Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / ڈرائیور سلیم نے 50 امرناتھ یاتریوں کی جان بچائی

ڈرائیور سلیم نے 50 امرناتھ یاتریوں کی جان بچائی

گجرات کے متوطن کی شجاعت پر چیف منسٹر وجئے روپانی کو بھی خوشی ، بہادری ایوارڈ کیلئے نامزد کرنیکا ارادہ
نئی دہلی ، 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے سلیم شیخ کی غیرمعمولی شجاعت اور سرعت سے مداخلت نہ ہوئی ہوتی تو شاید جموں و کشمیر میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر دوشنبہ کو پیش آئے دہشت گردانہ حملے میں سات سے کہیں بڑھ کر ہلاکتیں ہوجاتیں۔ گزشتہ رات 8:30 بجے کے کچھ دیر بعد جیسے ہی اُس نے بس کی طرف گولیاں چلنے کی آوازیں سنی ، ڈرائیور سلیم نے دفعتاً فیصلہ کیا کہ سب سے محفوظ اور دانشمندی کی بات یہی ہے کہ ڈرائیونگ جاری رکھی جائے اور مزید کوئی گولیاں بس میں گھسنے کا موقع نہ دیا جائے۔بس میں گاڑی کے مالک ہرش دیسائی بھی سوار تھے اور وہ ڈرائیور سلیم کے بازو والی نشست پر بیٹھے تھے اور جیسے ہی حملہ ہوا سلیم نے فائرنگ سے بچنے کیلئے اپنا سر جھکایا جس کے نتیجہ میں دیسائی کو تین گولیاں لگیں ۔ اگرچہ وہ مہلک ثابت نہ ہوئیں لیکن دیسائی بس میں نیچے گرگئے ۔ یہ سلیم کیلئے بلاشبہ بہت نازک وقت رہا اور انھوں نے اپنے اوسان پر قابو رکھتے ہوئے بس کو سنبھالے رکھا ۔ سلیم نے آج ’اے این آئی‘ سے بات چیت میں کہا: ’’اللہ نے مجھے ہمت بخشی کہ میں گاڑی چلاتا رہا، اور اس دوران میں نے گاڑی کو ہرگز نہیں روکا۔ ‘‘ جنوبی گجرات کے ولساڈ ٹاؤن کے اوم ٹراویلس سے تعلق رکھنے والی بس (GJ09Z9976) کے ڈرائیور سلیم 50 یاتریوں کو لے جارہے تھے اور جب حملہ ہوا تو انھوں نے گھبراہٹ میں ڈرائیونگ چھوڑدینے کے بجائے مسافرین کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش میں گاڑی کو چالو رکھا اور تقریباً 2 کیلومیٹر آگے بڑھنے کے بعد ایک ملٹری کیمپ پہونچ کر اپنی گاڑی روکی ۔ چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی نے گزشتہ روز ہی سلیم کے رول کو تسلیم کیا اور کہا کہ وہ اسے بہادری کے ایوارڈ کیلئے نامزد کریں گے۔چیف منسٹر نے دیسائی اور سلیم سے کچھ دیر بات بھی کی اور انھیں دلاسہ دیا ۔ اس دوران حکومت جموں و کشمیر نے سلیم شیخ کے لئے اُن کی غیرمعمولی شجاعت کو دیکھتے ہوئے تین لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا ۔ امرناتھ شرائن بورڈ نے بھی دو لاکھ روپئے کے ایوارڈ کا اعلان کیا ہے ۔ سلیم کے کزن جاوید مرزا (ولساڈ ، گجرات کے متوطن) نے کہا کہ سلیم نے انھیں بتایا کہ جب دہشت گردوں نے فائرنگ کی تب وہ رُکا نہیں اور یاتریوں کیلئے محفوظ تر مقام کی تلاش میں آگے بڑھتے رہے۔ جاوید نے کہا کہ اسے اپنے کزن پر فخر ہے۔ جاوید نے مزید کہا کہ سلیم سات زندگیوں کو نہیں بچا سکا، لیکن 50 لوگوں کو محفوظ جگہ تک پہنچانے میں کامیاب ہوا۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ وہ بس میں تقریباً 60 مسافرین سفر کررہے تھے۔ سلیم نے اس حملہ کے تعلق سے اپنے کزن کو کل شب 9:30 بجے کے قریب فون کے ذریعہ اطلاع دی۔ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں بٹنگو کے قریب بس پر کل رات دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں سات امرناتھ یاتری ہلاک اور 14 دیگر زخمی ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT