Friday , August 18 2017
Home / ادبی ڈائری / ڈاکٹر علی احمد جلیلی کی خدمات پر سمینار و بین الریاستی مشاعرہ

ڈاکٹر علی احمد جلیلی کی خدمات پر سمینار و بین الریاستی مشاعرہ

حلیم بابر
30 اپریل کی شام تمام شعراء ، ادبا و محبان اردو کیلئے بڑی خوشگوار و دلنواز اہمیت کی حامل تھی چونکہ اسی شام اسی اردو گھر میں ملک کے نامور استاد ادیب، شاعر، محقق ڈاکٹر علی احمد جلیلی فرزند استاد شہ حضرت فصاحت جنگ جلیل مانکپوری کی یاد میں ایک عظیم الشان سمینار و بین الریاستی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ ویسے صبح ہی سے گرمی اپنے عروج پر تھی مگر پرستاران علی جلیلی جن میں شعراء، ادباء و خانوادے جلیل سے وابستہ خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد شام 4 بجے سے اردو گھر میں داخل ہونے لگی۔ یہ تو فقط حضرت علی جلیلی سے بے پناہ عقیدت و احترام کی بات تھی۔ اردو گھر کا کشادہ ہال خوشنما انداز میں سجایا گیا تھا۔
جب اردو گھر خواتین و حضرات سے پُر ہوگیا تب سمینار کے کنوینر و صدر عابد علی خاں میموریل اکیڈیمی نے رفقاء کی رضامندی سے جلسہ کے آغاز کا اعلان کیا اور باوقار و نادر شاعر مولانا جناب نادرالمسدوسی صدر بزم علم و ادب سے خواہش کی کہ وہ اس ادبی اجلاس کی نظامت کریں۔ پروگرام کے مطابق ناظم اجلاس نے قرأت کلام پاک کیلئے ممتاز شاعر زاہد ہریانوی سے خواہش کی۔ قرأت کے بعد حمد و باری تعالیٰ کیلئے شاعر جناب مخدوم جمالی سے خواہش کی گئی۔ نہایت ہی دلنشین ترنم کے ساتھ جناب مخدوم جمالی نے حمد پیش کی۔ اس کے بعد عالمی شہرت یافتہ قاری انیس احمد قادری سے نعت شریف سنانے کی خواہش کی گئی جس کو موصوف نے بڑے ادب و احترام کے ساتھ پیش کیا۔ اس کے بعد باقاعدہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے ناظم جلسہ نے ڈاکٹر عقیل ہاشمی سے صدارت سنبھالنے کی خواہش کی۔ ناظم نے دیگر مہمانان خصوصی مسرز ڈاکٹر مجید بیدار، ڈاکٹر م ق سلیم، ڈاکٹر فاطمہ پروین، ڈاکٹر فضل اللہ مکرم، ڈاکٹر مسعود جعفری، ڈاکٹر عابد معز اور رشید جلیل کو ڈائس پر تشریف آوری کی دعوت دی۔ سمینار کا آغاز ڈاکٹر عقیل ہاشمی کے کلیدی خطبہ سے ہوا جو نہایت ہی جامع و پرمغز تھا اور جس میں حضرت علی احمد جلیلی کے علمی، ادبی و شعری زندگی کا احاطہ شامل تھا۔ اس کے بعد کنوینر سمینار و صدر عابد علی خاں میموریل اکیڈیمی نے افتتاحی و خیرمقدمی تقریر میں سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے منظوم نذرانہ عقیدت کیلئے ممتاز شعراء رشید جلیلی، مسرز نورآفاقی، ڈاکٹر مسعود جعفری و یوسف روش سے خواہش کی۔

ان ممتاز شعراء نے اپنے منظوم کلام کے ذریعہ حضرت علی احمد جلیلی کو زبردست خراج عقیدت سے نوازا۔ بعدازاں ناظم اجلاس یکے بعد دیگرے تمام مہمانان خصوصی کو مدعو کرتے رہے۔ ان تمام احباب نے ڈاکٹر علی احمد جلیلی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مجموعی طور پر یوں تاثر دیا کہ ’’ڈاکٹر علی احمد جلیلی کا شمار ملک کے نامور استاد شعراء میں ہوتا تھا۔ وہ نہ صرف ایک بلند شاعر تھے بلکہ ایک اچھے ادیب اور محقق کی حیثیت سے اردو دنیا میں کافی شہرت حاصل کی۔ انہوں نے شاعری کے چمن کو اپنے خون جگر سے سینچا۔ اردو کو دل و جان سے چاہا، پالا پوسا اور اس کی نگہداشت کو اپنا فرض سمجھا۔ وہ ایک جلیل القدر شاعر استاد شہ حضرت فصاحت جنگ جلیل مانکپوری کے صاحبزادے تھے۔ حضرت جلیل مانکپوری کا شمار نظام دورحکومت کے اعلیٰ شعراء میں ہوتا تھا، جن کے آگے شاعری ادب و احترام سے سجدہ ریز ہوجاتی۔ ڈاکٹر علی احمد جلیلی کو چونکہ شاعری ورثہ میں ملی تھی۔ اس لئے وہ اپنے ورثہ میں ملی شعری صلاحیتوں کو خوب نکھارا اور دنیا شعر و ادب میں ایک روشن ستارہ بن گئے۔ دوران حیات 2002ء میں حضرت جلیلی کا ایک شاندار جشن محبوب نگر میں منایا گیا اور پھر بعد انتقال ان کے قریبی شاگردوں نے 30 اپریل کو اردو گھر میں ان کی یاد میں اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک عظیم الشان سمینار و بین الریاستی مشاعرہ منعقد کیا جس کے یادگار نقوش مدتوں باقی رہیں گے۔ اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے محب اردو و فعال آفیسر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور مہمان خصوصی و ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی تلنگانہ سے خواہش کی کہ وہ حضرت جلیلی کی شخصیت و فن پر شائع کردہ دلکش و پرمغز سوینر ’’آئینہ شخصیت‘‘ کا رسم اجراء انجام دیں۔ رسم اجراء تقریب کے بعد پروفیسر ایس اے شکور نے اپنی تقریر میں ڈاکٹر علی احمد جلیلی کی علمی، ادبی و شعری خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں ایک عظیم شاعر و ادیب محقق قرا ردیا۔ موصوف نے جناب حلیم بابر صدر اکیڈیمی و ان کے رفقاء کو مبارکباد دی کہ ان کوششوں سے ایک بیش بہا سوینر شائع کیا گیا جن میں قلمکاروں کے مضامین ڈاکٹر علی احمد جلیلی کا مکمل احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں جناب حلیم بابر کے نام معزز شخصیتوں کے پیامات بھی شامل ہیں۔ جن میں قابل ذکر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین سابق ڈائرکٹر قومی کونسل برائے اردو زبان، زاہد علی خاں چیف ایڈیٹر سیاست، پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی، ڈاکٹر حسن الدین احمد، ڈاکٹر سعید جاوید، مضطر مجاز ماہر اقبالیات، ڈاکٹر حمیرہ جلیلی کے علاوہ ڈاکٹر مسعود جعفری، حلیم بابر، نورآفاقی کے منظوم نذرانہ عقیدت شامل ہیں۔ بعدازاں موصوف نے ممتاز شعراء رشید جلیلی و نورآفاقی کو ان کی ادبی خدمات میں مومنٹو و شال پوشی کی جبکہ جناب حلیم بابر صدر اکیڈیمی نے پروفیسر ایس اے شکور کی بیش بہا اردو خدمات و اردو دوستی پر شال پوشی کی۔ فرزند علی جلیلی جناب ظہیراحمد جلیلی کو بھی بطور احترام عقیدت تہنیت پیش کی گئی۔ اس تقریب کو ای ٹی وی نے بھی کوریج کرتے ہوئے اردو دوستی کا ثبوت پیش کیا۔ اس کے فوری بعد ناظم جلسہ نادرالمسدوسی نے ادبی اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔

سمینار کے دوسرے دور میں بین الریاستی مشاعرہ کے آغاز کیلئے ڈاکٹر سلیم عابدی سے خواہش کی گئی کہ وہ حسب پروگرام مشاعرہ کی نظامت کریں۔ ڈاکٹر سلیم عابدی جو ایک حادثہ سے دوچار ہوکر زخمی ہوئے تھے، اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ میں اپنے شدید پیر کے درد میں مبتلاء ہونے کے باوجود اس عظیم الشان سمینار و مشاعرہ میں شرکت کیلئے حاضر ہوا ہوں اور یہ صرف میرے استاد علی جلیلی صاحب کی عقیدت و احترام کا سبب ہے۔ اس کے بعد ناظم مشاعرہ جناب رشید جلیلی سے خواہش کی کہ وہ صدارت قبول فرمائیں۔ اس طرح مشاعرہ کا آغاز ہوا۔ اس مشاعرہ میں نمائندہ شعرائے کرام نے شرکت کی جن میں قابل ذکر مسرز سید علی عادل، مخدوم جمالی، تشکیل رزاقی، معین افروز، قاری انیس احمد انیس، خان اطہر، زعیم دومرہ، ظفر فاروقی، ڈاکٹر فریدالدین صادق، نورالدین امیر، فرید سحر، آستھانہ سحر، نادرالمسدوسی، تسنیم جوہر، سلیم عابدی، اثرغوری، ڈاکٹر راہی، سلطان شطاری، ڈاکٹر فاروقی شکیل، یوسف روش، سردار سلیم، ڈاکٹر مسعود جعفری، ڈاکٹر عقیل ہاشمی، ڈاکٹر مجید بیدار، حیدرآباد و اضلاعی شعراء مسرز ذاکن حضرمی، رشید رہبر، حلیم بابر، نورآفاقی، ڈاکٹر افتخار شکیل رائچور کرناٹک، زاہد ہریانوی (ہریانہ)، سید ریاض تنہا نظام آباد، حفیظ انجم کریم نگر، اظہر کورٹلوی (کورٹلہ) نے اپنا مرصع کلام پیش کیا۔ مشاعرہ طویل مسافت طئے کرتے ہوئے دلنوازی و کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ اس سمینار کی ابتداء سے انتہاء تک آرگنائزنگ سکریٹری جواں سال ادیب و شاعر ڈاکٹر عزیز سہیل کی شب و روز محنتوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اختتام مشاعرہ کے بعد شعراء کا قافلہ مسدوسی ہاؤز مغلپورہ پہنچا، جہاں پر شعرائے کرام کے طعام کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس طرح یہ طویل ادبی سفر جو 4 بجے دن سے رات ایک بجے تک جاری رہا۔ جناب نادرالمسدوسی نے جلسہ کی نظامت اور ڈاکٹر سلیم عابدی نے مشاعرہ کی نظامت خوش اسلوبی سے انجام دیئے جبکہ دیگر انتظامات ڈاکٹر عزیز سہیل کی نگرانی میں بڑی دلنوازی سے انجام پائے۔

TOPPOPULARRECENT