Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / ڈرگس کلچر ، سماجی لعنت

ڈرگس کلچر ، سماجی لعنت

An injecting drug user injects himself with Fortwin on a roadside in Siliguri June 26, 2007. The United Nations observes International Day against Drug Abuse and Illicit Trafficking on Tuesday. REUTERS/Rupak De Chowdhuri (INDIA) TEMPLATE OUT - RTR1R5J7

 

شیخ احمد ضیاءؔ
ریاست تلنگانہ کے محکمۂ نار کوٹکس کے ذمہ دار عہدیداران کے ڈرگس کلچر کے عام ہونے کے انکشافات نے حساس شہریوں کو دہلاکر رکھ دیا ہے ۔ تعلیمی اداروں تک اس لعنت کی پہنچ اور نامور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا اس لعنت میں مبتلا ہونا ہم تمام کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے اور اگر بروقت اس کلچر کے خاتمہ کیلئے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر سعی نہ کی جائے تب یہ کہنا مشکل ہوگا کہ نوجوان نسل جس پر نہ صرف ہماری ریاست بلکہ ملک کی ترقی کا دارومدار ہے، تباہ ہونے سے بچ سکے گی یا نہیں۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں صرف طلباء و طالبات کا داخلہ ہی باعث فخر سمجھا جارہا تھا ، اس ڈرگس کلچر کا شکار ہوچکے ہیں اور اولیاء طلباء جو اپنی اولاد کا ذکر ان تعلیمی اداروں کے حوالہ سے بڑی شان سے کیا کرتے تھے، پریشان ہیں کہ اس بیماری سے ان کی ان نامور اولادوںکوکیسے چھٹکارا دلایا جائے ۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ آخر اس تباہی کے ذمہ دار کون ہیں؟ وہ جو ڈرگس سپلائی کررہے ہیں یا وہ لوگ جو اپنی اولاد کو من مانی پاکٹ منی اور کھلی چھوٹ دے کر گھر بیٹھے ہوئے ہیں یا پھر وہ ذمہ داران تعلیمی ادارہ جات جو صرف من مانی فیس کی وصولی اور سینکڑوں طلباء و طالبات سے صرف چند کی کامیابی کی تشہیر کے ذریعہ بھولے بھالے اولیان طلباء کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ یہ ہمارے سماج کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے اور سماج کا ہر ذمہ دار شخص تذبذب کا شکار ہے کہ اب کیا کیا جائے ؟ اور کیسے اس بیماری پر قابو پایا جائے ۔ ریاست کے مختلف مقامات سے خصوصاً شہر حیدرآباد و مضافات کے تعلیمی اداروں کے آس پاس ڈرگ مافیا کی سرگرمیاں ایک سوچا سمجھا منصوبہ دکھائی دے رہا ہے تاکہ نوجوان نسل جو ترقی کی راہ پر گامزن ہوکر اپنے مستقبل کا تعین کرنے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہے ، اسے آگے بڑھنے سے روکا جائے اور ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جائے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ یہ کلچر جو ابتداء میں صرف فائیو اسٹار ہوٹلوں ، پبس وغیرہ تک محدود تھا ۔ کس طرح تعلیمی اداروں کی چار دیواریوں میں جہاں اولیان طلباء کا داخلہ بھی آسانی سے ممکن نہیں کس طرح پہنچ گیا۔ کیا ان تعلیمی اداروں کے نام نہاد ٹھیکیدار خواب خرگوش میں تھے جو اس کلچر کو اپنے اداروں کے نو نہالوں تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرسکے۔ فیس کے نام پر اولیان طلباء سے لاکھوں روپئے بٹورکر طلباء و طالبات کی منفی سرگرمیوں پر کیوں نظر رکھی نہ گئی ، یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ اولیان طلباء کیلئے بھی یہ ایک لمحہ فکر ہے کہ کس طرح ان کے بچے اس قیمتی شوق کو پورا کر رہے ہیں۔ ان کے پاس اتنی رقم کہاں سے آرہی ہے کہ وہ روزانہ اس شوق کی تکمیل کیلئے ہزاروں روپیہ خرچ کر رہے ہیں۔ اولیان طلباء کا اپنی اولادوں کو نامور اداروں میں داخلہ دلوانا اور ان کی سرگرمیوں پر نظر نہ رکھنا اور روزانہ جیب خرچ کے نام پر حد سے زیادہ پیسہ دینا یہ سب خرابی کی جڑ ہے ۔ اگر ماں باپ بچوں کے خرچ پر نظر رکھے اور ان کے روزانہ کے معمولات کی نگرانی کرتے تب یہ بیماری اتنی عام نہ ہوتی لیکن تعلیمی اداروں کے انتظامیہ پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا عام بات ہو گئی ہے جس کا انجام آج ہم سب کے سامنے ہے۔ محکمہ نارکوٹکس کے عہدیداران کے انکشافات ہماری تہذیب پر ایک طمانچہ ہیں اور یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ سماج کے اعلیٰ طبقہ میں یہ خرافات عام ہوچکی ہے ۔ ’’پارٹی کلچر‘‘ ’’Rero پارٹیاں‘‘ ’’پب کلچر‘‘ ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا نقطۂ آغاز تھا جس کا انجام ڈرگس کلچر تک پہنچا۔ اگر یہ اعلیٰ طبقہ کے ذمہ دار اپنی نئی نسل کو ابتداء ہی میں کنٹرول کرتے تب ہمیں یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔

پہلے کہاں جاتا تھا کہ تعلیم کی کمی لغویات کو جنم دیتی ہے لیکن اب معاملہ الٹا ہی ہوگیا ہے اور یہ شیطانی کلچر تعلیم گاہوں اور دولت مند طبقہ کی دہلیزوں تک پہنچ گیا ہے ۔ نہ عورتوں کی عصمت کا خیال ہے اور نہ نوجوانوں کے کردار و صحت کا ۔ کوئی بھی نوجوان لڑکا یا لڑکی جب ڈرگس کے استعمال کا عادی ہو جاتا ہے تب ان کی حالت کچھ ایسی مجنونانہ ہوجاتی ہے کہ ڈرگ کے وقت پرنہ م لنے سے نہ صرف وہ خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے بلکہ لڑکیاں اور خواتین ایک چسکی کیلئے اپنی لاقیمت عصمت کا دامن بھی تار تار کرنے کیلئے تیار ہوجاتی ہیں۔ ڈرگس کے استعمال کی لعنت کے خاتمہ کیلئے کئی سال قبل De-addiction centre قائم کئے گئے تھے لیکن ان مراکز کی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب سماج کے ہر طبقہ میں اس لعنت کی تباہی کے بارے میں شعور بیدار ہو اور سماج کا ہر فرد اس لت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی سعی کرے ۔ مغربی تہذیب سے بہت زیادہ متاثر ہوکر ہمارا معاشرہ دن بہ دن تباہ ہورہا ہے ۔ تعلیم کے نام پر مغربی فیشن اور بد تہذیبی عام ہورہی ہے ۔ A+ کلچر کے نام پر تمام برائیاں ایک مقام پر جمع ہورہی ہیں۔ کچھ دنوں قبل ممبئی کے ایک نوجوان صنعتکار کی سالگرہ تقریب میں کیک کی بجائے کوکین تقسیم کیا گیا ۔ یہ ہمارا کلچر ہوگیا ہے جس پر ہمیں فخر بھی ہے ۔ آیئے اب ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخر یہ ڈرگس کس کس نام سے رائج ہیں اور یہ کیا ہیں۔ – 1 کوکین (Cocaine) ۔ کوکین ایک سفید سفوف ہوتا ہے جس کو ناریل کے پتوں (cocoa Leaves) سے کشید کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک بہت ہی طاقتور ، کیف آور اور قدرتی طور پر حاصل کردہ نشیلا مادہ ہوتا ہے ۔ اس کو کئی دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے جیسے Blow ، Ece ، C ، Candy Coke وغیرہ۔ اس کی قیمت ہزاروں روپئے فی گرام ہوتی ہے ۔ اس کو عموماً ناس کی مانند ناک کے نتھنوں سے کھینچا جاتا ہے ۔ کبھی کبھی اس کو انجکشن کے ذریعہ جسم میں بھی داخل کیا جاتا ہے ۔ کبھی اس کو جلا کر دھنویں کو سانس کے ذریعہ کھینچا جاتا ہے ۔ بعض وقت اس کو راست بھی کھایا جاتا ہے ۔ آج کل کاغذ کے ٹکڑوں کو اس میں بھگوکر سپلائی کیا جارہا ہے جس کو Dangaddict اپنی زبان پر رکھ کر سکون حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے استعمال سے ایک فرحت بخش کیفیت پیدا ہوتی ہے جو کئی گھنٹوں تک قائم رہتی ہے ۔ اس کے اثر سے انسان میں جو فطری ہچکچاہٹ ہوتی ہے وہ دور ہوجاتی ہے اور انسان اپنے آپ کو بہت ہی جری ، جنگجو ، طاقتور اور توانا محسوس کرتا ہے ۔ اس کا عادی دل کا مریض ہوجاتا ہے اور اس کے بہت زیادہ استعمال سے تشنیح اور جس میں لرزہ پیدا ہوجاتا ہے ، طبیعت میں افسردگی ، بد دلی اور Depression کا شکار ہوکر خو دکشی کی جانب مائل ہوجاتا ہے ۔
– 2 Ectasy ۔ اس کا تعلق Pheny lethylamine خاندان کے Drugs سے ہے ۔ یہ ایک کیمیائی مرکب ہے ۔ اس کے دوسرے نام MDMA ، X ، E ، XTC ، Adam وغیرہ ہیں۔ Ecstasy کے لفظی معنی ہیں فرحت بخش۔ اس کی گولیاں دستیاب ہوتی ہیں اور ایک گولی کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے ۔ عموماً اس کی گولیوں کو سنگلا جاتا ہے یا پھرا سکا سفوف بناکر ناک کے نتھنوں سے کھینچا جاتا ہے ۔ اس کے استعمال سے تقریباً 5 تا 6 گھنٹے خمار آلود کیفیت قائم رہتی ہے اور آدمی کافی سکون محسوس کرتا ہے۔ نوجوانوں کی اکثر پارٹیوں میں Ecstasy کا استعمال عام ہے چونکہ اسکے استعمال سے آدمی بہت ہی کھل جاتا ہے اور ہر کسی سے بے باکانہ انداز میں گفتگو کرسکتا ہے ۔ اس کے بہت زیادہ استعمال سے دماغی نظام میں خلل پڑتا ہے اور یادداشت متاثر ہوجاتی ہے اور بار بار Depression کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

– 3 ACID : یہ بھی ایک دماغ پر اثر انداز ہونے والیDrug ہے جس کا کیمیائی نام ہے Lysergic Acid Diethylamide ۔ اس کے دوسرے تجارتی نام LSD ، Blotter ، Cid ، Sugar Cubes وغیرہ ہیں۔ عموماً Blotting paper کے ٹکڑوں کو اس Acid میں بھگوکر سکھایا جاتا ہے ۔ ایک ٹکڑے کی قیمت ہزاروں میں لی جاتی ہے ۔ اس کے عادی اشخاص کاغذ کے ان ٹکڑوں کو زبان پر رکھ لیتے ہیں یا Distilled water میں ڈال کر پی جاتے ہیں۔ اس کا اثر استعمال کے ایک گھنٹے بعد شروع ہوجاتا ہے اور تقریباً 10 گھنٹوں تک قائم رہتا ہے ۔ اس کے استعمال سے آدمی کچھ ایسا جنونی ہوجاتا ہے کہ وہ آوازوں کو دیکھ سکتا ہے اور رنگوں کو سن سکتا ہے ۔
– 4 Speed ۔ یہ بھی ایک نشہ آور کیمیائی مادہ ہے ۔ اس کا تعلق نشہ آور Drugs کے Amphetamine خاندان سے ہے ۔ اس کے دوسرے تجارتی نام Meth ، Crystal ، Crank ، Glass و غیرہ ہیں۔ یہ بہت ہی سستی نشہ آور دوا ہے ۔ عموماً اس کی گولیوں کو نگلا جاتا ہے۔ ان ڈرگس کے علاوہ گانجہ اور بھنگ بھی چاکلیٹس کی شکل میں دستیاب ہورہے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے ہر کس و ناکس ان کا عادی ہوتا جارہا ہے ۔ شہر نظام آباد اور جگتیال و غیرہ میں ان چاکلیٹس کو ضبط کیا گیا ہے۔
اب بھی وقت ہے حکومت کے ذمہ داران ، دانشورانِ قوم ، اولین طلباء و طالبات سخت اقدامات کرتے ہوئے اس لعنت کی روک تھام کیلئے جٹ جائیں ورنہ موجودہ نوجوان نسل کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور اس نسل کے تاریک مستقبل کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT