں۔ مسٹر حسن الحق نے کہا کہ ان کے ملک کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کے عسکریت پسندوں اور ہندوستانی شدت پسند تنظیموں کے درمیان تعلقات پائے جاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے دہشت گردوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں دانشوروں، بلاگرس اور صوفیوں پر حملوں کے43 واقعات پیش آئے ہیں اور 90فیصد واقعات میں یہ دیکھا گیا کہ حملہ آوروں کا تعلق ممنوعہ جماعت اسلامی سے ہے جس نے 1971 کی جنگ آزادی کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ ساز باز کرلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک بنگلہ دیش کا تعلق ہے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا معاملہ سلجھادیا ہے ہم نے گذشتہ سال سے پیس ٹی وی کی نشریات پر پابندی عائد کردی ہیں اور علماء کرام بھی ذاکر نائیک کے خلاف تحریری شکایت درج کروارہے ہیں جس کا جائزہ لیا جارہا ہے

اور ہمارا یہ خیال ہے کہ بعض معاملات میں ذاکر نائیک کی تعلیمات قرآن اور حدیث کے مطابق نہیں ہیں جوکہ اُلجھن پیدا کررہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ بعض معاملات میں ان کی تقاریر اشتعال انگیز ہوتی ہیں۔ لہذا ہم نے سخت گیر موقف اختیار کیا ہے اور اب ہندوستان سے کہا گیا ہے کہ اپنا موقف واضح کرتے ہوئے ضروری اطلاعات فراہم کریں۔ ان اطلاعات پر بنگلہ دیش میں آئی ایس آئی ایس( داعش ) مضبوط و مستحکم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک میں دہشت گردی کا نیٹ ورک صرف مقامی سطح کا ہے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش نے علاقہ گلشن تھانہ میں یکم جولائی کو ہولی آرٹیشن بیکری پر حملہ کے بعد پیس ٹی وی پر تحدیدات عائد کردی تھی جس میں29 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں عسکریت پسندی، پاکستان اور افغانستان، مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد نٹ ورک سے بالکلیہ مختلف ہے کیونکہ ان کے ملک نے سیکولرازم کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن یہ لعنت 1971 کی جنگ آزادی کے دوران ملک میں داخل ہوئی ہے کیونکہ اسوقت جماعت اسلامی نے مذہب کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی فورس سے ملی بھگت کرلی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں دہشت گردی کی جڑیں، جماعت اسلامی اور پاکستان کے خفیہ ادارہ آئی ایس آئی میں پیوست ہیں۔

TOPPOPULARRECENT