Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کیلئے کنٹراکٹرس کی عدم دلچسپی

ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کیلئے کنٹراکٹرس کی عدم دلچسپی

حکومت کے تخمینہ رقم پر بلڈرس خاموش، پراجکٹ تعطل کا شکار
حیدرآباد۔20نومبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے شہری علاقوں کو سلم سے پاک بنانے کے منصوبے کے تحت شروع کردہ ڈبل بیڈروم فلیٹس کی تعمیر کے لئے ’اے‘ کلاس کنٹراکٹرس بولی لگانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں جس کے سبب دونوں شہروں کے مختلف علاقوں میں منظورہ ان اپارٹمنٹس کے تعمیراتی کاموں کا آغازنہیں ہو پا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں بڑے تعمیراتی کاموں کیلئے بولی لگنے والے بلڈرز ان کاموں میں دلچسپی نہ دکھانے کی اہم وجہ حکومت کی جانب سے متعین کردہ رقومات ہیں جس کی وجہ سے وہ آگے نہیں آرہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی حدود میں جن مقامات پر دو بیڈ روم فلیٹس کی منظوری عمل میں لائی گئی ہے ان میں سید صاحب کا باڑہ (48) بندلہ گوڑہ(176) ناچارم(432) اور سنگھم چیروو(176) شامل ہیں ان فلیٹس کی تعمیر میں بڑے گتہ داروں کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے جی ایچ ایم سی نے کنٹراکٹ کے شرائط میں ترمیم کردی ہے اور ان کاموں کیلئے چھوٹے کنٹراکٹرس کو بھی بولی لگانے کا اہل قرار دیئے جانے کے بعد حالات تبدیل ہونے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن مستقبل قریب میں حالات میں کوئی خوشگوار تبدیلی کے امکان بھی نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ حکومت نے 230روپئے تھیلہ سمنٹ کی قیمت متعین کی ہے جو کہ بازار کی قیمت سے بھی کافی کم ہے اور اسی طرح دیگر امور میں بھی جو قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے وہ ناقابل یقین حد تک کم تصور کیا جا رہا ہے۔ریاستی حکومت کے منصوبہ کے مطابق بلدی حدودمیں 4986فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ ہے لیکن منظورہ مقامات پر ہی تعمیراتی کاموں کا عدم آغاز عہدیداروں کیلئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔جی ایچ ایم سی نے 9اسمبلی حلقہ جات میں 15مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن اس کے باوجود تاحال صرف 944فلیٹس کی تعمیر کے منصوبہ کو قطعیت دی جا سکی ہے جس کی بنیادی وجہ ان تعمیراتی کاموں سے کنٹراکٹرس کی عدم دلچسپی تصور کی جا رہی ہے۔جی ایچ ایم سی نے آئی ڈی ایچ کالونی میں 396ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر اور حوالگی کے کامیاب تجربہ کے بعد اس منصوبہ کو مرکزی حکومت کی آواس یوجنا کے تحت مالی اعانت حاصل کرتے ہوئے وسعت دینے کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن قیمتوں میں آرہی تبدیلی اور تعمیری اشیاء کی قیمتوں کا تعین پراجکٹ کو تعطل کا شکار بنا رہا ہے اور ان حالات میں فوری تعمیری کاموں کے آغاز کی کوئی توقع بھی نہیں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT