Tuesday , October 17 2017
Home / اداریہ / ڈرگس مافیا اور اسکولی طلبا

ڈرگس مافیا اور اسکولی طلبا

میرا کرنوں میں نہ کیجے اب شمار
روشنی کی آخری منزل میں ہوں
ڈرگس مافیا اور اسکولی طلبا
سماج میں ڈرگس کی لعنت سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جو زندگی کے ہر وقت میں درپیش رہا ہے ۔ کبھی کسی حد تک کم رہا ہے تو کبھی اس میں زبردست اضافہ بھی ہوا ہے ۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے حیدرآباد میں ڈرگس مافیا نے اپنی جڑیںکافی پھیلا لی ہیں اور یہاں منشیات کی تجارت زوروں پر چلتی رہی ہے ۔ فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیتیں اس لعنت کا شکار رہی ہیں اور کچھ واقعات میں فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد اس سلسلہ میں گرفتار بھی کئے گئے ہیں۔ جب کبھی اس طرح کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے اس وقت پولیس اور متعلقہ اتھارٹیز کی جانب سے کچھ کارروائی کی جاتی ہے اور پھر معاملہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ۔ کبھی بھی اس مسئلہ کی جڑوں تک پہونچنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ صرف جو افراد اس کو خریدتے یا فروخت کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں ان کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا گیا اور پھر معاملہ ختم ہوگیا ۔ اگر اس طرح کے سنگین اورحساس نوعیت کے مسئلہ پر پہلے سے کوئی جامع حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے کارروائی کی جاتی تو پھر مسئلہ آج اس قدر سنگین صورتحال اختیار نہیں کرتا جتنی اب کر گیا ہے ۔ سب سے زیادہ فکرمندی کا پہلو یہ ہے کہ اس لعنت کا شکار اسکولی اور کالجس کے طلبا کو بنادیا گیا ہے جن سے ملک کا مستقبل وابستہ ہے ۔ جو طلبا تعلیم کے مرحلہ میں ہی اس طرح کی لعنتوں کا شکار ہوجائیں وہ ملک کا مستقبل نہیں بن سکتے ۔ نہ صرف ان طلبا کا اور ان کے خاندانوں کا مستقبل اس لعنت کی وجہ سے داؤ پر لگ گیا ہے ۔ نوجوان اور بڑھتی ہوئی نسل کو اس لعنت کا شکار کرتے ہوئے کھوکھلا کیا جا رہا ہے ۔ اس لعنت کے خلاف صرف حکومت یا پھر نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے ذریعہ کارروائی کافی نہیں ہوسکتی ۔ اس کیلئے سماجی سطح پر بیداری کی اشد ضرورت ہے ۔ اس کے خلاف جب تک ایک باضابطہ مہم نہیں چلائی جاتی اور اس لعنت کے خاتمہ کیلئے مکمل تہئییہ نہیں کرلیا جاتا اس وقت تک اس کے خاتمہ کی امید نہیں کی جاسکتی ۔یہ ایسی لعنت ہے جس کے تعلق سے ہر فکرمند شہری کو توجہ دینے کی اور اس کے خاتمہ میں اپنا رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ہر کسی کی ذمہ داری ہے ۔ کسی ایک گوشہ کو اس کیلئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہم بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔
اس لعنت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ والدین اپنے بچوں سے لا پرواہ اور بے فکر ہوگئے ہیں۔ اچھے اور اعلی معیادی اسکولس کو روانہ کرتے ہوئے والدین بھی اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں بچوں کی نقل و حرکت اور ان کی حرکات و سکنات پر اور ان کی عادات پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ جب تک والدین اپنے بچوں کی پل پل کی خبر لینے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے انہیں اس طرح کی لعنتوں کا شکار ہونے سے بچایا نہیں جاسکتا ۔ جو ڈرگس مافیا ہے وہ تو سماج کی جڑوں کو کھوکھلی کرنے پر تلا ہوا ہے اور اس کے سامنے صرف ناجائز اور غیر قانونی طریقہ سے دولت حاصل کرنے کا ہی نشانہ ہوتا ہے اور وہ اسکولی اور کالجس کے طلبا کو اس کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو رہا ہے ۔ اگر اسی سلسلہ کو جاری رہنے کی اجازت دی گئی تو پھر ان طلبا اور بچوں کا مستقبل تاریک ہی ہوتا چلا جائیگا اور صورتحال اس حد تک پہونچ جائے گی جہاں سے پھر سدھار تقریبا نا ممکن ہوجائیگا ۔ اگر نوجوان اور ابھرتی ہوئی نسل اس کا شکار ہوتی چلی گئی تو پھر اسے اس سے بچانا مشکل ہوگا ۔ اس سے نہ صرف یہ کہ ایک بچہ یا ایک گھر بلکہ سارا سماج متاثر ہوکر رہ جائیگا ۔ یہ صورتحال سارے ملک کیلئے پریشان کن ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے ملک کے مستقبل کے تعلق سے فکر رکھنے والوں کو آگے آنے کی اور اس سماجی اور قومی لعنت کے خلاف سرگرم ہونے کی اور اس کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔
حیدرآباد میں خاص طور پر یہ لعنت شدت اختیار کرگئی ہے ۔ اس کاروبار میں ایک خاصی تعداد بیرونی افراد کی ہے جو حصول تعلیم یا دیگر اغراض ظاہر کرتے ہوئے یہاں آکر مقیم ہوئے ہیں یا پھر دوسرے شہروں سے اس کی جڑیں پیوستہ ہیں۔ آج صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لعنت سماج کی گہرائیوں تک سرائیت کر گئی ہے اور اس کے خاتمہ کیلئے ایسی جدوجہد کی ضرورت ہے جو ایک جامع حکمت عملی پر مبنی ہو اور ایک ایکشن پلان تیار کرتے ہوئے اس کیلئے سماج کے تمام گوشوں کی مدد حاصل کی جائے ۔ غیر سرکاری تنظیموں اور خاص طور پر بچوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو اس کا حصہ بنایا جائے ۔ پولیس اور نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیوں کو بھی پوری مستعدی اور چوکسی کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے کمر کس لینے کی ضرورت ہے اور جب تک سبھی گوشوں کو اس کا حصہ بناتے ہوئے کارروائی کا آغاز نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس لعنت کے خاتمہ کی امید نہیں کی جاسکتی اور جب تک یہ لعنت برقرار رہے گی ملک کا مستقبل داؤ پر لگا رہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT